نجیب الطرفین

کالم| محمدشجاع الدین

نجیب الطرفین

تحریر: محمدشجاع الدین(سینئر صحافی)

 

ڈی پی ایس میں زیدی صاحب مرحوم اردو پڑھاتے تھے ۔ مجسم اردو تھے ۔۔ سب کچھ گھول کر پلا دیتے ۔۔ نثر کو آسان الفاظ کا لبادہ اوڑھا دیا تو شعر کو معنی و مفہوم کا گلدستہ بنا دیا ۔۔ نستعلیق تھے ۔۔ ہمیں بھی الفاظ کی نشست و برخاست کا چسکا لگا دیا ۔۔ اسکول کے بعد کئی جماعتیں پڑھیں لیکن کسی نصاب کی کتاب سنبھال کر نہ رکھی بجز نہم دہم کی اردو کی کتاب کے جو آج بھی ان کی امانت ہے ۔۔۔ سبق کے ہر صفحے پر ایسی حاشیہ آرائی پھر کسی استاد نے نہیں کروائی ۔ کیا نثر کیا شعر ۔۔ ہر سطر اور مصرعہ پر کوئی متبادل سطر یا پھر موافق شعر ۔۔کہتے

لام نستعلیق کا ہے اس بت خوش خط کی زلف
ہم تو کافر ہیں جو کافر نہ ہوئے اس لام کے

ایک دن کسی سبق میں نجیب الطرفین کا ثقیل لفظ آ گیا جو جماعت میں بیٹھے سب بچوں کے سر پر سے گزر گیا ۔ ترجمہ و مفہوم کا دور چلا تو عقدہ کھلا کہ والد اور والدہ دونوں کا عالی مرتبت خاندان سے تعلق ہونا نجیب الطرفین ہونے کی واحد اور اکلوتی شرط ہے ۔ آسان زبان میں یوں کہیئے کہ نجیب الطرفین ہونے کیلئے ماں اور باپ کا خاندانی ہونا ضروری ہے ۔۔۔ ان وقتوں میں الفاظ کا صرف ترجمہ و تشریح نہیں ہوتی تھی ۔۔ لفظ کا مترادف و متضاد بھی بتایا جاتا تھا ۔۔۔ تو نجیب الطرفین کا متضاد یعنی الٹ انجب بتایا گیا ۔ ہم بچوں کیلئے آئندہ زندگی کی مردم شناسی میں مزید آسانی پیدا کرنے کیلئے بتایا گیا کہ والد اور والدہ کے حسب نسب میں تفاوت یا پھر یوں کہیئے کہ دونوں میں سے کسی ایک کا کم ذات ہونا انجب ہے ۔۔ ان وقتوں میں استاد کا پڑھایا ہی سند تھا ۔۔ ڈی این اے کی سائنس تو آج کی ایجاد ہے ۔۔ زیدی صاحب مرحوم نے سکھایا ہم نے پلے باندھ لیا اور آج تک اسی ترازو پر مردم شناسی کرتے رہے
ہر ماں اپنے بچے کی پرورش میں ادب آداب کا سبق پڑھانا نہیں بھولتی ۔ ماں جی نے بھی بہت کچھ سکھایا ۔۔ کہتی تھیں ہر بچہ اپنے گھر کا نمائندہ ہوتا ہے ۔۔۔ اس لئے بڑوں کے سامنے ٹانگیں پسار کر نہیں بیٹھتے ۔۔ بات بے بات قہقہہ لگانا شریفانہ کام نہیں ۔۔ محفل میں آلتی پالتی مار کر بیٹھنا بے ادبی ہے ۔۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دسترخوان پر کبھی چھچھورا پن نہ دکھاو ۔۔ ہمیشہ اپنی طرف رکھی پلیٹ میں سے کھاو ۔۔۔ دائیں بائیں ہاتھ بڑھا کر کھانا گناہ ہے ۔۔۔ کسی دوسرے کا رزق نہیں چھینتے ۔۔۔ ماں جی کہتی تھیں انہی آداب سے خاندانی ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔۔ ہم نے مردم شناسی کیلئے زندگی بھر یہی پیمانہ اپنائے رکھا اور آج دن تک کامیاب بھی ٹھہرے ۔۔ کیونکہ بھوک اور اشتہا بندے کو اپنے خول سے باہر لا پھینکتی ہے ۔۔ کئی بار پیٹ بھر جاتا ہے آنکھیں نہیں بھرتیں ۔۔ دسترخوان کا میزان دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتا ہے ۔۔۔ یعنی مل بانٹ کر کھانے یا دوسرے کا رزق چھیننے سے نجیب الطرفین اور انجب کی تفریق ہو جاتی ہے ۔۔۔
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا ۔۔ اچھی بری گزر رہی تھی کہ خواجہ فرخ سعید اور دوسرے سینیئر صحافیوں کی گرفتاری کا واقعہ سامنے آ گیا ۔۔ گرفتاری بھی اس لئے کہ اپنی مہینوں کی تنخواہیں کیوں مانگیں ۔۔۔ ایک تو آپ نے نوکری سے نکال دیا اوپر سے واجبات بھی ادا نہیں کر رہے ۔۔۔ اکیلی بیروزگاری کا دکھ کیا کم تھا کہ خون پسینے کی کمائی بھی دبا لی ۔۔۔ بقول بلاول بھٹو زرداری صاحب کے مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے ۔۔ آپ نے پیٹ پر لات مار دی کوئی برا بھلا بھی نہ کہے ۔۔۔ یقین مانیئے میرا معاملہ ان سینیئر صحافیوں کی گرفتاری ۔۔ بیروزگاری یا ان کے واجبات کی عدم ادائیگی کا ہر گز نہیں ۔۔۔ کیونکہ ان احباب کی طرح ہم سب قلم کاروں کے نصیب میں یہی ہے ۔۔ کچھ پہلے کچھ بعد میں ۔۔ ہونا ہم سب کیساتھ کچھ ایسا ہی ہے ۔۔۔ دکھ اس بات کا ہے کہ مجید نظامی مرحوم کا بت ٹوٹ گیا ۔۔ ایک آدرش تھا سو ختم ہو گیا ۔۔ نوائے وقت میری صحافتی درسگاہ تھی ۔۔ میں نے بھی یہاں سے حروف کی تعظیم اور الفاظ کی حرمت کا سبق پڑھا ۔۔ میری نظر میں مجید نظامی بلاشبہ نجیب الطرفین تھے کیونکہ انہوں نے میرا رزق نہیں چھینا ۔۔
سیدی عباس اطہر، وحید قیصر ،توصیف احمد خان ،انور قدوائی ، پروفیسر سلیم جیسے بزرجمہر اسی ادارے کی شان تھے ۔۔ نوجوانوں کی کھیپ میں خان خاناں اسلم خان ، شوخ چنچل ایاز خان،اسلم ڈوگر،جنید سلیم ،سیف سپرا،شیخ اعجاز ،مظہر بخاری۔اسرار غنی اسد ۔۔ الغرض کس کس کا نام لکھوں ۔۔۔ ہم سب خوشہ چینوں میں سے تھے ۔۔۔ہم میں سے کسی ایک کا رزق نہیں چھینا گیا ۔۔۔ معلوم نہیں اب مادیت پسندی چھا گئی یا پھر خاندانی تفاوت نے رنگ دکھا دیا ۔۔ معاملہ عشق اور اس کی سر مستی کا ہوتا تو سفید بالوں کیساتھ اس عمر میں بھی نعرہ مستانہ لگا دیتا ۔۔ یعنی داغ دہلوی کے بقول

پڑا فلک تجھے کچھ دل جلوں سے کام نہیں
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغ نام نہیں

معاملہ رزق کا ہے اس لئے ہوش و خرد سے بیگانہ نہیں ہونا ۔۔ کہنا صرف اتنا ہے کہ بھوک اور اشتہا بندے کو اپنے خول سے باہر لا پھینکتی ہے ۔۔۔ کئی بار پیٹ بھر جاتا ہے آنکھیں نہیں بھرتیں ۔۔۔ دسترخوان کا میزان دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتا ہے ۔۔ یعنی مل بانٹ کر کھانے یا دوسرے کا رزق چھیننے سے نجیب الطرفین اور انجب کی تفریق ہو جاتی ہے تو پھر کیا تنخواہیں نہ دینے والے کمپنی مالکان رزق چھیننے والوں کی فہرست میں نہیں آتے ۔۔

محمد شجاع الدین
12 مئی 2019

نوٹ ۔۔۔۔ الفاظ کے سرے ڈھونڈ رہا تھا کہ سدا مسکراتے رہنے اور پھلجڑیاں چھوڑنے والے دوست اور مشفق بھائی شفیق اعوان کا ایک نوحہ موصول ہوا جسے بعینہ رقم کر رہا ہوں ۔۔۔

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

ہاہا ہا ہا۔۔۔شجاع بھائی اس کے پاس غریب آدمی کے لئے رحم ختم ہو گیا ہے ۔ کل ایک دوست کا فون آیا کہ میرے گھر آئیں فوری اور فون بند ہو گیا۔ اس نے جوپتہ بتایا وہ ایک کچی آبادی کا تھا۔ وہ ہمارے سیاسی مخالفوں میں شمار ہوتے تھے اور خوشحال صحافی تھے ۔ان کے بچے بیکن ہاؤس میں میرے بچوں کے ساتھ پڑھتے تھے۔ عجیب شش و پنج میں پڑ گیا۔ خیر میں چلا گیا۔ گھر گیا تو انہوں نے اسی انداز سے چمکتی آنکھوں سے استقبال کیا اوے ڈیڈی ۔۔۔۔لیکن مجھے ان کا انداز کھوکھلا سا لگا۔ اندر بیٹھا تو کہنے لگے تم یقیناً روزے سے ہوگے کیونکہ تم شاید ابھی مایوس نہیں ہوئے۔ میں نے کہا۔۔۔۔صاحب خیر ہے نا۔۔۔۔میرا اتنا کہنا تھا کہ انہوں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا ہچکیاں بندھ گئیں۔ میں پریشان ہو گیا ۔ میرے اسرار پر بتایا کہ تین دن سے بچوں نے کچھ نہیں کھایا۔ ایک سال سے فارغ ہوں۔ سب اثاثے بیچ چکا ہوں ۔ کوئی ساتھی پلہ نہیں پکڑاتا۔ غیرت کے مارے کسی کو بتاتا بھی نہیں مانگ بھی نہیں سکتا۔ خودکشی کا سوچ لیا ہے۔ ایک مہربانی کرنا میرے بچوں کا پوسٹ مارٹم نہ ہو۔ میں نے انہیں زندگی میں بہت حوصلہ مند شخص کے طور پردیکھا تھا۔ کبھی نماز روزہ نہ چھوڑا تھا۔ بھابی بھی اندر آگئیں۔۔میرا دل دہل گیا کل تک جو حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا تھا آج کس حال میں ہے۔ وہ سفید پوش تھا ہاتھ نہیں پھیلا سکتا تھا۔ خیر مجھ سے جو بن پڑا میں نے فوری طور پر کیا۔ اور وعدہ لیا کہ وہ خودکشی کا نہیں سوچیں گے ۔ شجاع بھائی ان کے ادارے کے مالک کو میں جانتا تھا اسے فون کیا تو اس نے جواب دیا کہ اس طرح کے درجنوں فون آتے ہیں کس کس کی مدد کروں ۔ میں نے کہا اس کے واجبات ہی دے دو۔ جواباً فون بند کر دیاگیا۔ شجاع بھائی یہ خدا بھی اس میڈیا ہاوس کے مالک کا ہے جس کے پاس سب کچھ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے