موبائل فون کے بارے میں ….. انشائیہ

موبائل فون کے بارے میں ….. انشائیہ

ڈاکٹر صغیر احمد صغیر

کلینک پہ بیٹھے تھے، فون کی گھنٹی بجی، نمبر unknown تھا،ہم نے بولا السلام علیکم جی،دوسری طرف سے آواز آئی:
"کون؟”
ہم نے کہا: بھائی جان، کال آپ نے کی ہے، آپ پھر بھی پوچھ رہے ہو. کووووون.. ہمارا لہجہ ذرا سخت تھا۔
ادھر سے جواب آیا،آپ تو لڑنے پر اتر آئے ہو۔ ہم نے کہا لڑ نہیں رہے ۔ آپ سے گزارش کر رہے ہیں کہ پہلے معلوم کر لیا کریں کہ کس کو کا نمبر ملا رہے ہو۔یہ کہہ کر ہم نے فون بند کر دیا۔
فون بند کرتے ہی وہ لڑکا یاد آ گیا جس کے فون سے ہماری نیند خراب ہوئی۔جب ہم نے فون اٹھایا تو وہ بولا:
"میں سکھر توں مٹھو بولدا پیاں، پھپھو نال گل کرا دیو”.
غصہ آنا لازمی تھا سو ہم بولے: ” بھائی میں کوڑا بولدا پیاں. تیری پھپھو میرے کول کوئی نئیں. کسے ھور کولوں پُچھ”.
ایک بار کال آئی تو ہمارے بولنے سے پہلے ای کوئی خاتون بولی: سنو، مجھ سے غلطی ہو گئی۔اب بس بھی کرو جانوں مان بھی جاؤ،اور کتنا تڑپاؤ گے۔اس کی آواز میں اتنا کرب تھا کہ بس.. (اسے کیا معلوم کہ ایک انجان بلاوجہ تڑپ رہا ہے۔ رشک اور حسد کی آمیزش سے،اسے کیا معلوم کہ ایک نامعلوم بندہ کیا کیا سوچ رہا ہو گا……اور دل سے آوازیں آ رہی ہیں… دھاڑ وووووو)،آخرکار ہم نے بول دیا کہ آپ کون ہیں اور کس کو فون کیا آپ نے؟ ردعمل میں فون کال بند،ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات آپ کے ساتھ بھی پیش آتے ہوں گے۔
ہم سوچتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ شاید گفتگو کے آداب سے بالکل نابلد ہے۔خاص طور پر فون کے آداب تو ہمیں یکسر نہیں آتے۔بسا اوقات اچھا خاصا پڑھا لکھا آدمی کال کرے گا اور شرارتی سے لہجے میں کہے گا: ہیلو!پہچانا؟
ہم نے کبھی بھی فون پر آواز سے پہچاننے کی کوشش نہیں کی،اس لیے اکثر ہمارا جواب ہوتا ہے،سوری سر،مہربانی ہوگی اگر نام بتا دیں تو،اس پر تو اکثر دوست ہم سے رُس (روٹھ) جاتے ہیں،اس وقت تو ہمارے stress کے ہارمونز ہمارے خون میں پڑھکنا شروع کر دیتے ہیں جب کوئی میسج کر کے کہے: (ہیلو، پہچانا؟ ”
بات یہیں ختم نہیں ہوتی،فیس بک نے تو انتہا ای کر دی ہے،Friend Request آتی ہے،پروفائل دیکھیں تو ایک خوبصورت دوشیزہ کی تصویر لگی ہوتی ہے، اگر میسج کر کے پوچھیں تو جواب ملتا ہے: پہچانیں ناں.
ان دوشیزاؤں میں سے 80 فیصد کوئی نہ کوئی چھیدا یا بھاء محمد طفیل نکلتا ہے،اکثر ids سے آئی friends requests کو دیکھتے ہی غصہ آ جاتا ہے جس پر پھوہڑ قسم کے نام ہوتے ہیں مثلاً
baba ki ladli.
Ziddi bacha;
Gandi bachi;
Mental kaka;
Sohna munda;
Awara larka;
Azaad bachi; etc etc.
ارے پیارے لوگومارک زکربرگ نے اگر تمہیں رابطے کی یہ سہولت فرہم کر ہی دی ہے تو تھوڑی سی تمیز ہی سیکھ لیں۔بھلا ہمیں یہ لیڈر تو سکھانے سے رہے جو پارلیمان میں بھی غیر پارلیمانی زبان استعمال کرتے ہیں۔ایک پارلیمانی ممبر ایک خاتون کو ٹریکٹر ٹرالی کہہ دیتا ہے۔ (یہ بھول کر بھی کہ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے) ایک لیڈر (عابد شیر علی) کہتا ہے. "تینوں ڈنڈا چائیدا اے،ڈنڈا دیواں تینوں؟”۔اس طرح کی غیرپارلیمانی زبان شیخ رشید نے بھی بینظیر بھٹو کے لیے استعمال کی تھی (جب موصوف ن. لیگ کےactive ممبر جانے جاتے تھے.
آ،جا کے رہ جاتے تھے دینی جماعتوں کے سیاسی رہنما،ان کا image تباہ کرنے میں رضوی صاحب نے اپنا بھرپور کردار ادا کر دیا جب کہتے ہائے گئے: pen di siri. ماں دی…… اور اسی طرح کا اور بہت کچھ،
اس لیےخواتین و حضرات ہو سکے تو خود ہی گفتگو کو میٹھا کرنے کی کوشش کریں، آپ کسی سے شیریں الفاظ سے بول کر تو دیکھیں،اگر احترام دس گنا یعنی multiply ہو کر نہ ملے تو جو چور کی سزا وہ مجھے قبول.. آزمائش شرط ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے