کراچی لٹریچر فیسٹیول خوشگوار یادیں لئے اختتام پذیر ہوگیا

ویب ڈیسک : 04 مارچ 2019


کراچی : شہر قائد میں تین روز سے جاری ’ کراچی لٹریچر فیسٹیول‘ کا دسواں ایڈیشن گزشتہ شام ساحل کنارے ڈوبتے سورج کے ہمراہ اختتام پذیر ہوگیا، ہمیشہ کی طرح امسال بھی اس فیسٹیول کی عوام نے بھرپور پذیرائی کی۔
آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس کے زیراہتمام یہ کے ایل ایف کا دسواں ایڈیشن تھا ، جو کہ ساحل سمندر پرواقع ایک نجی ہوٹل میں 1 تا 3 مارچ منعقد کیا گیا۔ ان تین دنوں میں شہریوں کی کثیر تعداد علم و ادب سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے فیسٹیول میں شریک ہوئی۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول کا آغاز سنہ 2010 میں کیا گیا تھا اور حالیہ ایونٹ اس کا دسواں ایڈیشن تھا۔ اس موقع پرمتعدد سیشن منعقد کیے گئے ، جن میں مخصوص موضوعات پر مباحثہ، انٹرویوز، بک ریڈنگ اورمختلف کتب کی لانچنگ کے سیشن منعقد ہوئے۔ساتھ ہی ساتھ فوڈ کورٹ، مشاعرے اورمیوزک کنسرٹ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
کتاب دوست شخصیات کے لیے پاکستان کے کئی بڑے پبلشرز نے اسٹال بھی لگائے تھے، تاہم قارئین نے ایک عمومی شکایت کی کہ کتابوں کے ریٹ عام مارکیٹ سے زیادہ ہیں۔ پبلشرز کا کہنا تھا کہ اس کا سبب انتظامیہ کی جانب سے اسٹال کی قیمت زیادہ رکھنا ہے جس کے سبب وہ قارئین کو زیادہ فائدہ نہیں دے پاتے۔
یوں تو اس ایونٹ میں کئی اہم شخصیات کے سیشن تھے لیکن آخری دن معروف مزاح نگار انور مقصود اور صداکار اور آرٹسٹ ضیا محی الدین کے سیشن قارئین کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے، سیشن کے دوران ہالز میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور ادب دوست افراد اپنی پسندیدہ شخصیات کو سنتے رہے۔
ایونٹ میں جہاں ادب سے تعلق رکھنے والی اہم ملکی شخصیات نے شرکت کی تو کئی غیر ملکی ادبی شخصیات بھی ایونٹ کا حصہ رہیں۔مشاعرے میں ملک کے نامور شعرا نے حصہ لیا جن میں افتخار عارف، زہرہ نگاہ، انور شعور، عقیل عباس جعفری، عذرا عباس، عنبرین حسیب عنبر سمیت کئی نامور شعرائے کرام نے عوام کو اپنے کلام سے نوازا۔
ایک کتاب کی لانچنگ کے سیشن میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی پینل کا خصوصی حصہ تھے، جبکہ سابق گورنراسٹیٹ بینک ڈاکٹرشمشاد اختراورڈاکٹرعشرت حسین بھی سامعین کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔
نامورصحافیوں میں اظہرعباس، فہد حسین، وسعت اللہ خان، فاضل جمیلی، غازی صلاح الدین، کاشف رضا اوردیگر بھی اسپیکرز میں شامل رہے۔
پاکستان اور دنیا بھر سے لسانی، ثقافتی اور ادبی موضوعات کو بھی فیسٹول کا حصہ بنایا گیا۔ فیسٹول میں 80 سیشنز ہوئے جبکہ ڈاکیومنٹریزاور مختصر دورانیے کی فلمیں بھی دکھائی گئیں۔
دسویں لٹریچر فیسٹیول میں اردو، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور انگریزی زبان کی 20 کتابوں کی رونمائی کی گئی۔
اختتامی روز معروف ادیب انور مقصود کی ریڈنگز سننے شہریوں کی بڑی تعداد پہنچی۔ ضیا محی الدین نے مشتاق احمد یوسفی کے مزاح سے بھرپور اقتباسات پڑھ کر شرکا کو خوب ہنسایا۔دسویں کراچی لٹریچر فیسٹیول میں درویش بینڈ نے صوفی رنگ بھی جمایا اور تماشہ بینڈ نے بھی پرفارم کیا۔
فیسٹیول کے دوسرے روز 26 سے زائد سیشنز ہوئے جس میں ادب کی خوب بیٹھکیں لگیں فیسٹیول میں ادب کی باتوں کے ساتھ ساتھ تھیٹر کیسا ہو کیسا تھا پر بھی بحث کی گئی ۔
وزیر تعلیم سردارشاہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کہا محکمہ تعلیم اگر تعلیم کی خرابی کی ذمہ دار ہے تو ان سرکاری اسکولوں سے پڑھے طلبا نے بھی بے وفائی کی ہے۔لٹریچرفیسٹیول کے تیسرے روز اردو زبان سے محبت شارٹ فلم ڈرامے عورت کی نگاہ میں ماضی اور مستقبل کے خاکے کے ساتھ مختلف معلوماتی سیشنز شامل تھے۔
شہریوں نے ادبی میلوں کے تواتر سے انعقاد کو سراہا اور مستقبل میں ادب اور ثقافت کی محفلیں باقاعدگی سے سجانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
رواں برس انفاق فاؤنڈیشن اردو لٹریچر پرائزکے لیے تین کتابوں کو منتخب کیا گیا تھا جن میں سمیع آہوجا کی Northern Command، فہمیدہ ریاض کی قلعہِ فراموشی اور صابر ظفر کی تصنیف روح قدیم کی قسم شامل تھیں۔
رواں سال کراچی میں فروری کے اوائل میں ختم ہوجانے والا سرد موسم مارچ تک طوالت اختیار کرگیا ہے، جس کے سبب ساحل کے کنارے ہونے والے اس فیسٹیول میں ادبی فضاء جاندار اورموسم شانداررہا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے