”جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے“ساحر لدھیانوی کی آج 98 ویں سالگرہ ہے

ادبی رپورٹ : جمعہ 08 مارچ 2019
لاہور: پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں آج جو مشہور نظم”جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے“زبان زد خاص و عام ہے۔اس نظم کے خالق شاعر، اپنے خیالات، جذبات اور احساسات سے دوسروں پر سحر طاری کر دینے والے ساحر لدھیانوی اگر زندہ ہوتے تو آج ان کی 98 ویں سالگرہ ہوتی۔
انہوں نے فلمی نغمہ نگار کی حیثیت سے خوب شہرت پائی ۔ ان کے لکھے گیت کانوں میں رس گھول دیتے ہیں۔
ساحرلدھیانیوی آٹھ مارچ 1921 کو لدھیانہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ 1937 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی ان کا شاعری مجموعہ ‘تلخیاں’ شائع ہوتے ہی دلوں میں اتر گیا۔
ان کی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ وہ امرتا پریتم کے عشق میں کالج سے نکالے گئے اور لاہور آگئے۔ ملک کی تقسیم کے بعد ساحر لاہور سے ممبئی چلے آئے اور فلموں کےلیے گیت لکھنا شروع کیے۔ ان کی پہچان بحیثیت فلمی نغمہ نگار 1951 میں فلم نوجوان سے ہوئی، جس میں ایس ڈی برمن نے سنگیت دیا تھا۔
وہ رومانی شاعر تو کبھی ترقی پسند شاعر کی حیثیت سے دوسروں پر سحر برپا کردیتے تھے۔

اے شریف انسانو
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر

بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے

ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میّتوں پہ روتی ہے

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی

اس لئے اے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

(2)

برتری کے ثبوت کی خاطر
خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاں مٹانے کو
گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے

جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں
صرف میدانِ کشت وخوں ہی نہیں
حاصلِ زندگی خِرد بھی ہے
حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں

آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں

جنگ، وحشت سے بربریّت سے
امن، تہذیب و ارتقا کے لئے
جنگ، مرگ آفریں سیاست سے
امن،انسان کی بقا کے لئے

جنگ، افلاس اور غلامی سے
امن، بہتر نظام کی خاطر
جنگ، بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن، بے بس عوام کی خاطر

جنگ، سرمائے کے تسلّط سے
امن، جمہور کی خوشی کے لئے
جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن، پُر امن زندگی کے لئے


تدبیر سے ٹوٹی ہوئی تقدیر بنالے
اپنے پہ بھروسہ ہے تو ایک داؤ لگالے

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں

جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

ساحر نے اپنے لیے ایک مکان تعمیر کرایا جس کا نام اپنے مجموعہ کلام کے نام پر ‘پرچھائیاں’ رکھا ۔ اسی مکان میں انہوں نے 25 اکتوبر 1980 کو بعمر 59 سال آخری سانس لی.

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے