کراچی:احتجاج کرنے والے اساتذہ پر پولیس کا لاٹھی چارج

ویب ڈیسک | جمعرات 28مارچ 2019

کراچی : پولیس نے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے اساتذہ کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف جانے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور واٹر کینن کا بے دریغ استعمال کیا۔
ایس ایس پی جنوبی میر محمد شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ اساتذہ نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے مظاہرین کو کراچی پریس کلب کے باہر ہی احتجاج محدود رکھنے کی تلقین کی کیونکہ ریڈ زون میں مظاہرے پر پابندی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی پریس کلب کے بابر تقریباً 2 ہزار احتجاجی اساتذہ جمع ہوئے اور گورنمنٹ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن (گسٹا) کے عہدیداران نے مطالبات تسلیم کیے جانے کے حق میں تقریریں کی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ مرد و خواتین اساتذہ نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ شروع کیا تو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔
لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان معمولی جھڑپ بھی ہوئی جس کے بعد متعدد اساتذہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کی بھاری نفری نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والی تمام شاہراؤں کو بلاک کردیا جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن بھی طلب کی گئی۔
اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ پولیس نے متعدد اساتذہ کو گرفتار کرلیا تاہم پولیس کی جانب سے مظاہرین کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ اگر احتجاج ختم نہیں کیا گیا تو مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
گورنمنٹ سکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر اشرف خاصخیلی نے بتایا کہ پولیس 200 اساتذہ کو حراست میں لے چکی ہے اور پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے باعث 8 خواتین سمیت 150 اساتذہ زخمی ہوئے۔
تاہم ایس ایس پی جنوبی کہنا تھا کہ 8 احتجاجی اساتذہ کو حراست میں لیا گیا جبکہ 2 زخمی ہوئے۔
کمشنر کے ترجمان نے بتایا کہ ’کمشنر نے اساتذہ کو اپنا احتجاج ختم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے یقین دلایا تھا کہ ان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں گے اور اس ضمن میں سمری تیار کی جا چکی ہے‘۔
پولیس افسرنے بتایا کہ ’گسٹا کے رہنماؤں نے اجلاس میں ’اطمینان‘ کا اظہار کیا لیکن جب وہ کراچی پریس کلب پہنچے تو وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’پولیس نے اساتذہ کو منتشر کرنے کے لیے صرف آنسو گیس کا استعمال کیا۔’دوسری جانب جناح ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ ’دو مرد اساتذہ کو زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا جنہیں طبی امداد دے کر رخصت کردیا گیا‘۔
اس دوران سیکرٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز کے حوالے سے میڈیا میں کہا گیا کہ میٹرک کے امتحانات کے وقت احتجاج ایک ’سازش‘ ہے، تاہم انہوں نے سازش کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے