زرداری اور نواز شریف کو نہیں چھوڑیں گے:عمران خان

ویب ڈیسک | ہفتہ 30مارچ 2019

گھوٹکی : وزیراعظم عمران خان نے شریف برادران اور آصف زرداری کو واضح چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی چوری بچانے کے لیے آپ نے جو مرضی کرنا ہے کریں، ہم آپ کو نہیں چھوڑیں گے۔
گھوٹکی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس(جی ڈی اے)، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین اور دیگر افراد کو پیغام دیا کہ قومیں غریب نہیں ہوتیں، کرپشن اسے اور ملک کو غریب بنادیتی ہے، ایک وقت تھا کہ دنیا میں ہماری مثال دی جاتی تھی اور لوگ ہمارے ترقی کرنے کے ماڈلز کو اپناتے تھے لیکن آج پاکستان پر تاریخی قرضہ چڑھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 10 برس میں جس طرح اس ملک کو مقروض کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی، ہمارا ٹیکس کا اکھٹا ہونے والا پیسا ساڑھے 4 ہزار ارب ہے اور اس میں سے 2 ہزار ارب روپے صرف قرضوں کی اقساط ادا کرنے میں چلے جاتے ہیں۔
سندھ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ سب سے خوشحال ہونا چاہیے کیونکہ یہاں پاکستان کا مالیاتی دارالخلافہ موجود ہے، اس صوبے سے گیس نکلتی ہے لیکن اس کے باوجود یہاں سب سے زیادہ غربت اور کرپشن ہے۔انہوں نے کہا کہ گھوٹکی میں سندھ کی 70 فیصد گیس نکلتی ہے، یہاں گیس کے 250 کویں ہیں لیکن پھر بھی یہ ضلع پسماندہ علاقوں میں شامل ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ زیرِ زمین موجود قدرتی ذخائر رکھنے والے جن اضلاع کو سب سے آگے ہونا چاہیے تھا وہ سب سے پیچھے ہیں۔
عمران خان نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے سب اختیار صوبوں کے پاس چلا گیا ہے، 18ویں ترمیم کے بعد مرکز کی حالت یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس ساڑھے 5 ہزار ارب روپے ہیں جس میں سے 2 ہزار ارب قرض اور باقی ساڑھے 3 ہزار میں سے ڈھائی ہزار ارب صوبوں کو چلا جاتا ہے اور ہمیں 1700 ارب دفاع کے لیے دینے پڑتے ہیں اور مرکز 700 ارب کے خسارے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی گیس کی رائٹلی کا پیسہ گھوٹکی کے لوگوں کو نہ ملنا کرپشن ہے، عوام پر خرچ ہونے والا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر چلا جاتا ہے اور ایک سیاسی خاتون کے نام پر 5 گھر نکل آتے ہیں۔اپنی گفتگو میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کو مقروض کرنے والوں کا جب احتساب ہورہا ہے تو جمہوریت خطرے میں آگئی؟ کہا جارہا ہے کہ طاقتور کا تو کبھی احتساب ہوا ہی نہیں، جب ان پر ہاتھ ڈالا جارہا تو جمہوریت خطرے میں آگئی، چوری بچانے کے لیے ٹرین مارچ شروع ہوگئی، اربوں روپے بچانے کے لیے ٹرین مارچ کرنے والے لوگوں کو 2 ہزار روپے دے کر بلاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شریف برادران پہلے کہتے تھے زرداری کرپٹ ہیں، زرداری اور ان کے بیٹے کہتے تھے کہ وہ کرپٹ ہیں لیکن آج جمہوریت بچانے کے لیے دونوں اکھٹے ہورہے ہیں، میں ان کو چیلنج دیتا ہوں کہ جو مرضی کرنا چاہتے ہیں کریں، ہم نے آپ کو نہیں چھوڑنا، یہ قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی، آپ کے پاس صرف ایک راستہ ہے، قوم کا پیسہ واپس کریں پھر ہم آپ کو چھوڑیں گے، اس کے علاوہ آپ نے ٹرین مارچ کرنی ہے تو کریں، ڈی چوک پر کنٹینرز تیار ہیں وہاں جاکر دھرنا بھی دے دیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہم آپ کو کھانا دینے کے لیے تیار ہیں لیکن یہ دیکھنا ہے کہ آپ میں صلاحیت کتنی ہے، ہم نے ساڑھے 4 ماہ کا دھرنا اپنی چوری چھپانے کے لیے نہیں بلکہ شفاف انتخابات کے لیے دیا تھا۔
سندھ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہاں میں شکار کے لیے آتا تھا لیکن سیاست میں آنے کے ساتھ ہی شکار تبدیل ہوگیا، میں نے سندھ کو پیچھے جاتے، غربت بڑھتے اور یہاں انفرا اسٹرکچر تباہ ہوتے دیکھا کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ سندھ کے عوام کا پیسہ کہاں گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پاناما مافیا کے خلاف جنگ کی وجہ سے اندرون سندھ آنے کا موقع نہیں ملا لیکن اب میں پورا زور لگاؤ گا یہاں آنے کے لیے، اس کا مقصد الیکشن جیتنا نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ صرف ایک صوبے کو نہیں پورے ملک کو اوپر اٹھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان اور سندھ پر خاص توجہ دینی ہے، یہاں غربت بہت زیادہ ہے، ہمارے غربت کی کمی کا پروگرام سب سے بہتر ہوگا، اس سلسلے میں ہم نے چین سے بھی سیکھا ہے اور اب پوری طرح اس پروگرام پر زور لگائیں گے۔
پولیس کے نظام پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اندرون سندھ پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا، جھوٹی ایف آئی آر کٹوائی جاتی ہیں، مخالفین پر ظلم کیا جاتا، لوگوں کو اتنا خوفزدہ کردیتے کہ وہ دوسروں کو ووٹ دینے سے ڈرتے ہیں، انہیں غلام بنایا جاتا ہے، پانی کاٹ دیا جاتا ہے، ہماری اس سب کے خلاف جنگ ہے اور میں اس کے خلاف کھڑا ہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں مسلسل سندھ آتا رہوں گا، اس لیے نہیں کہ ووٹ لینا ہے بلکہ سندھ کو تبدیل کرنا ہے، اندرون سندھ لوگوں کی مشکلات کو حل کرنا ہے۔

سندھ میں تبدیلی آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، شاہ محمود

قبل ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جب تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو میں نے سوچ سمجھ کر گھوٹکی میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ پاکستان کے عوام کو پیغام دینا تھا کہ عمران خان ایسی جماعت کی بنیاد رکھ رہے ہیں جس کی سوچ وفاق کی ہے اور یہ وفاق کی علامت بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جو لوگ وفاق کے نمائندے اور علامت تھے آج ملک میں ان کا وجود دکھائی نہیں دے رہا، پیپلز پارٹی ایک بہت بڑی جماعت تھی وہ سکڑ کر صرف اندرون سندھ تک محدود ہوگئی اور کراچی میں بھی ان کی نمائندگی نہیں ہے، پیپلز پارٹی کی تنزلی کی وجہ عوام جانتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں 10 سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن ان برسوں میں لوگ دیکھیں کہ ان کے حالات بہتر ہوئے ہیں یا بدتر، اگر اس سب کے باوجود آپ تیر پر مہر لگاتے رہے ہو اور اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے تو یہاں کا نوجوان، دانشور اور بیٹی فیصلہ کرے کہ اپنا مستقبل اسی راستے پر دینا ہے یا تبدیلی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے