عہد ساز ادیب جمیل جالبی بھی چلے گئے

ادبی رپورٹر | جمعرات 18اپریل 2019

کراچی : اردو ادب کا معتبر نام، نقاد، ماہرِ لسانیات، ادبی مؤرخ اور جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر جمیل جالبی طویل علالت کے بعد 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
جمیل جالبی کی نماز جنازہ کراچی میں ڈیفنس کی مسجد میں ادا کی گئی اور انہیں بعد ازاں سپرد خاک کردیا گیا۔
معروف ادیب بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر علی گڑھ میں 1929 پیدا ہوئے، ان کا اصل نام محمد جمیل خان تھا۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کی اور 1943 میں گورنمنٹ ہائی اسکول سہارن پور سے میٹرک کیا، جس کے بعد میرٹھ کالج سے 1945 میں انٹر اور 1947 میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
اردو ادب کے صف اول کے صحافی سید جالب دہلوی اور جمیل جالبی کے دادا دونوں ہم زلف تھے، محمد جمیل خاں نے کالج کی تعلیم کے دوران ہی ادبی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا، وہ سید جالب سے بہت متاثر تھے جن کی نسبت سے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ جالبی کا اضافہ کیا۔
قیام پاکستان کے بعد جمیل جالبی اور ان کے بھائی عقیل پاکستان آ گئے اور کراچی میں رہائش اختیار کی۔
بعد ازاں جمیل جالبی کو بہادر یار جنگ ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر کی ملازمت کی پیش کش ہوئی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔
اسکول کی ملازمت کے دوران ہی انہوں نے ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کر لیے اور 1972 میں سندھ یونیورسٹی سے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان کی نگرانی میں قدیم اُردو ادب پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کیا۔
جمیل جالبی 1983 میں کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے، وہ 1987 میں مقتدرہ قومی زبان (موجودہ نام ادارہ فروغ قومی زبان) کے چیئرمین تعینات ہوئے۔اس کے علاوہ جمیل جالبی نے 1990 سے 1997 تک اردو لغت بورڈ کراچی کے سربراہ بھی مقرر ہوئے۔

تصانیف

جمیل جالبی کی سب سے پہلی تخلیق سکندر اور ڈاکو تھی جو انہوں نے بارہ سال کی عمر میں تحریر کی اور یہ کہانی بطور ڈرامہ اسکول میں اسٹیج کیا گیا۔
جالبی صاحب کی تحریریں دہلی کے رسائل بنات اور عصمت میں شائع ہوتی رہیں۔
ان کی سب سے پہلی کتاب جانورستان تھی جو جارج آرول کے ناول کا ترجمہ تھا، ان کی ایک اہم کتاب پاکستانی کلچر:قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ ہے جس کے اب تک 8 ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
جمیل جالبی کی دیگر تصانیف و تالیفات میں تنقید و تجربہ، نئی تنقید، ادب کلچر اور مسائل، محمد تقی میر، معاصر ادب، قومی زبان یک جہتی نفاذ اور مسائل، قلندر بخش جرأت لکھنوی تہذیب کا نمائندہ شاعر، مثنوی کدم راؤ پدم راؤ، دیوان حسن شوقی، دیوان نصرتی وغیرہ شامل ہیں۔
ڈاکٹر جمیل جالبی نے قدیم اردو کی لغت، فرہنگ اصلاحات جامعہ عثمانیہ اور پاکستانی کلچر کی تشکیل بھی ان کی اہم تصانیف ہیں۔
ڈاکٹر جمیل جالبی نے متعدد انگریزی کتابوں کے تراجم بھی کیے جن میں جانورستان، ایلیٹ کے مضامین،ارسطو سے ایلیٹ تک شامل ہیں۔
بچوں کے لیے ان کی قابل ذکر کتابیں حیرت ناک کہانیاں اور خوجی ہیں ان کی تصانیف کو انتہائی شوق سے پڑھا جاتاہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے