افتخار چوہدری جیسے ججز کا بھی احتساب ہونا چاہیے، فواد چوہدری

ویب ڈیسک : 18مئی 2019
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوھدری کا شمار سوشل میڈیاپرمتنازعہ بیان دینے کے حوالے سے متحرک سیاستدانوں میں ہوتاہے ۔ فواد چودھری کی طرف سے اعلی عدلیہ میں ججز کے تقرری سے متعلق ایک اہم اور متنازعہ بیان سامنے آیاہے۔
اس مرتبہ فواد چودھری کی طرف سے کہا گیا ہے کہ نالائق جج عذاب بن جاتا ہے اس لیے اعلی عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے لکھا کہ ’’ افتخار چوہدری (سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس) کے صرف دو فیصلوں کے نتیجے میں وکیلوں کو 100 ملین ڈالر فیسیں ادا کرنے کے بعد اب پاکستان کو 1.4 بلین ڈالر کے جرمانے کا سامنا ہے۔‘‘
فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ احتساب ان جیسے ججز کا بھی ہونا چاہئے، نالائق جج ایک بہت بڑا عذاب بن جاتا ہے، اس لیے ججز کے تقرر کا طریقہ بدلنے کی ضرورت ہے۔
افتخار چوہدری سپریم کورٹ کے صرف دو فیصلوں کے نتیجے میں وکیلوں کو 100 ملین ڈالر فیسیں ادا کرنے کے بعد اب پاکستان کو 1.4 بلین ڈالر کے جرمانے کا سامنا ہے، احتساب ان جیسے ججز کا بھی ہونا چاہئے، نالائق جج ایک بہت بڑا عذاب بن جاتا ہے اس لئے ججز کے تقرر کا طریقہ بدلنے کی ضرورت ہے-
واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوھدری کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے حال ہی میں کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا تھا کہ عالمی سطح پر ثالثی عدالتوں میں ریاست پاکستان کو ایک ارب ڈالر جرمانے کا سامنے کرنا پڑ سکتا ہے اور حکومت نے وکیلوں کو انٹرنیشنل فورمز پر 100 ملین ڈالرز فیس ادا کی ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹارنی جنرل نے تجویز دی تھی کہ حکومت ایک ایسا کمیشن تشکیل دے جو ان ذمہ داروں کو تلاش کرے جن کی وجہ سے پاکستان کو عالمی ثالثی فورمز پر مقدمات ہارنے کی صورت میں اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ ان کے مطابق زیادہ تر ثالثی کے مقدمات پاکستان کی عدلیہ کے فیصلوں کی وجہ سے بنائے گئے ۔
اٹارنی جنرل نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستان کو اس وقت عالمی طور پر تین مختلف قسم کے تنازعات پر ثالثی فورمز میں فریق بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک معاہدوں یا کمرشل تنازعات کا ہے، دوسرے عالمی معاہدوں سے متعلق تنازعات ہیں جبکہ تیسرے قومی سلامتی سے متعلق مقدمات ہیں ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے