دریاۓ سندھ میں کشتی الٹنے سے 14افراد ڈوب گئے

2خواتین سمیت 6افراد کی لاشیں نکالی لی گئیں

ویب ڈیسک | ہفتہ 18مئی 2019
کوٹری: دریائے سندھ میں کشتی الٹنے سے 14 افراد ڈوب گئے جس میں سے 6 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انڑپور کے قریب دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے سے 6 افراد جاں بحق جب کہ 8 افراد تاحال لاپتہ ہیں، دریا سے برآمد ہونے والی لاشوں میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق حادثہ مٹیاری ضلع کی حدود میں ہوا ہے، کشتی مٹیاری سے جامشورو ضلع کے علاقے دڑا ماچھی آ رہی تھی اور اس میں خواتین و بچوں سمیت 14 مسافر سوار تھے، تیزہواؤں اور خراب موسم کے باعث کشتی ڈوب گئی اور اس میں سوار افراد لاپتا ہوگئے۔
خبر ملتے ہی مقامی افراد اور پولیس کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت 6 افراد کی لاشیں نکال لیں جب کہ 8 افراد کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کے ہمراہ آپریشن کررہے ہیں تاہم رات کے اندھیرے کے باعث امدادی ٹیم کو مشکلات کا سامنا ہے۔
جامشورو کے ڈپٹی کمشنر فردین مصطفیٰ نےمیڈیا کو بتایا کہ ابتدائی طور پر 6 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع تھی، تاہم ڈاکٹروں نے سی پی آر (مصنوعی طریقہ بحالی تنفس) کے ذریعے 2 کی جان بچا لی۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ کشتی میں سوار 5 سے 6 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے نیوی اہلکاروں کی مدد حاصل کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اندھیرے کے باعث تلاش کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
متاثرین کے حوالے سے فردین مصطفیٰ نے بتایا کہ حادثے کا شکار فیملی دریائے سندھ کے ذریعے مٹیاری سے جامشورو جارہی تھی کہ اس دوران ان کی کشتی الٹ گئی۔
خیال رہے کہ 19 نومبر کو بھی دریائے سندھ میں خیرپور کے مقام پر مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی تھی جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور 3 بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے تھے۔
واقعہ خیرپور میں کچے کے علاقے سگیو میں لاڑکانہ جاتے ہوئے پیش آیا، کشتی میں 20 افراد سوار تھے جن میں سے 15 افراد کو زندہ بچالیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ لاڑکانہ اور نوشہرو فیروز سمیت سندھ کے اکثر اضلاع میں موجود کچے کے علاقوں میں لوگ کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، کچے کے علاقے دریائی علاقے کہلاتے ہیں جو دریا کے کنارے آباد ہونے کی وجہ سے سڑکوں کی تعمیر سمیت دیگر ٹرانسپورٹ اور جدید سہولیات سے محروم ہوتے ہیں۔
ان علاقوں کے زیادہ تر افراد دریا کے راستے کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، جس وجہ سے اس طرح کے حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے