صادق آباد لہو لہو،بینک میں دھماکے سے 21افراد زخمی

کیش کاؤنٹر کے پاس اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دھماکہ ہوگیا،عینی شاہد

 

رپورٹنگ ڈیسک | 16مئی 2019

صادق آباد : سندھ پنجاب بارڈر پر واقع پنجاب کی آخری تحصیل صادق آباد میں ایک نجی بینک میں خوفناک دھماکے کے نتیجے میں 21افراد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ بینک کی عمارت زمین بوس ہوگئی،بینک میں موجود سامان اور فرنیچر تباہ ہوگیا۔دھماکے سے قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔دھماکہ کے ایل پی روڈ پر ہمدانی پیٹرول پمپ کے قریب واقع فیصل بینک میں ہوا۔قومی شاہراہ پر ہونے والے دھماکے کے بعد ہرطرف گروغبار چھا گیا اور سڑک پر گزرنے والے مسافر بھی زد میں آگئے۔

ریسکیو 1122نے 21زخمیوں کو ریسکیو کرکے ٹی ایچ کیو ہسپتال صادق آباد اور شیخ زاید ہسپتال رحیم یارخان منتقل کردیا ہے۔ریسکیو 1122کو دھماکے کی کال دوپہر 12:25منٹ پر موصول ہوئی۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122اور دیگر امدادی ٹیمیں اور سیکورٹی ادارے موقع پر پہنچ گئے ۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ بینک کی عمارت مکمل منہدم ہوگئی جبکہ قریبی دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔بینک سے ملحقہ دکان کی چھت اور دیوار گرنے سے 3افراد ملبے تلے دب گئے جبکہ ہر طرف گردوغبار چھا گیا ۔روڈ اور بینک کے قریب کھڑی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔پمپ پر موجود بس اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی۔بینک میں موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ بینک میں موجود تھا کہ کیشئیر کے کاؤنٹر کے پاس اچانک آگ بھڑک اٹھی اور زوردار دھماکہ ہوگیا جس پر اس نے باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر علاقہ کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ریسکیو اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ملبے تلے دبے افراد کو نکال لیا گیا ہے۔مزید افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ملبے کو ہٹایا جارہا ہے۔چھٹی پر موجود ریسکیو اہلکاروں کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔لوگوں کی بڑی تعداد دھماکے کی جگہ پر جمع ہے تاہم متاثرہ ایریا کو سیل کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق دھماکہ کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے تاہم قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ادھر ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان جمیل احمد جمیل کے احکامات پر شیخ زاید ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔دھماکے کی جگہ پر زخمیوں کا خون اور ملبہ بکھرا پڑا ہے۔ دھماکے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

ٹی ایچ کیو ہسپتال صادق آباد کے ایم ایس ڈاکٹر لیاقت چوہان نے کہا کہ ہسپتال لائے گئے زخمیوں کو فوری طور پر بہتر طبی امداد پہچائی گئی ہے جبکہ شدید زخمیوں کو شیخ زید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
قافلہ نیوز نے فیصل بینک دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی فہرست حاصل کرلی ہے جس کے مطابق زخمیوں میں راشد ولد حنیف، اسماعیل ولد شریف سکنہ آدم صحابہ، اظہر عباس ولد فرہاد سکنہ مظہر فرید کالونی، زاہد ولد غلام عباس سکنہ ٹبہ ظاہر پیر، یعقوب ولد شملہ خان اور محمد عالم ولد غلام قادر کو شیخ زید ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جبکہ تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال صادق آباد میں محمد قاسم، ولد سرور، کاشف ولد علی محمد، عامر ولد جمیل سکنہ عوامی کالونی،جاوید اقبال ولد رشید سکنہ بستی لاڑ،احترام ولد حق نواز سکنہ کبیر والا، معاویہ ولد خلیل سکنہ آرائیں کالونی، شاہد ولد خلیل فیصل بینک، غلام حسین ولد جہانگیر سکنہ عوامی کالونی، عاصم ولد سردار سکنہ عوامی کالونی، محمود علی ولد اللہ دتہ سکنہ غلام رسول کالونی، تنزیل ولد ایوب سکنہ لغاری کالونی، عدنان ولد کمال سکنہ بستی کلواڑ اور غلام فرید ولد عزیز سکنہ مدینہ کالونی کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملنے پر آرپی او بہاولپور بھی صادق آباد پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے ڈی پی او رحیم یارخان،ڈپٹی کمشنر و دیگر افسروں کے ہمراہ دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا۔اس موقع پر سیکورٹی اداروں کے افسروں نے آرپی او کو وقوعہ کے حوالے سے ابتدائی بریفنگ بھی دی۔اس موقع پر آرپی او نے میڈیا کے سوال پر مختصر جواب دیتے ہوۓ کہا کہ دھماکے کی تحقیقات ہورہی ہیں ابھی اس کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

اس موقع پر ڈی پی او عمر سلامت نے صحافیوں کو بتایا کہ بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار دھماکے کی نوعیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔تحقیقات جاری ہیں۔قبل از وقت دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔انہوں نے کہا کہ دھماکہ شدید نوعیت کا ہے جس سے اتنا زیادہ نقصان ہوا ہے۔یہ دھماکہ کس وجہ سے ہوا اس کا تعین کیاجارہا ہے۔تاہم ابھی تک بم دھماکے کے شواہد نہیں ملے۔تحقیقات کے بعد دھماکے کی نوعیت سے آگاہ کردیا جاۓ گا۔ڈپٹی کمشنر جمیل احمد جمیل نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے میں اب تک 19افراد زخمی ہوۓ ہیں جن کو طبی امداد دی جارہی ہے۔زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ زخمیوں کے علاج معالجے کو خود مانیٹر کررہے ہیں۔ابھی تک دھماکے سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صادق آباد دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او بہاولپور سے رپورٹ طلب کرلی جبکہ واقعہ کی فوری تحقیقات کا بھی حکم جاری کر دیا۔عثمان بزدار نے واقعہ کی وجوہات کا تعین کر کے 24 گھنٹے میں رپورٹ وزیر اعلیٰ آفس میں پیش کرنے کا حکم دیا جبکہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔


دھماکے کی خبر شہر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور بڑی تعداد میں شہری جاۓ وقوعہ پر پہنچ گئے۔شہر کی سیاسی سماجی شخصیات نے ٹی ایچ کیو ہسپتال میں داخل زخمیوں کی عیادت کی۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے کی کال 12:25پر موصول ہوئی جس کے بعد دو منٹ میں ریسپانس کرتے ہوۓ ریسکیو اہلکار جاۓ حادثہ پر پہنچ گئے اور 40منٹ میں تمام زخمیوں کو ملبے تلے سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا۔اس دوران موقع پر جمع ہونے والے لوگوں کو ہٹا کر سرچ آپریشن کیا گیا۔8ایمرجنسی وہیکلز اور 30ریسکیورز نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔صادق آباد کے شہریوں نے بروقت رسپانس دیتے ہوۓ انسانی جانوں کو بچانے پر ریسکیو 1122اور سیکورٹی اداروں کے افسروں اور اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
ادھر دھماکے کے اسباب کا تاحال تعین نہیں ہوسکا ہے۔نہ تو یہ سلنڈر دھماکہ ہے اور نہ ہی بینک میں شارٹ سرکٹ کے شواہد ملے ہیں۔ابھی تک انتظامیہ اور پولیس کا حتمی موقف بھی سامنے نہیں آیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے