قومی اسمبلی:جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے آئینی ترمیمی بل کی تحریک منظور

ن لیگ کی مخالفت سے اپوزیشن تقسیم ہو گئی

ویب ڈیسک : پیر 13مئی 2019

اسلام آباد: جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیم بل کی تحریک قومی اسمبلی میں منظور کرلی گئی ۔ جنوبی صوبہ پنجاب بنانے کی تحریک بہاول پورسے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی نے پیش کی۔قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے لیے آئینی ترمیمی بل کی تحریک کثرت رائے سےمنظور کرلی گئی۔ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جنوبی پنجاب صوبہ پر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک پیج پر ہیں۔ تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے اپنے منشور پر عمل کرکے رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اپنی تکمیل کو پہنچے گا۔ کوئی کچھ بھی کر لے سی پیک بن کر رہے گا۔گوادر حملے میں جن اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی حمایت کی، تاہم ن لیگ کی مخالفت سے اپوزیشن تقسیم ہو گئی۔تحریک کی منظوری پر مسلم لیگ ن کے ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا، ان کا مطالبہ تھا کہ بہاولپور اور جنوبی پنجاب 2 صوبے بننے چاہئیں۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے سو روزہ انقلابی پروگرام میں سو روز کے اندر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
23 اپریل کو قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا بل پیش کیا گیا تھا جس کی مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق سمیت ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے بھی بھرپور حمایت کی تھی۔رواں برس کے آغاز پر مسلم لیگ ن نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل بھی جمع کروایا تھا۔ مذکورہ بل میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل ایک میں ترمیم سے بہاولپور، جنوبی پنجاب کے صوبوں کی تشکیل کے الفاظ شامل کیے جائیں۔بل میں کہا گیا تھا کہ بہاولپور صوبہ وہاں کے موجودہ انتظامی ڈویژن پر مشتمل ہوگا جب کہ جنوبی پنجاب صوبہ موجودہ ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژنز پر مشتمل ہوگا اور ترمیم کے بعد ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژنز صوبہ پنجاب کا حصہ نہیں رہیں گے۔یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے بھی پنجاب میں دو صوبے بنانے کی حمایت کی تھی۔
دریں اثنا شاہ محمود قریشی نے کہا سی پیک کے لئے خصوصی سیکیورٹی ڈویژن بنایا ہے،سی پیک کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔
مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی سابق وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پہلا موقع ہے پرائیویٹ ممبر بل سے آئینی ترمیم ہورہی ہے،فاٹا کی عوام کو ان کا حق دیا جائے۔ جس شخص نے فاٹا کا بل موو کیا اس کا تعلق پی ٹی ایم سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو راء کا ایجنٹ کہتے ہیں، اگر ایسا ہے اس کو سزا ملنی چاہیئے،آج اس اہم بل پر وزیراعظم کو ایوان میں موجود ہونا چاہئے تھا۔مولانافضل الرحمن نے مجھے بتایا کہ انہیں فاٹا بل پر شدید اختلاف ہے۔ فاٹا بل پر حکومت اور اپوزيشن کے دستخط ہونے چاہئیے تھے، ملک کے بڑے بڑے مسائل پر بات نہیں ہورہی۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں انتخابات کا اعلان کیا جاچکاہے ۔ میری تجویز ہے کہ بل میں یہ بات شامل کی جائے کہ بل کی منظوری کے 6ماہ بعد وہاں صاف وشفاف انتخابات کا انعقاد کرایا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ ستر سال بعد قبائلی علاقوں میں انتخابات ہورہے ہیں۔ انہیں صاف وشفاف انتخابات دیے جائیں۔ انتخابات پارلیمانی کمیٹی کی نگرانی میں کرائے جائیں۔
شاہد خاقان عباسی کی تقریر کے دوران ہی وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں پہنچ گئے۔
وزیراعظم عمران خان کی موجودگی کے دوران ایوان میں تلخی پیدا ہوگئی ۔ شاہد خاقان عباسی کی تقریر کے دوران شیریں مزاری نے جملہ کسا توسابق وزیراعظم سیخ پاہوگئےاورکہا آپ بات کرلیں میں بیٹھ جاتا ہوں۔ سابق وزیراعظم اپنی نشست پر بیٹھ گئے،اسپیکر نے نو کراس ٹاک کی صدا لگا کر شیریں مزاری خاموش کرادیا۔
شاہد خاقان عباسی نے عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ایوان کو آگاہ کریں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیا معاہدہ طے پایا ہے۔ مہنگائی کا بوجھ ہے ، بے روز گاری بڑھ رہی ہے۔ وزیراعظم ایوان کو اعتماد میں لیں ۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ ہاؤس ملک کے مسائل ڈسکس کرنے کے لیے ہے، یہاں کسی کی زبان بندی نہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہاؤس کو چلانا ہے تو سب کو بولنے کا موقع دیا جئے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جتنی عجلت میں بل لایا گیاہے اتنی عجلت مسائل حل کرنے میں بھی کی جاتی ۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ آج نیب اپوزیشن کو دبانے کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔ رویے میں تبدیلی چاہیے پاکستان کے عوام کے نمائندوں کو یہاں بولنے کا حق دیا جائے ۔ چاہے رات ہوجائے سب کو بولنے کا حق دیا جائے۔
پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے فاٹا کے عوام کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ فاٹا ریفارمز کمیٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے نصیراللہ بابر کی قیادت میں بنائے۔ اسی طرح بے نظیر بھٹو شہید نے بھی فاٹاکے لوگوں کو بالغ رائے دہی کا حق دیا۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آصف زرداری نے فاٹا انگریزوں کے کالے قانون ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام سچے پاکستانی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فاٹا کے لوگوں کو چرکے لگے۔ فاٹا کے عظیم لوگوں نہ صرف پاکستان کی بلکہ دنیا کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کے لیے جنگ لڑی۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا بل پہلے پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں بل پاس کرچکی ہے ۔ سینیٹ میں بھی پیپلزپارٹی کا بل موجود ہے ۔ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے کمیشن بنا تھا۔ مقصدیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغاحسن نے کہا کہ بلوچستان کے اراکین بھی قومی اسمبلی کے نشستیں بڑھانے کے لیے بل لائیں گے توقع کرتے ہیں کہ بلوچ عوام کی آواز بھی سنی جائیگی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تحریک آزادی میں 7سال بعد پاکستان کا وجود میں آگیاتھا۔ 70سال گزر گئے ہیں مگر مسائل جوں کے توں ہیں ۔ ملک ایک نئے عمرانی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ ملک میں نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹ کی ضرورت ہے ۔
اے این پی کے غلام حیدرخان ہوتی نے کہا کہ فاٹا کا لفظ بار بار بولا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کا نام کے پی نہیں ہے خیبر پختنوخوا ہے ، اسے خیبر پختونخوا ہی کہا جائے۔
قبائلی اضلاع سے متعلق آئینی ترمیمی بل بھی آج قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش ہوگا۔
بل کی منظوری کے لئے کم سے کم ایوان میں 2سو 28 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ بل کی پہلی دو ریڈنگز ارکان کی رائے شماری کے ذریعے ہوں گی۔تیسری اور آخری ریڈنگ میں ایوان کی تقسیم کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔
منظوری کے بعد یہ بل چھبیسویں آئینی ترمیم کہلائے گا۔قائمہ کمیٹی قانون کی رپورٹ میں قبائلی اضلاع سے قومی اسمبلی کی نو اور صوبائی اسمبلی کی سولہ نشستیں مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
محسن داوڑ قبائلی اضلاع سے قومی اسمبلی کی بارہ اور صوبائی اسمبلی کی چوبیس نشستوں کے لئے ترامیم پیش کریں گے۔
قومی اسمبلی کے آج کے اجلاسمیں 26ویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری کا امکان ہے۔ ترمیمی بل کو پاس کرانے کے لئے دوتہائیاکثریت درکار ہوگی۔
ارکان قومی اسمبلی کے پی کا حصہ بننے والے سابقہ فاٹا کی نشستیں بڑھانے کے بل پر بحث میں حصہ بھی لیں گے۔ بل منظور ہونےکی صورت میں قومی اسمبلی میں کے پی میں ضم ہونے والے سابقہ فاٹا کے قبائلی اضلاع کی موجودہ 12 نشستیں برقرار رہیں گی۔ خیبرپختون خوا اسمبلی میں صوبائی نشستوں کیتعداد اضافے کے بعد 24 ہوجائے گی۔
یاد رہے چھبیس ویں آئینی ترمیمی بل پر قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز10مئی کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہوا۔ سابقہ فاٹا میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک رکن قومی اسمبلی محسن داوڑکی طرف سے آئی ۔بل پر بحث کا آغازپاکستان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے