سندھ میں ایڈز کا مرض بے قابو، ٹھٹھہ میں بھی 5 کیسز سامنے آگئے

ایڈز پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے، عذرا پیچوہو

قافلہ نیوزڈاٹ کام : منگل 14مئی 2019

ٹھٹھہ: خون کی غیر محفوط منتقلی سے سندھ میں ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کی خطرناک رپورٹس سامنے آنے کے بعد ٹھٹھہ میں میں بھی ایڈز کے 5 کیسز سامنے آ گئے۔ٹھٹھہ میں ایچ آئی وی /ایڈز کنٹرول پروگرام کی فوکل پرسن ڈاکٹر ام فروا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 2 خواتین اور 3 مردوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے جنہیں مزید تصدیق کے لیے کراچی کے ہسپتال تجویز کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں ہونے والے ٹیسٹس میں ایک کا نتیجہ منفی آیا جبکہ ایک شخص جو کراچی میں سول ہسپتال گیا وہ بغیر کسی علاج کے فوراً اپنے گاؤں واپس آگیا جبکہ 2 افراد نامعلوم وجوہات کی بنا پر کراچی گئے ہی نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب مریض سے عجلت میں واپسی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ علاج کا طریقہ کار جان کر خوفزدہ ہوگیا تھا اسلیے اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا علاج وہاں نہیں کروائے گا۔
ڈاکٹر فروا کا مزید کہنا تھا کہ ضلع کے مضافات میں رہنے والے زیادہ تر افراد غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں اسلیے اس مریض سمیت دیگر افراد بھی کراچی جانے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔انہوں نے متعلقہ اداروں سے درخواست کی کہ ایچ آئی وی کے مریضوں کو کراچی بھیجنے کے بجائے ان کے گھروں سے قریب علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
دوسری جانب ٹھٹھہ کے ڈسٹرک ہیلتھ افسر ڈاکٹر حنیف میمن نے ضلع میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں صرف ایک کیس سامنے آیا تھااور وہ مریض کراچی میں زیرِ علاج ہے۔

رتو ڈیرو میں مزید 52 افراد ایچ آئی وی پازیٹو

لاڑکانہ: رتو ڈیرو تعلقہ ہسپتال میں خون کے ٹیسٹ کے لیے لگائے گئے کیمپ میں ایک ہزار 984 افراد میں سے مزید 52 افراد میں ایڈز کی تشخیص ہوگئی جس میں سے 44 بچے شامل ہیں۔

سندھ ایڈز کنٹرول کے پروجیکٹ مینیجر ڈاکٹر سکندر میمن نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خون کے ٹیسٹ کا یہ کام 15 دن تک جاری رہا جس کے نتیجے میں سامنے آنے والے کیسز میں 8 خواتین اور 44 بچے جن میں 24 لڑکے اور 20 لڑکیاں شامل ہیں۔

اس ضمن میں سندھ کی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے کمشنر کے دفتر میں ایک اجلاس کی سربرراہی کی جس میں رتو ڈیرو میں جاری صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
خیال رہے کہ یہ علاقہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور ان کی پھوپھی فریال تالپور کے حلقے میں شمار ہوتا ہے۔
دوسری جانب اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) سرتاج جاگیرانی نے بتایا کہ جس ڈاکٹر پر یہ مہلک وائرس پھیلانے کا الزام عائد تھا اس کے بھی ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کی تصدیق ہوگئی۔


ادھر سندھ کی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ سندھ میں موذی مرض ایڈز کے پھیلنے کی تحقیقات کر رہے ہیں، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔سندھ کی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے لاڑکانہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ میں 25 اپریل سے ایچ آئی وی ایڈز پھیلا جس کے بعد یہاں ٹیمیں بھیج دی تھیں جو اپنا کام خوش اسلوبی سے کر رہی ہیں جبکہ یہاں کے اسپتالوں کی حالت میں خود مطمئین نہیں ہوں تو بلاول بھٹو کیسے مطمئین ہوں گے۔عطائی ڈاکٹروں سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ میں 5 سو عطائی ڈاکٹروں کے کلینکس بند کرا دیے ہیں اور جو ڈاکٹرز درست کام نہیں کر رہے ہیں اُن کو بھی شوکاز دے دیا ہے جبکہ ہم عطائی ڈاکٹرز اور سرنجز کا دوبارہ استعمال ختم کرنا چاہتے ہیں اور جلد آٹو لاک سرنجز کا استعمال شروع کر دیا جائے گا۔
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ہمیں ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے مزید فنڈز کی ضرورت ہے جسے نئے بجٹ میں شامل کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں کٹس کی خریداری کے لیے 6 کروڑ روپے کی ضرورت ہے جبکہ اس بجٹ میں لاڑکانہ اور قمبر اسپتال کے لیے بھی پیسے رکھیں گے۔ چانڈکا اسپتال کی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔
انہوں نے کہا کہ رتو ڈیرو اسپتال میں اسکریننگ پر رش کے باعث مزید 6 مقامات پر کیمپ لگائے جائیں گے جبکہ ایچ آئی وی مسئلے میں کسی کا قصور نہیں ہے بس شعور کی کمی اصل مسئلہ ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے