بیساکھی میلہ کی رونقیں

لاہور : سکھ برادری کا مذہبی تہوار ‘بیساکھی’ حسن ابدال میں شروع ہوگیا، دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری گورو دوارہ پنجہ صاحب جمع ہوگئے ہیں۔
بیساکھی کے موقع پر مقدس رسم کے طور پر ہر یاتری اپنا ہاتھ پنجے کے نشان پر رکھتا ہے ۔
اس میلے کو بیساکھی کے علاوہ وساکھی بھی کہا جاتا ہے اور سکھ برادری کو خالصہ بھی کہتے ہیں اور ان کا یہ تہوار ان کے شمسی سال کی شروعات میں منایا جاتا ہے۔
انڈیا سے تقریباً 2 ہزار 200 سکھ اس تہوار میں شریک ہونے کے لیے پاکستان پہنچے جبکہ امریکا، کینیڈا، ملائشیا، سے بھی سکھوں کی کثیر تعداد اس تہوار کے لیے ہر سال پاکستان پہنچتی ہے۔
سکھ مذہب کے لوگ بیساکھی کے دن گردواروں میں جمع ہو کر مذہبی عبادت کرتے ہیں، اس دن پیلے رنگ کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے-یہ تہوار ہر سال چودہ اپریل کو منایا جاتا ہے اور دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں کے لیے انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے-
بیساکھی کا تہوار سکھوں کے لیے مذہبی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس دن ان کے دسویں گرو (گروگوبند سنگھ) نے پانچ پیاروں کا امتحان لے کر سکھ مذہب میں ذات پات کے تصّور کو ختم کیا تھا-
اس موقع پر غسل کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ بعض بچے غسل کے بعد دھوپ میں بیٹھتے ہیں۔
بیساکھی سکھ مذہب کا سب سے بڑا اور پرانا تہوار ہے جو ہر سال 13 اور 14 اپریل کو منایا جاتا ہے-
سکھ اس تہوار کے حوالہ سے مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے ہر سال ہندوستان اور دُنیا بھر سے پاکستان آتے ہیں اور اس سال بھی سکھ مذہب کی تین چار سویں خالصہ جنم دن (بیساکھی) کی تقریبات میں شرکت کےلۓ گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں موجود ہیں-
بیساکھی کا تہوار سکھوں کے لیے مذہبی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس دن ان کے دسویں گرو (گروگوبند سنگھ) نے پانچ پیاروں کا امتحان لے کر سکھ مذہب میں ذات پات کے تصّور کو ختم کیا تھا۔
بیسا کھی کے تہوار حوالے سے پنجاب بھر کے شہروں میں میلے منائے جاتے ہیں اور ہر کوئی اپنی عقیدت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتا ہے۔
پنجاب کے کسان بیساکھی کو بطور تہوار مناتے ہیں کیونکہ اس وقت بہار اپنے عروج سے اختتام کی طرف بڑھتی ہے، پھول اپنی خوشبو بکھیر رہے ہوتے ہیں اور آم کے درختوں پر بُور اور کلیوں کی بہتات ہوتی ہے-
—فوٹو: اے پی

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے