جنوبی پنجاب کی صحافت کا بڑا نام رخصت ہوا

حافظ منور ضیا قادری 06مئی 2019 کو صادق آباد میں انتقال کرگئے

صحافت کی ضیاء،حافظ منور ضیاء قادری


تحریر:چودھری محمد اکمل شاہد
(ایڈیٹرانچیف ہفتہ روزہ اخباراکبر)

رب کائنات کا یہ وعدہ ہے کہ ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے لہذا انسان بھی اس اٹل حقیت سے انحراف نہیں کرسکتا ۔دنیا میں آنے والا ہر انسان اپنے اثرات چھوڑ کر جاتا ہے جن میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ یاد رہتے ہیں ایسی شخصیت جب دنیا سے رخصت ہوتی ہے تو عزیز و اقارب سمیت سوسائٹی کے دیگر افراد بھی اسی طرح غم زدہ ہوتے ہیں جس طرح لواحقین ،ممتاز صحافی حافظ منور ضیا قادری کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے جن کی وفات سے پورا شہر سوگوار ہے-
14اگست 1947ء برصغیر کے مسلمانوں کے لئے انتہائی اہمیت کا دن ہے کیوں کہ اس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔اور 14اگست 2010ء جب اللہ تعالیٰ نے مجھے دوسرے بیٹے فیصل اکبر سے نوازہ تو انہی دنوں اخباراکبر کے اجراء کے لئے بھی کوششیں جاری تھیں، میں نے دوستوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ اخباراکبر کی اشاعت کا آغاز بھی 14اگست سے ہی کیا جائے گا۔ لہذا 14اگست 2014کی صبح جناح سپورٹس کمپلکس کے گراؤنڈ میں ایک پُروقار تقریب میں اخباراکبر کا اجرا کیا گیا ،مجھے یہ جان کر انتہائی خوش گوار حیرت ہوئی کہ ہمارے والد اکبر حزیں مرحوم کے دیرینہ ساتھی اور ہمارے محلے دار فرینڈز بک ڈپو کے روح رواں حافظ منور ضیاء قادری(مرحوم و مغفور) کا یوم پیدائش بھی 14اگست 1947ہی تھا، اس سے قبل بھی حافظ منورضیاء قادری سے میری یاد اللہ ہمیشہ رہی اور شہر کے باسیوں کی فلاح کے لئے ان کے اٹھنے والے ہر قدم کے ساتھ ہم بھی ہم قدم رہے ،لیکن بلخصوص 14اگست 2014ء کے دن سے اخباراکبر کے ہر پروگرام ان کی مشاورت سے طے پاتے بلخصوص سالگرہ پاکستان سالگرہ اخباراکبر کی تقاریب میں جیسے ہی کیک کاٹنے کی تقریب منعقد کی جاتی تو حافظ منور ضیاء قادری ،فیصل اکبر مقامی و ڈسڑکٹ انتظامیہ ،عمائدین شہر ،پاکستان اخباراکبر اور اپنی سالگرہ کاکیک کاٹتے ۔ رانا محمد اشرف اور حافظ منور ضیاء قادری کے والد حاجی نعمت علی انتہائی مذہبی شخصیت تھے ، رانا محمد اشرف اور حافظ منور ضیاء قادری کی والدہ ماجدہ بھی انتہائی نیک سیرت خاتون تھیں انہوں نے سینکڑوں بچیوں کو قرآن مجید کی تعلیم دی ۔ قیام پاکستان کے بعد جب چک نمبر 166میں مسجد کی بنیاد رکھی گئی توحاجی نعمت علی مرحوم کو مسجد کی امامت کی ذمہ داری سونپ دی گئی جو حاجی نعمت علی مرحوم نے آخری سانس تک نبھائی حاجی نعمت علی کی وفات کے بعد یہ فریضہ ان کے چھوٹے برخودار حافظ منورضیاء قادری نے انجام دینا شروع کردیا یہاں یہ ذکر کرنا انتہائی اہم ہے کہ مختلف مسالک و مکاتب فکر کے لوگ ہونے کے باوجود بھی چک نمبر 166میں آج تک کوئی دوسری مسجد نہ ہے تما م اہل علاقہ ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں جس کا سہرا یقینا حاجی نعمت علی اور حافظ منورضیاء قادری کے سر جاتا ہے- انہوں نے ہمیشہ مذہبی فرقہ بندی اور فروعی اختلافات کے خاتمے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔ حافظ منور ضیاء قادری جب صبح فجر کی نماز کی ادائیگی کے لیے گھر سے نکلتے تو راستے میں تمام گھروں کے دروازے کھٹکا کر انہیں نماز کی دعوت دیتے۔
حافظ منور ضیاء قادری نے اپنی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے کیا اور ختم نبوت کی تحریک میں اپنا متحرک کردار ادا کیا وہ مدلل اور شائستہ گفتگو کی بدولت دوسروں کے دلوں میں جگہ بنانے کا گُر جانتے تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ تمام زندگی خاندان یا شہرمیں کسی فرد کے ساتھ کبھی کوئی معمولی توتکرار بھی نہیں ہوئی۔ حافظ منور ضیاء قادری صادق آبادکے مدبر ، مدلل ، ادیب ،شاعر ،جامع مسجد کے خطیب ، کالم نگار، بے باک صحافی تھے’مذہبی ،کاورباری ،سیاسی وسماجی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے حافظ منورضیاء قادری کی صحافتی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں، انہوں نے چٹان، حرمت انٹر نیشنل، سنگ میل،روز نامہ پاکستان ،نوائے وقت میں اپنی صحافتی خدمات سر انجام دیں،صحافتی شعبے میں ان کے لگائے ہوئے پودے آج تناور درخت بن چکے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اصلاح معاشرہ کے لئے اپنا قلم اٹھایا ،اگر انہیں استاد صحافت کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ صادق آبادسمیت ملک بھر میں نامی گرامی صحافی ان کے شاگرد ہیں حافظ منور ضیاء قادری صادق آباد کی مثبت صحافت کے علمبردار تھے ، انہوں نے ہمیشہ صاف ستھری صحافت کے فروغ کے لیے اپنا موثر اور سنجیدہ کردار ادا کرتے ہوئے صحافتی دنیا میں نا قابل فراموش خدمات سر انجام دیں۔حافظ منور ضیاء قادری پاکیزہ صاف ستھری صحافت کے امین تھے۔ ہمیشہ مثبت صحافت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کیا ۔ یقینا وہ صحافت کا بہترین ستون تھے۔ صادق آباد کی صحافت میں سلگتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے ان کا کردار بے مثال تھا ۔تمام صحافیوں کے ساتھ ان کا عقیدت و احترام کا رشتہ تھا، حافظ منور ضیاء قادری نئے صحافیوں کے لئے اکیڈمی کی حیثیت رکھتے تھے شہر کی ہر تقریب کی جان سمجھے جاتے تھے جب تک وہ متحرک زندگی گزارتے رہے اس وقت تک چھوٹی بڑی تقاریب کی نقابت کے فرائض بھی سرانجام دیتے آج وہ ہم سے بچھڑ چکے ہیں یقینا ان کی موت صادق آباد کی صحافتی برادری سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے ۔حافظ منور ضیاء قادری مرحوم نے سوگواران میں 2بیٹے محمد عامر اورحافظ عمیر مدثر سمیت 5 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔حافظ منور ضیاء قادری کے نماز جنازہ میں سیاسی ، سماجی ،مذہبی رہنمائوں، تاجر تنظیموں ، وکلا ، ڈاکٹرز سمیت شہریوں کی کثیر تعدار موجود تھی۔اللہ پاک رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں اور اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفی ۖ کی معطر زلفوں کے صدقے ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے