رحیم یار خان میں رئیس امروھوی کے واحد شاگرد شاعر فقیر محمد یاور تلونی انتقال کر گئے

رپورٹ | حکیم خلیق الرحمن


رحیم یار خان میں رئیس امروھوی کے واحد شاگرد شاعر فقیر محمد یاور تلونی گذشتہ ہفتے انتقال کر گئے۔۔
مرحوم انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ ان کا خاندان قیامِ پاکستان کے بعد ہندوستان کے علاقے ”تلوَن“ سے ہجرت کرکے پاکستان کے شہر رحیم یارخان میں آباد ہُوا۔اوائل عمر سے ہی شعر کہنے والے فقیر محمد نے کراچی میں حصول روزگار کے دوران جون ایلیا کے بڑے بھائی رئیس امروھوی کی باقاعدہ شاگردی اختیار کر لی رئیس صاحب نے انہیں ”یاوَر“تخلّص کے طور پہ عطاء کیا۔

فقیر حسین یاوَر تلوَنی کی شخصیت نمودو نمائش اور شوقِ تشہیر سے آزاد تھی۔ ساری زندگی انہوں نے محنت کو ذریعۂ روزگار بنایا۔ان کے خیال میں شاعری بہترین "کتھارسِس” ہے ان کی شاعری خوبصورت تخیّل سے بھرپور ہے۔وہ شعروں کو”فروخت” کرکے ذریعۂ روزگار بنانے کے حق میں نہیں تھے۔
مَیں پرانی یادوں کو تازہ کرنے ہر جمعہ کی نماز کے بعد پرانے قبرستان میں جاتا تھا وہاں میرے اجداد ، فقیر محمد صاحب کے والد گرامی اور بستی کے دیگر عمائدین آرام فرما رہے ہیں۔۔۔ میری اور فقیر محمد صاحب کی ملاقات قبرستان کے پچھلے دروازے کے باہر ہوتی وہ تعمیر ملت سکول کی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرکے آ رہے ہوتے تھے۔۔مگر اب چند مہینوں سے یہ ملاقات نہ ہو سکی کیونکہ قبرستان جانے کا میرا وقت تبدیل ہو گیا تھا۔بستی امانت میں میرے دادا جان کو اللہ نے سب کی نگاہ میں عزت و احترام سے بہرہ مند کیا تھا پوری بستی میں دادا جان کو ایک ”بڑے“ کی حیثیت حاصل تھی۔یاوَر صاحب مقامی سکول میں تعلیم کے دوران ایک مرتبہ میرے دادا کے پاس اپنے والد صاحب کے ساتھ آئے۔۔۔انہوں نے اپنے ہاتھوں میں ایک بڑا ”انعامی کپ“ تھام رکھا تھا۔۔۔آ کر دادا جان کو سلام کیا۔۔اور یاوَر صاحب کے والد فرمانے لگے کہ”آج فقیر محمد کو سکول کی طرف سے انعام ملا ہے تو مَیں نے سوچا کہ سب سے پہلے شاہ صاحب کو یہ خوش خبری سنا کر آؤں کیونکہ وہ پوری بستی کی خیر مانگتے ہیں اپنی دُعا میں“
لیکن ذہانت اور قابلیت کے باوجود یاوَر تلونی رِیاء اور بناوٹ سے ہمیشہ دور رہے۔

"یاوَر” مری نگاہ میں تاریک ہے حیات
نظروں میں روشنی تھی ابھی کل کی بات ہے

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے