نُور شاہ اسٹیشن اور بیساکھ میں سنہری کنکاں

عرفان شہود کی خوبصورت تحریر

نُور شاہ اسٹیشن اور بیساکھ میں سنہری کنکاں

عرفان شہود


گندم کے نیم سنہری خوشے مضافات کی پگڈنڈیوں کے ساتھ کھیتوں میں لہلہاتے ہیں۔جیسے دراز قد نینوا کی دیویاں اپنے کانوں میں سونے کی چمکتی جھالریں لٹکائے چل رہیں ہوں۔ہر سِٹے میں انسانی بقا کا گُودا بھرا ہوا ہے۔اِن سِٹوں کے نرم اور ملائم ریشے دیوسائی کے میدان میں اُگی گھاس کی مانند مہکتی ہواوں سے تیرتے دکھائی دیتے ہیں۔دانوں سے بھرے گچھے مرکزی تِیلے سے چِپک کر جھولتے ہیں۔جب فصل پک جاتی تو یہی نرم و ملائم ریشے سخت نوکیلے ہو جاتے ہیں۔گویا تیغ بردار محافظ اناج کی حفاظت پر معمور ہوں۔ہر دانے کے خول کے اوپر کلغی جیسا تاج ہوتا ہے۔اِن پانچ مہینوں کے دوران تمام فصل دوست اور دشمن کیڑے دھیرے دھیرے کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں سِوائے لیڈی بگ کے۔یہ کیڑا اپنے سیاہ دانے دار سُرخ پروں سمیت گندم کی فصل کے اندر پیش قدمی جاری رکھتا ہے اور فصل دشمن کیڑوں کا چُن چُن کر خاتمہ کرتا ہے۔اور جب درانتی فصل کو وساکھی کے دِن کاٹتی ہے تو سب رازدان کیڑے اُڑ جاتے ہیں۔اِن کیڑوں کو قدرت نے کئی راز بتا رکھے ہوتے ہیں۔جو صرف فصل تباہ کرنے والے کیڑوں کے خاتمے پر ہی آشکار ہوتے ہیں۔یہ دوست کیڑے اگلے برس پھر سے اِن فصلوں کی حفاظت کے لیے اُترتے ہیں۔

وساکھی کا تہوار پنجاب کے دوردراز علاقوں میں منائے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔مسحور کُن مہک فضاوں میں بِکھرتی ہے۔کسی میلے کی تیاریوں کے امکانات کا پتہ مِلتا ہے۔دہقان اِن دنوں اپنے دل میں شکرانے کی تسبیح کرتے ہوئے آسمان کی جانب دیکھتے ہیں۔گاوں کے موچی، نائی، لاگی،نائین مراثی، کمہار، مزارعے اپنے مالک کی طرف آس بھری نظروں سے التجا کرتے ہیں کہ اس بار فصل کے اُٹھنے پر اُن کو سال بھر کی اضافی گندم عطا کی جائے ۔یہی اُمید کی زنجیر اِن کرداروں کو سال بھر اپنے چوہدری کی خدمت پر باندھے رکھتی ہے۔
وساکھی کا تہوار اگرچہ داخلی سطح پر تہذیبوں کے بدلتے رجحانات کی لپیٹ میں آکر دم توڑ رہا ہے۔مگر کہیں کہیں یہ روایات پوری آب و تاب سے قائم ہے۔گھروں میں شوربہ تیار ہوتا ہےاور تندوروں کی روٹیاں چھابوں میں رکھ کر اچار کے ساتھ کھائی جاتیں ہیں۔اور لسی کے گلاس نیم کی ٹھنڈی چھاوں تلے بیٹھ کر پِیے جاتے ہیں۔یہ منگ کی روایت صدیوں پرانی ہے۔چھجوں میں دانے صاف کرکے مٹی یا لوہے کے بھڑولوں میں سال بھر کے لیے محفوظ کِیے جاتے ہیں۔بیاہی جانے والی لڑکیاں اپنے میکے آ جاتیں ہیں کہ کنواری لڑکیوں کی شادیاں عموماً فصل کے بعد رکھی جاتی ہیں ۔کٹائی سے پہلے ہی سنیہا واڈھوں کے گھروں میں دِیا جاتا ہے۔یہ مزدور پہلے سے ہی دب یا پرالی کے رسے وٹ لیتے ہیں۔کسان باردانہ لیتے ہیں۔واڈھے اپنے صبڑ بہت مضبوطی سے بنا کر گندم کی بھریاں باندھتے ہیں۔یہ مزدور اپنی دستی کٹائی کی درانتیوں کو لوہار سے تیز کروا لیتے ہیں اور کٹائی کے دن خوب محنت سے اپنے حِصے کی فصل کاٹتے ہیں۔اب جدید دور میں اکثر کٹائی ہارویسٹر سے کی جاتی ہے۔تھریشر لگنے کے دن گہائی کی جاتی ہے۔گٹھے ایک بڑی جگہ بھریوں کی شکل میں رکھ کر تھریشر لگائی جاتی ہے۔تڑپال رکھ کر اُس پر دانوں کی ڈھیری لگائی جاتی ہے۔بچے اپنی اپنی رِڑی لینے پہنچ جاتے ہیں۔اور پرندوں کی بھوکی ڈار اُتر کر خوشہ چیں کی مانند اپنا رزق چُنتی ہے ۔خوشحالی کے بیوپاری بھاو کرکے فصل کا کچھ حِصہ خرید لیتے ہیں ۔رزق بانٹنے والے فرشتے کٹائی کے دِن خاصے مصروف رہتے ہیں۔فصلوں کے عین بیچوں بیچ کچی مٹی سے تعمیر کردہ مسجد بھی بنوائی جاتی ہے۔جس میں کسان اور مزدور مِل کر نماز پڑھتے ہیں اور رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔

دوسری طرف مکئی کے کھیتوں میں حاملہ پودے دکھائی دیتے ہیں۔اگرچہ اُن کی گود ابھی ہری نہیں ہوئی اور اُن کی کُچھڑ میں ابھی چھلیوں کے کچے دودھیا بچوں نے خدوخال ظاہر نہیں کِیے مگر ایک اُمید سے ہریاول رستہ کُھلتا ہے۔برسیم کے کھیت سحر دم تڑیل سے نہا جاتے ہیں۔شیشم کے درختوں پر پتے اُگتے ہیں اور شہتوت کے میٹھے ذائقے پرندے اور انسان یکساں چکھتے ہیں۔ڈاچی والے گروہ کسی میلے کے نام پر گلی گلی آٹا اور دانے مانگتے ہیں۔کیکروں اور شرینہ کے پھولوں کے ظاہر ہونے میں ابھی وقت ہے۔البتہ آم کے درختوں پر بُور آنا شروع ہو چکا ہے۔خوشیوں کا چراغ جلتا ہے۔سہیلوں کی نِمی نِمی مسکراہٹیں گھروں سے گونجنا شروع ہو جاتیں ہیں ۔ڈھولک بجتی ہے اور گیت گائے جاتے ہیں ۔مفلسی کے سانپ اپنی کینچلی اُتار کر کسی نئے مقام کی جانب رینگتے ہیں ۔جانور ٹاہلیوں تلے آسن جمائے بیٹھے ہیں ۔کرمجیت سنگھ کے اِن اشعار میں وساکھی کا تہوار کچھ یوں بیان کیا گیا ہے۔
آئی وساکھی
آئی وساکھی آئی وساکھی
خوشیاں نال لیائی وساکھی
سونے رنگیاں کنکاں ہوئیاں
جٹاں خوشیاں دلیں سموئیاں
جد کوئی ڈھول تے ڈگا لاوے
خوشی نکل کے باہر آوے
گبھرو لگدے بھنگڑے پاون
بچے وی خوش ہو ہو جاون
میلے جا جھوٹے پئے لیندے
نہ تھکن تے نہ ہی بہندے
سارا دن کردے من آئیاں
کھان پین دیاں ریجھاں لاہیاں
بچیاں دا من تاں ایہہ چاہوے
وساکھی چھیتی کیوں نہ آوے۔

آج اپریل کے اوائل دنوں کا ایک روشن دِن ہے۔سہ پہر کی تیز دھوپ نُور شاہ اسٹیشن کی پٹریوں ،بنچوں، دیواروں اور چھتوں پر پڑتی ہے۔تو اِکا دُکا مسافر بھی اِس ویرانے کو چھوڑ کر کسی ٹھنڈی جگہ پناہ لیتے ہیں۔یہ اسٹیشن 1924 میں تعمیر کروایا گیا ۔اسے پہلے گریٹ انڈین ریلوے اسٹیشن کہا جاتا تھا۔اِس اسٹیشن کی خاص بات ہے کہ یہ مضافات کے عین وسط میں بنوایا گیا تھا۔اِس کے سامنے درس گاہ ہے اور پچھواڑے میں عبادت گاہیں تعمیر کروائی گئیں ہیں۔گلابی پھولوں کیاریوں میں تقدیس کے ترانے گاتے ہیں۔نلکےکا پانی گھڑے میں بھر کر ایک کنارے رکھا جاتا ہے۔جو پیاسے مسافروں کی پیاس بجھانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔اِس اسٹیشن پر ریل گاڑی رُکتی ہے۔مسافر اترتے ہیں اور کچھ چڑھتے ہیں۔اس اسٹیشن کے گردونواح میں بھی فصلیں تیار ہیں اور کاٹنے والے لوگ بس اشارے کے منتظر ہیں۔اس اسٹیشن کو تقسیمِ ہند کے بعد نور پور کا نام دیا گیا تھا جو ایک مقامی بزرگ تھے۔یہ میلسی اور وہاڑی کے درمیانی علاقہ میں موجود ہے۔ٹرینیں کم ہونے کی وجہ سے اب نہ تو کوئی قُلی ہے اور نہ پلیٹ فارم پر شور ۔
زندگی کے سگنل بدلتا بدلتا یہ ریلوے اسٹیشن ایک دن ویرانی کا کانٹا بدل بیٹھا اور اب اداس آنکھوں سے رات دن زمانے بھر کی آوازیں سُنتا ہے۔
اس اسٹیشن سے کچھ فرلانگ پر ڈاک بنگلہ بھی ہے۔جو کہ 1915 میں تعمیر کروایا گیا تھا۔ملتان ذون کے انگریز افسر نے اس جنگل میں ایک خوبصورت عمارت بنوا کر سرکاری ڈاک بنگلہ کا نام دیا۔اِس عمارت کی دیواروں کو دیمک چاٹ چکا ہے۔صرف الماریاں بِنا لکڑی کے دروازوں کے کھڑی ہیں۔قدیم پیپل ہے جن پر بھوت رہتے ہیں اور کچھ گزرے وقت کی یادوں کی چاپ ہے جو حساس نوعیت کے لوگ اپنے وجدان سے سُن لیتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے