آئی ایم ایف سے معاہدہ , پاکستان کو 39 ماہ میں 6 ارب ڈالر ملیں گے

بجلی مہنگی , ٹیکس بڑھانا ہونگے : آئی ایم ایف سے معاہدہ , پاکستان کو 39 ماہ میں 6 ارب ڈالر ملیں گے , امیروں کیلئے ٹیکس سبسڈی ختم , غریبوں کو ریلیف دینگے : مشیر خزانہ

ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے علاوہ دیگر مالیاتی ادارے بھی 2 سے 3ارب ڈالر قرضہ دینگے ،قرض کم شرح سود پر دیا جائے گا، آئی ایم ایف کی کچھ شرائط ہمارے لئے بھی بہتر ہیں ،یہ آخری پروگرام ہو گا حکومت کو کچھ اشیاء کی قیمتیں بڑھانا ہوں گی ،ماہانہ 300یونٹ استعمال کرنے والے بجلی صارفین پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا ، بینظیر انکم سپورٹ اور احساس پروگرام جیسے منصوبے جاری رکھے جائیں گے ، حفیظ شیخ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف میں مذاکرات کامیاب ہو گئے اور معاہدہ طے پا گیا ، آئی ایم ایف پاکستان کو چھ ارب ڈالر قرض دے گا ، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے علاوہ دیگر مالیاتی ادارے بھی دو سے تین ارب ڈالر قرضہ دیں گے ۔ آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان کو 6 ارب ڈالر 39 ماہ میں قسطوں میں جاری ہوں گے ۔معاہدے پر عمل درآمد آئی ایم ایف کی ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد ہو گا۔ پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کم ہورہی ہے ، پاکستان میں مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے اور پاکستان کو قرضوں کے بوجھ کا سامنا ہے ساتھ ہی پاکستان پر بیرونی ادائیگیوں کا دباؤہے ، پاکستان کو قرضوں کا بوجھ اتارنا ہوگا اور ٹیکس آمدن بڑھانا ہوگی۔ پاکستان آئندہ بجٹ کے خسارے میں 0.6 فیصد کمی لائے گا، ڈالر کی قیمت مارکیٹ کے طے کرنے سے مالی شعبے میں بہتری آئے گی، پاکستان آئندہ 3 سال میں پبلک فنانسنگ کی صورتحال میں بہتری لائے گا، ٹیکسوں کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساں لاگو ہو گا۔ حکومت معاشی اہداف کے لیے ٹیکس وصولیاں بڑھائے گی، حکومت ٹیکس مراعات ختم کرے گی، ٹیکس اصلاحات کے ذریعے ٹیکس نظام کوبہتربنائے گی، پاکستان اخراجات میں کمی کرے گا،پاکستان اہم ترقیاتی منصوبوں پرکام جاری رکھے گا ۔شرح سود میں اضافہ کیا جائیگا ، ڈالر کے مقابلہ میں روپے کاتعین مارکیٹ کریگی۔ ڈالر کا ایکس چینج ریٹ مارکیٹ کے طے کرنے سے مالی شعبے میں بہتری آئے گی ۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی، حکومت غریبوں کی مدد کرے گی، امیروں کی سبسڈی ختم کرنا ہو گی ۔حکومت بے نظیرانکم سپورٹ میں اضافہ کرسکتی ہے ۔ سبسڈی کو صرف غریبوں تک محدودکرناہو گا، ملک میں معاشی ترقی کے لیے اصلاحاتی پروگرام پراتفاق کیاگیاہے ۔ اعلامیے کے مطابق صوبوں کے ساتھ مل کرقومی مالیاتی کمیشن اجلاس میں محاصل کی تقسیم نوپرغورکیاجائے گا۔پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے ، شرح نمو بڑھانے ، شفافیت کے فروغ دینے اور سماجی شعبے کی ترقی کے لیے فنڈ جاری کیا جائے گا ۔ جس کے تحت پاکستان اقتصادی میدان میں اسٹرکچرل ریفارمز متعارف کرائے گئے ۔منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے بھی کام کیا جائے گا ۔ادھر سرکاری ٹی وی کو انٹرویو میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف قرض کم شرح سود پر دیا جائے گا ۔ غریب طبقے کے لیے بجلی مہنگی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ملک میں اسٹرکچرل ریفارمز لائیں گے ۔ جس سے ملکی معیشت بہتر ہو گی اور معیشت سے متعلق دنیا کو بہتر پیغام جائے گا ۔ ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا ۔ مشیر خزانہ نے موجودہ پروگرام کو ماضی کے پروگراموں سے مختلف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں لیے گئے آئی ایم ایف پروگرام میں نقائص تھے ۔ ماضی کے پروگراموں میں اصلاحات کو مدنظر نہیں رکھا گیا ۔ اخراجات کیے گئے ، کئی شعبوں میں استطاعت سے بڑھ کر خرچ کیا گیا ۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت کو کچھ اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھانا ہوں گی ۔بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی تاہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ ماہانہ تین سو یونٹ استعمال کرنے والے بجلی کے صارفین پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور 216 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی ۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس پروگرام جیسے عوامی منصوبے بھی جاری رکھے جائیں گے اور غربت میں کمی کے لیے 180 ارب روپے مختص کیے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی قرضے 90 ارب ڈالرتک پہنچ چکے جس کے باعث آئی ایم ایف پروگرام لینا پڑا۔انشاء اللہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو گا ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہوگی عام آدمی پرزیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ کافی مہینوں کی جدوجہد کے بعد آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ۔آئی ایم ایف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا کام اپنے ممبر ممالک کی مالی مشکلات میں مدد کرنا ہے ۔ جب موجودہ حکومت آئی تو پاکستان 25 ہزار ارب کا قرض دار ہو چکا تھا ۔ پانچ سال میں ایکسپورٹ تقریباً منفی جا رہی تھیں ۔ہماری برآمدات اور درآمدات میں بیس ارب ڈالرکا فرق تھا ۔ نو سالوں میں ہماری ریزور پچاس فیصد گرے ۔ بیرون قرضے 90 ارب ڈالر تک بڑھے ۔ ایسی صورتحال میں کل 12 ارب ڈالرکا خسارہ کا سامنا تھا ۔ ہم خود یہ سب ٹھیک نہیں کر سکتے تھے ۔ آئی ایم ایف کے پاس جانا ناگزیر تھا ۔ مالیاتی پروگرام لینے سے پاکستان کو فائدہ ہوگا ۔ اس سے دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بھی پاکستان مالی مدد حاصل کر سکے گا ۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی شرائط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کچھ شرائط ہمارے لئے بھی فائدہ مند ہیں جیسا کہ حکومتی اخراجات کو کم کیا جائے ۔ خسارے والے اداروں میں اصلاحات لائی جائیں ۔ زیادہ آمدنی والے افراد پر ٹیکس لگایا جائے ۔ یہ سب چیزیں ہمارے حق میں بھی ہیں اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سب تبدیلیاں لانا ہونگی ۔اگر ہم اصلاحات نہیں لائیں گے تو ہمیں اس پروگرام سے کوئی کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا آخری آئی ایم ایف پروگرام اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ہم ان شرائط پر پوری طرح عملدرآمد کرینگے ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے