چولستانی خواتین کے منفرد پہناوے اور زیورات

رپورٹ : فاروق شہزاد گوہر


صا دق آباد : چولستان کی دیہی خواتین کے پہناوے شہری علاقوں کی خواتین سے الگ اور منفرد ہیں۔ خوبصورت روایتی لباس اور جیولری پسماندہ علاقے کی ان خواتین کی خاص پہچان ہے۔
قدم اور رنگارنگ تہذیبوں کا مرکز چولستان جنوبی پنجاب کے بہاولپور ڈویژن میں واقع ہے جومغرب میں سندھ کے صحرائے تھر سے گلے ملتا ہے تواور جنوب میں بھارتی راجھستان تک پھیلا ہوا ہے ۔


تن پرگھا گھرا چولی، گلے میں سونے اور موتیوں بھرے ہار اور کلائیوں میں چاندی کی چوڑیاں۔ یہ ہیں چولستان کی خواتین کا بناؤ سنگھار۔یہ خواتین جہاں محنت کش ہونے میں اپنی مثال آپ ہیں، وہیں سج دھج میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید نے جہاں چولستان روہی کی خوبصورتی اور رعنائیوں کا تذکرہ کیا ہے وہیں چولستان کی خواتین کے حسن و جمال اور رہن سہن،رسم ورواج کو بھی خاص طور پراپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے-
گھاگھراچولی، ان کا روایتی لباس ہے تو فل بازوؤں تک سفید چاندی کی چوڑیاں خواتین کی خاص پہچان ہیں، جنہیں مقامی زبان میں کڑیاں بھی کہا جاتا ہے۔ چولستان کی کچھ خواتین ناک میں بولی اور پیروں میں پازیب بھی پہنتی ہیں۔
چولستان کے دیہی علاقے کی خاتون کملا بھیل نےقافلہ نیوز ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ زیور ہمارا خاندانی زیور ہوتا ہے اس زیور میں بولی چاندی کے کڑی اورگلے میں ہار جس کو کنٹلا کہا جاتا ہے پہنتے ہیں۔
ایک اور خاتون سمینہ کا کہنا تھا کہ یہ زیور ہم کو ہمارے ماں باپ کے گھر سے ملتے ہیں اور یہ ہمارا سنگھار ہے جسے ہم بہت شوق سے پہنتی ہیں۔
یہ زیورات چولستانی خواتین کو والدین کے گھر سے جہیزمیں ملتے ہیں اس لیے یہ انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔
لیکن قحط سالی کی وجہ سے کہیں خواتین یا تو اپنا زیور فروخت کرچکی ہیں یا پھر پیٹ کی بھوک مٹانے کے لیے گروی رکھ دیا گیا ہے لیکن ان کا زیور،پہناوے اور بنائو سنگھار ہمیشہ سے ایک خاص اور منفرد حیثیت رکھتا ہے۔اب تو صادق آباد،رحیم یارخان،ملتان اور بہاولپور کی شہری خواتین بھی شوق سے چولستان پہناوے پہنتی ہیں-

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے