بھٹو کی پھانسی کی خبر پڑھ لیں گی آپ ؟

ماضی کی نامور نیوز کاسٹر” ماہ پارہ صفدر“ کی ایک اچھوتی تحریر

بھٹو کی پھانسی کی خبر پڑھ لیں گی آپ ؟

تحریر | ماہ پارہ صفدر

شعبہ خبر سے وابستگی کے دوران دو خبریں ایسی تھیں۔ جن میں سے ایک پڑھ کر افسو س ہوا اور ایک نہ پڑھ کر۔
ایک جمہوریت کی موت تھی اور ایک آمریت کی۔
دونوں خبریں اپنی اپنی جگہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئیں۔ ایک ملک کے منتخب وزیر اعظم کے قتل کے باب میں جس کے خون کے چھینٹے انصاف کے دامن پر بھی نظرآتے ہیں۔ تو دوسری ایک آمر کے انجام کے باب میں ۔
تو چلئیےپہلے وہ خبر جسے سن کر میرے بہت سے لمحے تو بے یقینی کی کیفیت میں گزرے۔دل جیسے کہہ رہا ہو۔
یا الہی مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو
مگر حقیقت کے ادراک پر آنکھ سے بے اختیار آ نسو چھلک پڑے۔ یہ خبر پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان کے دن کے گیارہ بجے کے بلیٹن میں نشرہوئی۔
جس کے مطابق بھٹو صاحب کو ہمارے گھرسے تین میل کے فاصلے پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں رات کے دو بجے پھانسی دی جا چکی تھی۔
تاہم ہینڈ آؤٹ اس وقت جاری کیا گیا۔ جب انہیں گڑھی خدا بخش بھٹو میں دفنایا جاچکا تھا۔
پھانسی سے لے کر دفن تک کی پوری کارروائی اس قدر خفیہ رکھی گئی کہ چند میل دور سہالہ جیل میں مقید بیوی نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو کی دفن میں شرکت تو دور کی بات، دفنانے سے پہلے انہیں شکل تک نہ دکھائی گئی۔
پھانسی کی خبر جاری ہونے کے بعد ہمارے نیوز پروڈیوسر کا فون آگیا،خاصی گھبراہٹ زدہ آواز میں گویا ہوۓ۔
”خبر تو سن لی ہوگی آپ نے۔ بھٹو کی پھانسی خبر پڑھ لیں گی آپ؟“میرے اطمنان دلانے پر ان کی تسلی نہیں ہوئی۔ ابکے خود نیوز کنٹرولر حبیب اللہ فاروقی لائن پر تھے۔ دیکھیں بی بی یہ خبر پڑھ لیں گی آپ کہیں رو تو نہ پڑیں گی۔
مگر یہ ہی تو ہماری تربیت تھی کہ دلی کیفیت چہرے اور آواز میں جھلکنے نہ پائے۔
شام پانچ بجے کا بلیٹن میں نے بالکل معمول کے مطابق پڑھا۔ یہ خبر چند فقروں پر مشتمل اور نپی تلی تھی۔
ظاہر ہے نیوز روم کو یہ ہی ہدایات ملی تھیں اور شائد بار بار پوچھے جانے کے دباؤ میں میں کچھ زیادہ تیار تھی۔ نو بجے میرے ساتھ خالد حمید تھے۔ سرخیاں میں نے پڑھیں اور تفصیلی خبر خالد نے پڑھنی شروع کی۔
لیکن چند سطریں پڑھنے کے بعد آواز میں لرزش ہوئی جیسے گلے میں پھندا سا پڑجائے۔ بمشکل جملہ مکمل کیا۔ اگلہ جملہ شروع ہونے میں وقفہ اتنا تھا کہ محسوس کیا گیا۔
ٹی وی والوں کی گھبراہٹ سمجھ میں آتی تھی، میں یا خالد رو پڑتے تو ان کی تو نوکری جا سکتی تھی۔
اس خبر کے ساتھ چند سیکنّڈ کی فوٹیچ انہیں دفنائے جانے کی دکھائی گئی جس میں بند تابوت میں چند لمحوں کے لیے ان کے چہرے کی جھلک بھی تھی۔ جس کا مقصدلوگوں کو آگاہ کرنا نہیں یہ باور کرانا تھا کہ دفن ہونے والی لاش ذوالفقار علی بھٹوکی ہی تھی ۔ نماز جنازہ میں میت ایک چارپائی پر چٹائی پر رکھی تھی اور کوئی درجن بھر افراد نماز جنازہ میں شریک تھے۔
اف کیا بے کسی تھی لاش پر۔
خیالوں ہی خیالوں میں مجھے اس لاش کے پیچھے ماؤزے تنگ کیپ پہنے وہ جواں سالہ بھٹو نظر آیا جسے میں نے اپنے بچپن نہیں ہاں لڑکپن میں چند گز کے فاصلے سے دیکھا اور سنا تھا۔ سن اڑسٹھ یا انتہر میں ذوالفقار بھٹو اپنی پیپلز پارٹی کی تنظیم کے سلسلے میں سر گودھا آئے
یہ پارٹی کا بالکل ابتدائی زمانہ تھا۔ کسی جاگیر دار یا صنعت کار نے مسٹر بھٹو کو لفٹ نہیں کرائی تھی۔
چند مڈل کلاس لوگوں نے بھٹو صاحب کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور پذیرائی کی تھی۔ مسعود زاہدی، ممتاز کاہلو رکن اسمبلی خود میری والدہ شمس الزہرہ زیدی خواتین کی مخصوص نشتوں کے لئے امید وار بھی تھیں۔ بھٹو ہمارے عزیز ایڈوکیٹ مسعود زاہدی ہی کے گھر ٹھہرے تھے اور سیٹلایئٹ ٹاؤن سرگودھا میں ہمارے گھر سے ذرا فاصلے پر ہمارے والد کے دوست علی احمد کاظمی کے گھر خواتین سے خطاب کرنے آئے تھے۔ میں بھی اپنی والدہ اور بڑی بہن فوزیہ کے ساتھ انہیں سننے گئی تھی۔
ابھی ہمارے گھر میں ٹی وی نہیں آیا تھا۔ ہم سب صرف اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے بھٹو کی شخصیت سے متعارف تھے۔
مجھے بالکل یاد نہیں انہوں نے کیا کہا، مگر انہوں نے خواتین کو جیسےمتاثر کیا اور جس طرح ان کے ووٹ کی اہمیت کا انہیں احساس دلا دیا تھا اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ میری والدہ اوروہاں موجود خواتین کا جوش و خروش دیدنی تھا، یہ پہلا موقع تھا کہ عورتوں کو ان کی اہمیت کا احساس دلایا گیا تھا۔ اس کے بعد میرے والدہ سمیت عورتوں کے غول کے غول الیکشن تک گھروں کے دروازے کھٹکٹھا کر انہیں پولنگ سٹیشن تک لانے کے لئے آمادہ کرتی رہیں۔
سترکے انتخابات میں نا قابل یقین مقبولیت کے بعد پیپلز پارٹی مڈل کلاس سے دور اور وڈیروں اور جاگیرداروں کی مقبوضہ بنتی چلی گئی۔
مگر یہ مڈل کلاس عوام بھٹو کو اپنے ذہنوں سے دور نہ کر سکے ۔ وہ اس شخص کو بچا تو نہیں پائے جس نے اور کچھ نہیں تو کم از کم پہلی مرتبہ انہیں ووٹ کی اہمیت کا شعور دیا تھا۔
مگر لفظوں کی صورت میں جتنا خراج عقیدت پیش کر سکتے تھے وہ خو ب کیا۔ بس
اختر حسین جعفری کی نظم کی تین سطریں سنا کر دوسری خبر کی طرف چلتی ہوں

تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں
تُو جدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے

وہ خبر جیسے نہ پڑھنے کا افسوس رہا۔وہ جنرل ضیاء کی ہلاکت کی خبرتھی۔ جنرل ضیاء کا فوجی طیارہ سترہ اگست سن 88کو چار بجے کے لگ بھگ بہاولپور کے قریب کریش ہوا۔ مگر ٹی وی پر رات آٹھ بجے ان کی ہلاکت کی خبر نشر ہوئی۔ جو اظہر لودھی نے پڑھی ،خبر نامے کے لئے میری اور اظہر لودھی کی ڈیوٹی تھی۔
میں میک اپ روم میں داخل ہوئی تو وہاں سب کو صرف اتنا معلوم تھا کہ کوئی بہت بری خبر ہے۔ میں اوپر نیوز روم میں پہنچی تو افراتفری کا عالم دیدنی تھا۔ جنرل ضیاء کی فوٹیج اور پرانی خبروں کے سکرپٹ نکالے جارہے تھے۔ وغیرہ،وغیرہ۔ اتنے میں چیف ایڈیٹر شکور طاہر مجھے دیکھتے ہی میری طرف لپکے ، چہرے پر گھبراہٹ نمایاں تھی، مجھے دوسرے کمرے میں لے گئے اور بولے کہ بی بی بہت بری خبر ہے جنرل ضیاء فوجی طیارے کے حادثے میں ” شہید“ہوگئے ہیں۔ آج خبر نامے میں اس کے سوا کوئی خبر نہیں جائیگی اور یہ اظہر لودھی پڑھیں گے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کیوں میں کیوں نہیں۔ شکور طاہر نے کہا بی بی آپ لوگوں نے میک اپ وغیرہ کیا ہوتا ہے۔ یہ بڑی سنجیدہ خبر ہے۔ تو اچھا نہیں لگتا یہ خبر کوئی ”مرد“ ہی پڑھے تو بہتر ہے۔ میں نے کہا شکور صاحب جب خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تھا۔ مجھے پہلے ہدایت کردی گئی کہ کپڑے بھی بہت سادا ہوں اور میک اپ بھی انتہائی کم۔آج آپ نے پہلے کیوں نہں بتایا۔ بتادیتے میں میک نہ کرواتی۔ اور یہ غیر سنجیدہ خبریں کونسی ہوتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہتی انہیں کسی نے بلا لیا اور میری بات کو اہمیت نہ دی ، میں گو مگو کی حالت میں نیوز روم میں آکر رائیٹر اور اے پی کے پرنٹ پڑھنے لگی۔ اس دن خبر نامہ کیا ضیاء نامہ تھا۔ حادثے کی خبر،حالات زندگی،غیر ملکی دوروں کا احوال اور شخصیات کے تعزیتی پیغامات اور نہ جانے کیا کیا۔
میری نظروں میں چار اپریل کا منظر اتر آیا۔ اور میں نے سوچا ایک سویلین رہنما کی اتنی بے توقیری کہ اسے سولی پر چڑھا دیا جائے اوراس کی محض چند سطروں کی خبر نشر ہو۔اور ایک آمر کی اتنی عزت افزائی کہ وہ ہلاک ہو تو شہید اورخراج تحسین کے ڈھیر،سترہ اگست مجھے پروفیشنل عورت کی بے توقیری کے لئے بھی یاد رہیگا۔عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی یہ بد ترین مثال تھی۔ مگر اتنا ضرور ہوا کہ اس نے مجھے جنسی تعصبات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا۔ میرا سفر آج تک جاری ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے