سوسال پہلے۔ ۔ ۔

سانحہ جیانوالہ باغ

سو سال پہلے۔……

حکیم خلیق الرحمان

آج کے دن یعنی تیرہ اپریل کے دن جلیانوالہ باغ میں بیساکھی کا تہوار منانے کے لئے ہندو مسلمان اور سکھ اکٹھے ہوئے تھے یہ بات ہے 1919 عیسوی کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب محبتیں تھیں اور مروت تھی سب اکٹھے تھے اس وقت کی حکومت کی پالیسیوں نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقوام کو بھی اس خدشے سے دوچار کر دیا تھا کہ حکومت وقت کا رویہ دیہی اور شہری عوام میں منافرت پھیلا رہا ہے اور اس خدشے کے پیچھے سول سرونٹ ڈوائیر اور برطانوی فوجی کرنل ڈائیر کی منصوبہ بندی تھی جو واقعی ایسا کرنے کا سوچ رہے تھے اور آہستہ آہستہ اپنے خیالات کو عملی شکل دینے کی خاطر عوام میں پھوٹ ڈلوانے کے درپے تھے۔
بیساکھی آئی تو تمام مسلمان ، سکھ اور ہندو پرامن طریقے سے یکجہتی کے طور پہ جلیانوالہ باغ میں اکٹھے ہوئے۔۔۔۔ان کی تعداد ہزاروں میں تھی جس میں ایک بڑی تعداد بچوں اورعورتوں کی بھی تھی۔ اس موقع پر برطانوی فوج نے غیر مسلح شہریوں پر فائرنگ کر دی جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ یہ عوام پر برطانوی تسلط کا سب سے درد ناک واقع ہے۔ بعد میں بھارتی حکومت نے جلیانوالہ باغ کے مقام پر یادگار بھی تعمیر کی تھی جس پر برطانوی ملکہ الزیبتھ دوئم نے 1997 میں انڈیا کے دورے کے دوران پھول بھی چڑھائے تھے لیکن اس سانحے پر برطانوی حکومت کی جانب سے معافی نہیں مانگی تھی۔ جبکہ اس موقع پر ملکہ کے شوہر شہزادہ فلپ نے ہلاکتوں کے اعدادوشمارمیں مبالغہ آرائی کرنے کا الزام لگایا تھا۔
برطانوی ریکارڈ کے مطابق جلیانوالہ حادثے میں تقریبا 400 لوگ ہلاک ہوئے تھے لیکن حقیقی اعدادو شمارکے مطابق 1000 کے قریب شہری ہلاک ہوئے تھے جب کرنل ڈائیر نے فوجی سازوسامان سے لیس بڑے فوجی لشکر کو نہتے عوام پہ فائر کھولنے کا حکم دے دیا تھا سابق برطانوی وزیراعظم ڈیود کیمرون نے 2013 میں انڈیا کے دورے کے دوران اس واقعے کو انتہائی شرمناک قرار دیا تھا لیکن معافی مانگنے سے گریزکیا تھا اس سانحے کی اہم بات یہ تھی کہ اکٹھے ہونے والے تمام لوگ غیر مسلح تھے اور عوام کا غیر مسلح ہو کر جمع ہونا کسی بھی تخریب کاری کی علامت نہیں سمجھا جاتا۔۔۔۔۔جلیانوالہ باغ کا حادثہ وہ داغ ہے جو قاتلوں کے دامن سے کبھی نہیں دھویا جا سکے گا۔

عدادوشمار کی تصدیق کے لئے این پی ٹی سے استفادہ کیا گیا)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے