نیوزی لینڈ: 2 مساجد میں دہشت گرد حملے سے 49 افراد جاں بحق،بنگلہ دیشی ٹیم بال بال محفوظ

ویب ڈیسک : جمعہ 15مارچ 2019
کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں مسلح حملوں میں 49 افراد جاں بحق جبکہ 39 زخمی ہوئے۔دونوں حملے ملک کے تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ میں ہوئے، پولیس نے ایک خاتون سمیت 4 حملہ آوروں کو گرفتا کیا۔
نیوزی لینڈ کی پولیس کے سربراہ مائیک بش نے بتایا کہ ڈینز ایونیو میں واقع مسجد میں 41 افراد، لین وُڈ مسجد میں 7افراد جبکہ ہسپتال منتقل کیے گئے زخمیوں میں سے ایک شخص کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔میڈیا سے گفتگو میں مائیک بش نے مزید کہا کہ مسجد میں فائرنگ کی زد میں آنے والے 40 زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
خیال رہے کہ جزیرہ نما نیوزی لینڈ کی مجموعی آبادی 42 سے زائد ہے جبکہ اس میں ایک فیصد یعنی 40ہزار کے قریب افراد مسلمان ہیں۔مساجد پر حملوں میں ملوث افراد کے حوالے سے نیوزی لینڈ کی پولیس کے سربراہ مائیک بش کا کہنا تھا کہ 4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں ایک شخص پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے، جس کی عمر 20 سال ہے، اس نوجوان کو 24 گھنٹوں میں کرائس چرچ کی عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پولیس نے فوری طور پر حراست میں لیے گئے افراد کے حوالے سے مزید کسی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے یہ دہشت گردی کیوں کی۔
خیال رہے کہ حملہ آوروں کی مساجد جاتے ہوئے ہی کیمرے سے مکمل ویڈیو بنائی، جس میں حملے سے قبل سے لے کر فائرنگ اور بعد کی تمام صورتحال ریکارڈ ہوتی رہی، اور سوشل میڈیا پر یہ ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں۔
اس سے قبل نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حملے کو دہشت گردی قرار دیا اور بتایا کہ 10 افراد لین ووڈ مسجد جبکہ 30 افراد ہیگلے پارک کے نزدیک ڈینز ایو کی مسجد میں جاں بحق ہوئے۔
پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کر کے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی—فوٹو: اے پی
انہوں نے ہلاکتوں اور 4 گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں کی گاڑیوں میں 2 بم بھی منسلک تھے جنہیں ناکارہ بنادیا گیا۔
دوسری جانب آسٹریلین وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے واقے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار افراد میں سے آسٹریلین شہری بھی شامل ہے جو انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھتا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ دوپہر میں نماز جمعہ کے وقت پیش آیا۔پولیس حکام کے مطابق 4 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے جن میں 3 مرد اور ایک خاتون شامل ہے، حملے کے بعد پولیس نے پورے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کردیا۔
فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقہ گھیرے میں لے لیا اور مکینوں کو بھی گھروں سے نہ نکلنے جبکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔اس کے علاوہ خطرے کے پیش نظر نماز کی ادائیگی کے لیے لوگوں کو مساجد نہ جانے کا بھی کہا گیا، اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ہم اپنی بھرپور صلاحیت کے ساتھ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس بارے میں پولیس کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد حالات کے پیشِ نظر شہر کے تمام اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے۔خبررساں اداروں کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ کرتے ہوئے ویڈیو بھی بنائی جسے پولیس حکام کی جانب سے دل دہلا دینی والی قرار دینے کے بعد شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وقوعہ کے عینی شاہد نے نیوزی لینڈ ریڈیو کو واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ’انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں جس کے نتیجے میں 4 افراد زمین پر گرے ہوئے تھے جبکہ ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ایک بج کر 45 منٹ پر مسجد النور میں داخل ہوا جس کے بعد فائرنگ کی آواز سنی گئی، نمازِ جمعہ کے سبب مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے۔
حملے کے بعد لوگ خوفزہ ہو کر مسجد سے باہر نکلے، اس کے علاوہ ایک حملہ آور کو بھی ہتھیار پھینک کر فرار ہوتے ہوئے دیکھا گیا، فائرنگ کا دوسرا واقعہ لین ووڈ مسجد میں پیش آیا۔ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ وہ ڈینز ایو مسجد میں نماز ادا کررہے تھے جب فائرنگ آواز سنی اور جب وہ باہر کی طرف بھاگے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی اہلیہ کی لاش فٹ پاتھ پر پڑی ہوئی ہے۔ایک اور عینی شاہد کے مطابق فائرنگ سے بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد لاشیں دیکھی ہیں۔

کرکٹ میچ منسوخ

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق حملے کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی مسجد میں داخل ہونے والی تھی۔
حکام کے مطابق بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم مسجد میں فائرنگ سے محفوظ رہتے ہوئے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
جس کے بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بورڈ کی جانب سے ٹوئٹ کر کے بتایا گیا کہ کرائسٹ چرچ میں کل ہونے والا ٹیسٹ میچ منسوخ کردیا گیا۔بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ٹیم کے کئی ارکان مسجد پہنچ کر اندر داخل ہونے ہی والے تھے کہ فائرنگ کی آواز سن کر نیچے جھک گئے۔بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹوئٹ کر کے بتایا گیا کہ بورڈ کھلاڑیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کے تمام اراکین محفوظ ہیں تاہم ابھی تک شدید صدمے کا شکار ہیں جنہیں ہوٹل میں ہی رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن

نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں اس طرح کے انتہا پسندانہ اقدامات کی کوئی جگہ نہیں، یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں اس طرح کے حملوں کی کوئی مثال نہیں ملتی اور ایسے لوگوں کے لیے نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں۔آرڈن کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایک ایسی جگہ پیش آیا جہاں لوگ اپنی مذہبی آزادی کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں محفوظ ماحول میں ایسا کرنا چاہیے تھا لیکن آج ایسا نہیں ہوا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس حملے میں جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، نیوزی لینڈ ان کا گھر تھا اور انہیں یہاں محفوظ رہنا چاہیے تھا لیکن جن لوگوں نے حملہ کیا، ان کی نیوزی لینڈ کے لیے نیوزی لینڈ کے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے