وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : نوید صادق

اردو غزل کے ہر دل عزیز اور معروف شاعر اطہرنفیس جن کا اصل نام کنور اطہر علی خاں تھا، ۲۲ فروری ۱۹۳۲ء کو ٹپل ضلع علی گڑھ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کراچی آن بسے ۔شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ اور ۲۱ نومبر ۱۹۸۰ء کو کراچی ہی میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
قیامِ پاکستان کے بعد سامنے آنے والے غزل گو شعراء میں اطہر نفیس نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی غزل کے بنیادی خد و خال اجاگر کرنے میں ان کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اطہر نفیس کا واحد مجموعۂ غزل ’’کلام‘‘ ۱۹۷۵ء میں شائع ہوا۔ اطہر نفیس کے بارے میں شروع دن سے ایک بڑی غلط فہمی جو پیدا ہوئی وہ آج تک ان کی غزل سے منسوب چلی آتی ہے۔ یہ غلط فہمی ان کی غزل کو محض عشق و محبت کے موضوعات سے منسوب قرار دینا ہے۔ ہمارے ہاں عام قارئین سے ناقدینِ شعر تک اکثر کی رائے یہی رہی اور اگر تھوڑا گھما پھرا کے بات کرنے کی کوئی کوشش نظر بھی آئی تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا گیا کہ اطہر نفیس ہر مسئلے، ہر معاملے کو اپنی محبت، اپنے عشق کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ جو میری سمجھ میں آ سکی… ایک تو ان کی مشہورِ زمانہ غزل جسے فریدہ خانم نے اپنی بے مثال گائیکی سے امر کر دیا، ہے اور دوسرے ان کے لہجے کی کوملتا کہ بظاہر اس لہجے میں تلخیٔ حالات کو سمونا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ لگے ہاتھوں غزل دیکھتے چلیے:

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اُس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا
اِک ہجر جو ہم کو لاحق ہے، تا دیر اسے دہرائیں کیا
وہ زہر جو دل میں اتار لیا، اب اس کے ناز اٹھائیں کیا
پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں، یہ شمعیں بجھنے والی ہیں
ہم خود بھی کسی کے سوالی ہیں، اِس بات پہ ہم شرمائیں کیا
اک آگ غمِ تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو، پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے، ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا، کوئی خواب نہ ہو توبتائیں کیا

لہجے کی کوملتا تک تو بات کسی حد تک درست تسلیم کی جا سکتی ہے لیکن اس میں… لیکن پہلے یہ دیکھنے کی بات ہے کہ آیا یہ غزل جس کو بنیاد بنا کر اطہر نفیس کی غزل کو محض عشقیہ غزل قرار دے دیا گیا، اس حق میں کوئی دلیل بنتی بھی ہے کہ نہیں۔ مجھے اس بات سے قطعی انکار نہیں کہ اطہر نفیس کے ہاں غزل میں دھیمی سلگتی آگ ان کے جذبۂ عشق کی دین ہے لیکن انھیں محض اس موضوع تک محدود کر دینا زیادتی کے مترادف ہے۔ خود اس غزل میں شاعر ذاتی کرب کی کیفیات کو پھیلا کر اس کا دائرہ کار وسیع کرتا محسوس کرتا نظر آتا ہے۔خوابوں کی صورت گری… اب زیادتی ہو گی اگر ہم ان خوابوں کو محض محبوب سے وابستہ کر دیں۔ خوابوں کی عدم موجودگی، آنکھوں کا لہو سے خالی ہونا… جدید عہد کے انسان کے ہاں عدم شناخت اور خالی پن کا نوحہ نہیں تو اور کیا ہے۔ یہی رویہ آگے بڑھ کر کیا صورت اختیار کرتا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

اس شب کا نزول ہو رہا ہے
جس شب کی سحر نہ مل سکے گی
آساں بھی نہ ہو گا گھر میں رہنا
توفیقِ سفر نہ مل سکے گی

خاک اڑاتی نہ تھی اس طرح تو ہوا، اس کو کیا ہو گیا
دیکھو آواز دیتا ہے اک سانحہ، شہر والو! سنو

غالب نظریات و رجحانات کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والے فکرکے نتیجے میں شاعر کے دل میں بے دار ہونے والے خدشات، ممکنہ سانحات اور فکری بے راہ روی مکمل تغزل کے ساتھ ان اشعار میں اپنا جادو جگاتی نظر آتے ہیں۔ معاشرتی و معاشی معاملات اور سب سے بڑھ کر اقدار کی پامالی اورخاتمے کی طرف اٹھتے قدم شاعر کے دل میں موجود ذاتی کرب سے آمیز ہو کر دھیمی لے میں ہمیں اپنے دروں پر دستک دیتی تباہی سے آگاہی دیتے ملتے ہیں۔ یہی باتیں نعرہ باز شعراء کے ہاں بھی مل جاتی ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اُن کے ہاں بلند آہنگی اور شورشرابا غالب آ جاتا ہے اور اطہر نفیس… اطہر نفیس کے ہاں ان موضوعات کے بیان کے وقت بھی ایک سرگوشی کا سا عالم محسوس ہوتا ہے، جیسے کوئی ہمارے کان میں ہمیں ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہا ہو یا پھر اسے ایک طرز کی خودکلامی بھی قرار دیا جا سکتا ہے لیکن یہ خود کلامی ذاتی سے زیادہ اجتماعی رایگانی کا نوحہ ہے۔ اس منزل تک پہنچنا آسان نہیں :

یہ جو راتوں میں پھرتا ہے تنہا بہت ، ہے اکیلا بہت
ہو سکے تو کبھی اس کا بھی ماجرا، شہر والو! سنو
اس کی بے خواب آنکھوں میں جھانکو کبھی، اس کو سمجھو کبھی
اس کو بے دار رکھتا ہے کیا واقعہ، شہر والو! سنو

احساسِ عدم تحفظ، ایک خوف جسے نامعلوم کے خوف سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے، احساسِ مغائرت … جیسے احساسات و جذبات کم و بیش ہر دوسری غزل میں اپنا جادو جگاتے نظر آتے ہیں۔
اطہر نفیس کے ہاں ایک اور رویہ اپنے ہم عصروں سے بالکل جداگانہ صورت میں ملتا ہے اور وہ ہے زندہ رہنے کا جذبہ، زندگی سے نباہ کی خواہش اور پھر کوشش… چند اشعار دیکھیے:

راکھ ہونے میں کیا ملے گا تمھیں
ہاں، اسی آگ سے بنا لو کچھ
سانس لینا بھی اک فریضہ ہے
کارِ ہستی میں جی لگا لو کچھ

اور پھر اس کے بعد :

میں تمھارے الم سمجھتا ہوں
میری سن لو، مجھے سنا لو کچھ

اور یہ سب اس لیے ہے کہ:

عشق کرنا جو سیکھا تو دنیا برتنے کا فن آ گیا
کار و بارِ جنوں آ گیا ہے تو کارِ جہاں آئے ہیں

راہِ وفا میں جاں دینا ہی پیش رووں کا شیوہ تھا
ہم نے جب سے جینا سیکھا، جینا کارِ محال ہوا

لیکن کوئی بھی معاملہ بھی، کوئی بھی صورتِ حال ہو، اطہر نفیس کے ہاں ایک نقاد اپنا کام کرتا نظرآتا ہے۔ یہ نقاد ہمہ وقت ان کی شخصیت کا احتساب کرتا ملتا ہے اور جب معاملات ایک حد سے نکلتے محسوس ہوتے ہیں تو یہ نقاد اجتماعی سطح پر گرفت کرنے لگتا ہے۔ یہ خود احتسابی کا عمل اطہر نفیس کی شاعری میں درپیش صورتِ احوال میں حقیقت سے آشنائی کا ذریعہ بن جاتا ہے:

جو میری روح میں اترا ہوا ہے
میں اُس سے بے تعلق بھی رہا ہوں

خود اپنی وفاؤں میں بھی اغراض کے پرتو
پرچھائیں کی صورت سہی، آتے تو رہے ہیں

اے مجھ کو فریب دینے والے!
میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں

معاملات کچھ کچھ کھلتے چلے جاتے ہیں کہ اردو غزل کی جملہ روایات کی پاس داری کرنے والے اطہر نفیس، اپنی تہذیب سے وابستہ اطہر نفیس فکری سطح پر اپنے پیش رووں سے منفرد راستہ اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ذاتی غم، اجتماعی غم… لیکن اس سب کے باوجود یہ توانا شاعر زندگی کے حسن اور اس کی اہمیت سے نا آشنا نہیں۔ اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ زندگی کی تلخیوں کے ساتھ ساتھ خوشگوار یادوں کو بھی دھیان سے محو نہیں ہونے دیتے:

زخم کھلنے لگے، پھر اُبھرنے لگیں دل کی محرومیاں
یاد پھر تیرے اندازِ دل داریٔ جسم وجاں آئے ہیں

اے عشق! تری ہم راہی میں تھک جائیں تو دم لینے کو
وہ سایۂ زلفِ یار بہت، اس کوچے کی دیوار بہت

وہ نظر آج بھی کم معنی و بے گانہ نہیں
اُس کو سمجھا بھی کرو، اُس پہ بھروسا بھی کرو

دروازہ کھلا ہے کہ کوئی لوٹ نہ جائے
اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ہو

اطہر نفیس کی شاعری پراحمد ندیم قاسمی کی رائے لائقِ توجہ ہے:
’’یہ وہ پہلو دار غزل ہے جس میں شاعر عشق کرتے ہوئے بھی یہ نہیں بھولتا کہ وہ کس عصر میں زندہ ہے اور اس کے آس پاس کیا کچھ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی غزلوں میں اطہر نفیس کی آنکھوں میں آنسو بھی ہیں اور ہونٹوں پر تبسم بھی ہے، اور زندگی کے ان دونوں پہلوؤں کو اپنی شاعری میں سمیٹ لینے کا فن بڑی ریاضت کے بعد آتا ہے۔‘‘

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے