مسعود اظہر پر پابندی کی امریکی کوششوں پر چین کا انتباہ

ویب ڈیسک : جمعرات 04اپریل 2019

واشنگٹن: امریکا نے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے لیے تمام تر دستیاب راستوں کے استعمال کے عزم کا اظہار کیا ہے۔تو دوسری جانب چین نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اس رویے سے جنوبی ایشیا میں پہلے سے کشیدہ صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے گی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان سے اس بارے میں امریکا کی کوششوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ ہم نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس حوالے سے قرارداد جمع کروادی ہے۔
خیال رہے کہ امریکا نے سلامتی کونسل میں مسعود اظہر پر پابندی لگانے کی قرارداد27 مارچ کو پیش کی تھی جس کے منظور ہونے پر مسعود اظہر پر سفری پابندی کے ساتھ ساتھ ان کے تمام اثاثے منجمد ہوجائیں گے۔
اس تنازع پر چینی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ کا کہنا تھا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رہے اور ہمیں امید ہے کہ بھارت اور پاکستان مذاکرات کے ذریعے اپنے باہمی مسائل کا حل نکالیں گے‘۔
خیال رہے کہ 14 فروری کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں فوجی قافلے پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 40 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کا الزام بھارت نے جیشِ محمد پر عائد کرتے ہوئے اس کے سربراہ مسعود اظہر کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا جو پہلے ہیں نظر بند ہیں۔
آدھے پاکستان نے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر کے اندرونی عناصر کی کارروائی ہے جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔
قبل ازیں 13 مارچ کو فرانس نے اقوامِ متحدہ کی 1267 القاعدہ پابندی کمیٹی میں مسعود اظہر پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی تھی جس پر چین نے تکینیکی ہولڈ رکھتے ہوئے سلامتی کونسل میں اس معاملے کو اٹھانے سے قبل مزید مشاورت کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن بھی 1267 کمیٹی کے ذریعے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کا خواہاں ہے لیکن دوسرے آپشنز بھی استعمال کرنے سے گریزاں نہیں۔
چینی ترجمان کا کہنا تھاکہ امریکا کی جانب سے تمام دستیاب مواقعوں کے استعمال کی دی گئی دھمکی کارآمد نہیں ہوگی بالخصوص جب کہ جیشِ محمد کے پلوامہ حملے میں ملوث ہونا ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ چین نے اس مسئلے پر ’تعمیری اور مناسب موقف اپنایا جبکہ امریکا کا اقدام جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے سازگار نہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے