سپریم کورٹ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرلی

ویب ڈیسک | اپ ڈیٹ 26مارچ 2019

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت 6 ہفتوں کے لیے منظورکرلی ۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پرسماعت کے بعد سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے نوازشریف کے علاج کےلیے 8 ہفتوں کی مہلت کی استدعا کی ۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔
سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر لارنس ماضی میں نوازشریف کے معالج رہے ہیں؟ ڈاکٹرلارنس کے خط کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ جب کہ یہ ایک شخص کا دوسرے شخص کو خط ہے، کیا یہ ثبوت ہے؟
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹرلارنس کا خط عدالت کے نام ہے جب کہ خط میں صرف میڈیکل ہسٹری ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہم نے نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ 26 جنوری کو رپورٹ آئی تھی، جس میں نوازشریف کی طبعیت خراب ظاہر کی گئی اور نوازشریف کی طبیعت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی درخواست دائر کی گئی تھی۔
سابق وزیراعظم کی جانب سے طبی بنیادوں پر ضمانت کے مزید دستاویزات بھی جمع کرادیے گئے ہیں۔
نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے جمع کرایا گیا خط ڈاکٹر لارنس نے نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے نام لکھا ہے۔ڈاکٹر لارنس کے خط میں نوازشریف کی 2003 سے 2019 کی میڈیکل ہسٹری شامل ہے۔

’نوازشریف دل،گردے کے امراض اور ذہنی دبائو کا شکارہیں، خواجہ حارث‘

خواجہ حارث نے کہا جنوری 2019 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نوازشریف کواسپتال منتقل کیا جائے۔ میڈیکل رپورٹ میں نوازشریف کو اسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی گئی،نوازشریف دل،گردے کے امراض اور ذہنی دبائو کا شکارہیں۔
نوازشریف کو انجیو گرافی کی ضرورت ہے، جیل میں معائنے کے بعد میڈیکل بورڈ نےبھی نوازشریف کو اسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی۔ چوبیس گھنٹے ڈاکٹرز کی ضرورت ہے،
معالج کے مشورے کے بعد انجیوگرافی کی تجویز دی گئی،نوازشریف کی طبعیت مسلسل بگڑ رہی ہے،آخری میڈیکل رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ نوازشریف کو انجیو گرافی کی ضرورت ہے۔

نواز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف کا بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے۔ ادویات کے بعد نوازشریف بلڈ پریشر 90/160 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہائپر ٹینشن اورشوگر پر قابو پالیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کیا ہم صرف ڈاکٹرلارنس کی بات پر یقین کرلیں ؟ ڈاکٹرلارنس نے کہا کہ گردوں کا مرض اسٹیج تھری پر ہے۔ عدالت کے پاس ریکارڈ میں کوئی چیز نہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا ہمارے پاس کیا ثبوت ہے کہ بیماری اسٹیج تھری پر ہے؟عدالت نہیں جانتی کہ ڈاکٹر عدنان کون ہے، آپ کا کیس ہے کہ نوازشریف کی صحت بگڑ رہی ہے۔ڈاکٹرلارنس کا خط اصلی ہے اس کی کیا تصدیق ہے؟اگر گردوں کا مرض اسٹیج تھری پر ہے تو ریکارڈ دکھائیں۔
خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف 15 سال سے گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا نوازشریف کو کب گرفتار کیا گیا؟
خواجہ حارث نے بتایا کہ نواز شریف کی گرفتاری 24 دسمبر کو ہوئی،نوازشریف کی شوگر بڑھنے سے دل کا مسئلہ سنجیدہ ہوتا جارہا ہے۔ نوازشریف کی ایک شریان میں 90،دوسری میں 93 فیصد بندش ہے۔

’فوجداری مقدمات میں خط پر انحصار نہیں کیا جاسکتا، چیف جسٹس پاکستان‘

چیف جسٹس نے پوچھا کیا میڈیکل بورڈ کو کوئی دستاویزات فراہم کی گئیں؟میڈیکل بورڈ کی سفارشات پرفوکس کریں نہ کہ خط پر، فوجداری مقدمات میں خط پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ اٹھارہ فروری کی رپورٹ میں بھی کرونک بیماریوں کا ذکر ہے۔ہم مریض کی موجودہ حالت پر توجہ دے رہے ہیں،دلائل سے پتہ چل رہا ہے کہ نوازشریف کی میڈیکل ہسٹری ہے ۔
خواجہ حارث نے کہا شریانوں میں خون کی بندش کی وجہ سے مریض کودو بار اسپتال منتقل کیاگیا۔ اینجیو گرافی سے مریض کے گردے متاثر ہوسکتے ہیں۔ نواز شریف کی طبی صورتحال کی سنگینی کو مد نظر رکھا جائے، نواز شریف کی صحت روز بہ روز خراب ہورہی ہے۔ نواز شریف کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے۔
خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ذیابیطس اور ہائپر ٹینشن روز بہ روز بڑھ رہے ہیں۔ ان کا عارضہ قلب تیسرے درجے میں داخل ہوچکا ہے،تمام میڈیکل بورڈ کی سفارشات ہیں کہ نواز شریف کا اسپتال میں علاج ہےان سفارشات کی روشنی میں نواز شریف کا علاج ضروری ہے۔چیف جسٹس نے کہا آپ نے نواز کی میڈیکل ہسٹری سے متعلق ڈاکٹر لارنس کا خط پیش کیا۔کیا نواز شریف کی طبی صورتحال سے متعلق صرف یہ ہی ایک ثبوت ہے۔آپ ہمیں نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری بتا رہے اور صرف ایک ثبوت پیش کیاآپ کے موکل کی خرابی صحت کی بنیاد پر ضمانت کا معاملہ اور آپ نے ایک خط پیش کیا
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں نہیں معلوم ڈاکٹر لارنس کون ہے اور ڈاکٹر عدنان کون ہے،نواز شریف پچھلے 15 سالوں سے ان بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
ہم دیکھنا چاہتے ہیں کیا ان بیماریوں کی بنیاد پر ضمانت ہوسکتی ہے۔یہ بیماریاں بہت پرانی ہیں،آپ نے میرٹ کی بنیاد پر دائر پٹیشن واپس لے لی تھی ۔ اس پر خواجہ حارث نے کہا کیونکہ نواز شریف کی صحت کا معاملہ بعد میں سامنے آیا،نوازشریف کی صحت کا جائزہ لینے کیلئے پانچ میڈیکل بورڈ بنے،پانچوں میڈیکل بورڈز نے نوازشریف کو اسپتال داخل کرانے کی سفارش کی ۔ میڈیکل بورڈز نے سفارش کی کہ نوازشریف کو علاج کی ضرورت ہے۔30 جنوری کو پی آئی سی بورڈ نے بڑے میڈیکل بورڈ بنانے کی تجویز دی ، میڈیکل بورڈ نے ایک سےزائد بیماریوں کےعلاج کی سہولت والےاسپتال میں داخلےکاکہا۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل جاری ہیں، کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا۔سماعت میں وقفے کے بعد اپنے دلائل میں خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف کی اینجو گرافی دیگر مریضوں کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان کے اسپتالوں میں علاج ممکن ہے؟کیا پاکستان کے اسپتالوں میں مطلوبہ سہولتیں اورتجربہ کارڈاکٹرز ہیں ؟
نوازشریف کو علاج کرانا ہے تو کسی بھی اسپتال کو حکم دے سکتے ہیں۔
خواجہ حارث نے کہا علاج کےلیے نوازشریف کا ذہنی دبائو سے نکلنا ضروری ہے۔چیف جسٹس نے کہا ذہنی دبائو 2 ہفتوں میں ختم ہوجاتا ہے۔ نوازشریف کی سزا کےخلاف اپیل اسلام آباد ہائی کور میں مقرر ہوجائے گی اپیل مقرر ہوچکی ہے،سماعت قریب ہے،اب ضمانت کی درخواست کیوں سنیں؟
خواجہ حارث نے کہا اپیل پر جلد بازی میں سماعت نہیں ہونی چاہیے، ممکن ہے کہ ہائی کورٹ تمام ریفرنسز میں ایک ساتھ اپیل لے۔
چیف جسٹس نے کہا سوال یہ ہے کہ نوازشریف کی جان کو خطرات ہیں یا نہیں،کیا یہ کہہ دیں کہ ہائی کورٹ نے اپیل بلاوجہ مقرر کردی ہے؟ اپیل پر فیصلے کے بعد ضمانت ہوتی ہے۔اپیل مقرر ہوجائے تو ضمانت کی درخواست نہیں بنتی۔ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایات دے سکتے ہیں کہ اپیل پرفیصلہ جلد کرے۔
میڈیکل رپورٹ میں کہیں نہیں کہا گیا کہ نوازشریف کی حالت تشویشناک ہے۔میڈیکل رپورٹ میں نوازشریف کی جان کو کسی خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔میڈیکل رپورٹ میں ادویات جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔خواجہ حارث نے کہا نوازشریف 2003 سے عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا قانون کے مطابق علاج ہورہا ہو تو ضمانت نہیں ملتی۔خواجہ حارث نے کہا 2011 میں نوازشریف وینٹی لیٹر پر تھے۔
چیف جسٹس نے کہا اوپن ہارٹ سرجری کے بعد مریض 20 سال کے نوجوان جیسا ہوجاتا ہے۔

’میڈیکل ہسٹری ہونا ضمانت کےلیے موزوں وجہ نہیں ، چیف جسٹس‘

رپورٹ میں نوازشریف کی ماضی کی میڈیکل ہسٹری کا ذکرہےلوگوں کی میڈیکل ہسٹری ہوتی ہے اور وہ زندہ رہتے ہیں۔ میڈیکل ہسٹری ہونا ضمانت کےلیے موزوں وجہ نہیں ہے, قائل کریں کہ نوازشریف کا علاج جیل میں ممکن نہیں۔چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے پوچھااگر نوازشریف کو ایک ہفتے کی ضمانت دی جائے تو ٹھیک ہے؟خواجہ حارث نے کہا مکمل طور پر رہائی ملنے تک نوازشریف ذہنی دبائو سے نہیں نکل سکتے۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا آج کل تو جن کا ٹرائل نہیں ہورہا وہ بھی ذہنی دبائو کا شکار ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا نوازشریف علاج کی پیشکش کو انکار کررے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ نوازشریف علاج کےلیے راضی ہوجائیں۔نوازشریف علاج کےبعد مکمل صحت یاب نہیں ہوسکتے،صرف بیماری کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے،پوری رپورٹ میں نہیں کہا گیا کہ نوازشریف کی زندگی کو فوری خطرات ہیں،تمام میڈیکل رپورٹس کی سفارشات کے باوجود آپ کیوں اعتراض کررہے ہیں کہ علاج نہ ہو۔نوازشریف نے جلاوطنی بھی کاٹی،جلاوطنی بھی تو ذہنی دبائو کا باعث بنتی ہے۔
جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ای اسی ایل سے نام نکالنا اور ڈالنا حکومت کا کام ہے۔
خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیے ۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا نوازشریف کی مرکزی اپیلیں حتمی دلائل کےلیے مقرر ہوچکی ہیں۔
نیب کی جانب سے نوازشریف کی سزا میں اضافہ اوربریت کےخلاف اپیل بھی کی گئی ہے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی نوازشریف کی میڈیکل ہسٹری سامنے نہیں آئی۔18 فروری کے بعد سے آج تک نوازشریف مسلسل زیرنگرانی ہیں۔ ڈاکٹرز نوازشریف کا مسلسل معائنہ کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹرسے استفسار کیا نیب کے ملزمان بیمار کیوں ہوجاتے ہیں؟نیب ریکوری کےلیے کوئی اچھا اسپتال بنائے۔کیا ملزمان کو زیادہ دبائو میں رکھتے ہیں؟
نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا اٹھارہ فروری سے آج تک آنے والی رپورٹس بتاتی ہیں نوازشریف کی حالت نارمل ہے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کیا دل کے مریض کےلیے انجیو گرافی لازمی ہے ؟نیب پراسیکیوٹر نے کہا اگر میڈیکل بورڈ کی تجویز دی جائے تو کارروائی کی جاتی ہے،میڈیکل بورڈ نے ضرورت کے تحت انجیو گرافی کی تجویز دی ہے۔پاکستان میں انجیو گرافی باآسانی ہوجاتی ہے،پاکستان میں انجیو گرافی کے جدید آلات موجود ہیں۔

’کسی رپورٹ میں نہیں کہا گیا کہ نوازشریف نے علاج سے انکار کیا، جسٹس سجاد علی شاہ‘

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کسی رپورٹ میں نہیں کہا گیا کہ نوازشریف نے علاج سے انکار کیا۔
سپریم کورٹ میں گزشتہ سماعت پر سابق وزیراعظم نوازشریف کی پانچ میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کی گئی تھیں۔
تین رکنی بینچ نے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے نیب کو نوٹس جاری کیا تھا۔
خواجہ حارث نے عدالت میں کہا تھا کہ نوازشریف کی حالت بگڑ رہی ہے، ان کے معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ پنجاب حکومت کے احکامات پر بنایا گیا۔

واضح رہے کہ 25 فروری کو طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں یکم مارچ کو چیلنج کیا تھا۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں 24 دسمبر کو سات سال قید کی سزا، ایک ارب 50 کروڑ روپے کا جرمانہ اور جائیداد ضبطی کی سزا سنائی تھی۔
کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو بھی ملاقات کرکے سندھ میں علاج کی پیشکش کرچکے ہیں، اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے بھی پنجاب حکومت کو نوازشریف کو صحت کی ہرسہولت یقینی بنانے کی ہدایت کررکھی ہے۔
سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نوازشریف کی صحت سے متعلق انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں جس کا اظہار وہ سوشل میڈیا پر کرتی رہتی ہیں، اسی سلسلے میں انہوں نے گزشتہ دنوں جیل میں ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر جیل کے باہر دھرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔
ادھر سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ نوازشریف کے چاہنے والوں اور سپورٹرز کو چاہیے کہ وہ اللہ سے رجوع کریں، قوم ان کی رہائی کے لئے دعا کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ دل سے نکلنے والی دعا کی طاقت کم نہیں ہوتی جو اللہ رب العزت کے حضور ضرور پہنچتی ہے، آج رات دعا کے ذریعے جو ہو سکتا ہے وہ کرنا چاہیے۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ نوازشریف کے چاہنے والے اپنے والدین سے دعا کروائیں، اللہ پتہ نہیں کس کی دعا قبول کر لے۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ اللہ رب العزت آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے، جزاک اللہ۔
انہوں نے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ جب نوازشریف کو کوٹ لکھپت جیل لےجایاگیا تب انہیں وہاں دیکھنے گئی، میں نے ان سے کہا کہ آپ اڈیالہ جیل کے بجائے کوٹ لکھپت جیل میں بہتر محسوس کررہے ہیں؟
مریم نواز کے مطابق نواز شریف نے کہا ’جی ہاں‘ اس مشکل وقت میں تمہیں پریشان نہیں دیکھ سکتا، مشکل وقت خود پر تو برداشت کر سکتا ہوں لیکن بیٹی تمہیں پریشان نہیں دیکھ سکتا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے