منورضیاء قادری بھی بچھڑگئے!

تحریر:قمرالزمان خاں

منورضیاء قادری بھی بچھڑگئے!

تحریر۔قمرالزماں خاں


کسی شخصیت کااحاطہ کسی ایک آنکھ سے نہیں کیا جاسکتا۔ایک سوچ،ایک جہت،ایک زاویہ نگاہ کسی شخصیت،واقعہ،منظر،حالات، حتہ کہ فکری احوال کے مخصوص دائروں میں بہنے والے چند اوصاف سے کیونکر آگے بڑھ سکتے ہیں اگر جدلیاتی فہم موجود نا ہوتو! ہم میں سے اکثر عمومی طورپر اپنے اپنے فکری تعصبات کی عینک سے ”مخصوص“ مناظر تشکیل دیتے اور اپنے قائم کردہ تاثرپر خود کوہی داد دیکر مخمورپھرتے رہتے ہیں۔اسی کوتاہ بینی کے نرغے میں ہم اپنے گردونواح میں زندہ انسانوں کوایک بھرپور فرد اوراسکے بے پناہ خواص کی بجائے اپنے زاویہ نگاہ کی تنگ نظری کے سپرد کردیتے ہیں۔ یہ بھی عمومیت ہمارے معاشرے کا اہم جزو ہے کہ ہمیں زندہ کی بجائے’ہمیشہ کیلئے بچھڑ جانے‘ والے انسانوں کے خواص نظر آتے ہیں۔ ہماری تنقید خواہ خواص یا پھر خامیوں کے نتائج پر مبنی ہو‘کبھی بھی وجوہات اور پس منظر سے منسلک نہیں ہوتی۔ ہمارے نذیک لوگ یا تو بہت ہی اچھے پیدا ہوتے ہیں یا پھر برے لوگوں کی تمام خامیاں بھی انکی پیدائش سے ہی انکے ہمراہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح ایک انسان کو ارتقائی عمل میں دیکھنے اور ایک انسان کو بے شمار مختلف‘ حتہ کہ متضاد خاصیتوں کے ساتھ دیکھنا ہمارے بس میں نہیں ہوتا۔ ہم توبس اپنے قائم کردہ عنوانات کے تحت لوگوں کو دیکھتے اورفتوؤں سے نوازتے چلے جاتے ہیں۔ ہم زندہ معاشروں میں الگ الگ اور اجنبیوں کی طرح یوں جیتے ہیں کہ ہمیں ساتھ ساتھ رہتے بھی کبھی کسی دوسرے کے وجود کا احساس تک نہیں رہ پاتا، غالباََ بے گانگی ذات‘اب ’بے گانگی سماج‘ میں بدل چکی ہے۔

اگرمیں اپنے بچپن کا منظر چشم تصورمیں لاؤں تو مجھے یکسر ایک مختلف معاشرہ اور سماجی میل تال نظر آتاہے۔سترکی دھائی میں یہی شہر تھا،لوگ ایک جیسے قطعاََ نا تھے،ناہی ایک مسلک،ایک مذہب یا ایک جیسے سیاسی ونظریاتی سوچوں کے حامل تھے۔ رنگ برنگے پرچموں،مختلف پارٹیوں اور طرح طرح کے خیالات رکھنے والے موجود تھے۔ یہ تفاوت آج بھی موجود ہے مگر تب کی سیاسی بیداری اور تحرک کا موازنہ آج کے سیاسی جمود اورزنگ آلود فکری رجحانات سے کرنا قطعی طور پر درست ناہوگا۔
صادق آباد شہر میں جابجاسیاسی پارٹیوں کے دفاترجومطالعہ گاہیں بھی تھے بھرے پرے رہتے تھے۔ہر روز کسی نا کسی سیاسی پارٹی کی پُرجوش ریلی نکلتی۔فکری مجالس باقاعدگی سے ہوا کرتیں۔نوراسلام سرخوں،لبرلوں اور ترقی پسندوں کا مسکن تھا تو عید گاہ،ٹمبرمارکیٹ والا کچہری بازار قدامت پسندوں اور ’ماضی کی سوچوں‘میں واپس جاکر زندگی کے طور طریقے طے کرنے والوں کے ڈیرے تھے۔
جنگ (1971ء)سے پہلے اوربعدکے سالوں میں بھی جب کہ الیکشن ہوئے کچھ وقت بیت چکا تھا‘متنوع سیاسی گرمجوشی یکسانیت سے جاری وساری تھی۔
یقینی طور پر 67-69ء کے انقلاب کے ہچکولے یا آفٹر شاکس جاری تھے۔ مختلف قسم کے ردعمل سماج پر تیرتے نظر آتے تھے۔انقلابیوں کی کئی قسمیں تھیں،وہ جو انقلاب کو(جمہوریت کے چولے میں) آگے بڑھتا محسوس کررہے تھے،بھٹو کو ماؤزے تنگ سے کم ماننے کو تیار نا تھے۔ایسے انقلابی بھی تھے جو ایوبی آمریت کے خلاف چلنے والی تحریک کو سی آئی اے کی سازش کے تناظر میں دیکھنے کی علت سے باہر نہیں نکل پارہے تھے جبکہ چند معدودے انقلاب کو (جمہوری)ردانقلاب کاشکار ہوتے دیکھنے کی بصیرت بھی رکھتے تھے۔ اسی طرح رجعتی اور مذہبی عناصر میں جماعتی شدت پسند بھی تھے اور جمعیت علمااسلام طرز کی نسبتاََ معتدل اور ترقی پسندی کی طرف مائل جماعتیں۔ مگر ان مذہبی جماعتوں اور دائیں بازو کی دیگر جماعتوں کے شعورسے 67-68ء کے انقلابی جھٹکے محو ہونے کو ناآتے تھے، ایک طرح سے یہ جماعتیں سیاسی فرسٹریشن کی کیفیت میں تھیں اور ان کے لئے بھٹو جیسا’سوشلسٹ انقلاب‘ سے جان چھڑانے والا لیڈر بھی ڈراؤنا خواب بن کر رہ گیاتھا۔اگرچہ بھٹو نے مذہبی حلقوں کو خوش کرنے کیلئے بہت سے غیرضروری اقدامات کئے مگریہ سب لاحاصل رہا۔
بھٹو کے خلاف مذہبی پارٹیوں کاجنونی پراپیگنڈہ اسکی حکومت کے خاتمے بلکہ اسکے عدالتی قتل کے بعد تک بھی جاری رہا۔اسی تناظر میں سماجی اور سیاسی زندگیاں بھی اپنے معروض کا پرتوتھیں۔
باوجود نظریاتی تقسیم کے ستر کی دھائی کچھ عجیب سی تھی کہ مخالف سیاسی پارٹیوں کے جلسے جلوسوں میں بھی تمام لوگ ہی شریک پائے جاتے تھے۔شاید یہ چھوٹے سے شہرکی سوشلائیزیشن کا تقاضا تھا،قصباتی یکجہتی تھی یا پھرمخالف پارٹی کانکتہ نگاہ سننے اور سمجھنے کے حوصلے کامظاہرہ ہوتا تھا۔
پیپلز پارٹی سے گہرا تعلق ہونے کے باوجود مختلف سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیوں میں شریک ہونا میرا بھی معمول تھا۔ ایسے ہی ایک جمعیت علماء اسلام کے جلسے میں مولانا منورضیاء قادری نے مجھے اپنی جماعت کے طلبہ ونگ کی تربیتی نشست میں آنے کی دعوت دی۔میں نے ان کے حکم پر دوتین اجلاسوں میں شرکت بھی کی۔یہ میرا ان سے پہلا تعلق تھا جو پھر تمام تر نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود زندگی بھررہا۔

منورضیاء قادری ایک شعلہ بیان مقررتھے،جلسے کو اپنی گرفت میں لینے کا ہنر جانتے تھے اور اپنی شعلہ بیانی سے ساکت وجامد مجمعے کو متحرک کرنے پر قادر تھے۔ ایسا ہی ایک مظاہرہ میں نے شیخ مطیع اللہ کے چھوٹے بھائی فہیم (جن کو گل خان کہا جاتا تھے) کی افسوس ناک ہلاکت کے بعد مرحوم کے نماز جنازہ کے بعد انکی تقریر کے اثر پذیر ہونے پردیکھا تھا۔فہیم کو مبینہ طور پر سندھ کے شہر کشمور میں وہاں کے وڈیرے سلیم جان مزاری نے قتل کرکے اس کی نعش کو جلادیا تھا۔یہ ایک تکلیف دہ سانحہ تھا جس پر پورا شہر افسردہ تھا۔ مولانا منورضیاء قادری کی پراثرتقریر نے مردہ اور ساکت مجمع کو آتش فشاں بنا کرایسا احتجاج کرایا تھا جس کی بعد ازاں کوئی نظیر نہیں ملتی۔
بھٹو مخالف تحریک میں بھی منورضیاء قادری ہر جلسے کے اہم مقررہوا کرتے تھے۔جمیعت میں انکے قریبی ساتھی میاں اجمل،میاں نسیم،علی محمدچوہدری،حاجی حق نوازہواکرتے تھے۔ مولانا جمعیت علماء اسلام کا سرمایہ تھے مگر بدقسمتی سے جماعت میں دھڑے بندی نے مخلص کارکنوں کو بہت مایوس کیا،جب جمعیت دودھڑوں میں تقسیم ہوگئی تو پھر اگرچہ معتدل دھڑے فضل الرحمان گروپ میں شامل ہوگئے مگر پھر انکا روائتی جوش وخروش باقی نارہا،بعدازاں وہ مقامی سیاست میں اپنی پسند کی کسی بھی پارٹی یا امیدواران کی آزادانہ حمایت کرتے رہے۔

مولانا نے اپنی سیاسی زندگی میں کبھی کسی کو دشمن ناسمجھا بلکہ تمام سیاسی کارکنوں کے ساتھ انکا رویہ انتہائی محبت اور پرجوش ہوتا۔ اگرچہ انکا نظریاتی طور پر بالکل ہی مختلف نکتہ نگاہ تھا مگرکئی سال مولانا یوم مئی کے جلسوں میں بطور خاص شرکت فرماتے رہے۔ مولانا صرف سیاسی کارکن ہی نا تھے بلکہ حق تو یہ ہے کہ انکی شخصیت ہمہ صفت تھی۔ وہ علامہ اقبال کے نام سے موسوم ہفتہ وار شعروادب کی محفل کا حصہ رہے،عام طور پر ہر محفل کے آغا ز میں خود تلاوت فرماتے اور بعدازاں حمد اور نعت شریف ضرور پڑھا کرتے تھے۔مولانا کا صحافت کے ساتھ گویا چولی دامن کا ساتھ رہا۔ ان کی زندگی کا بہت بڑا حصہ روزنامہ نوائے وقت کی نمائندگی کرتے گزرا۔

مولانا دبنگ انسان تھے اگرچہ وہ صحافت میں بہت ہی میانہ روی،شائستگی اور توازن کو ملحوظ خاطر رکھتے تھے مگر کسی ساتھی صحافی کی انتہا پسند انہ رپورٹنگ یا مقامی انتظامیہ کے خلاف خبر شائع ہونے پر متذکرہ اتھارٹی کی باز پرس قسم کی گفتگو پر کبھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کیا کرتے تھے۔ ایسے موقعوں پر وہ ایک صحافی کے موقف کو پوری صحافی برادری کا موقف قراردیکر خود کو سامنے کردیا کرتے تھے۔
انہوں نے ہمیشہ اپنے نئے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ وہ اپنے ہمراہ کسی بھی شخص کا بھرپور تعارف کراتے اور اسکی عزت بڑھانے کی بھرپور کوشش کرتے۔مولانا کا انداز دوستانہ گرم جوشی پر مبنی ہوتا۔ وہ اپنے سے چھوٹی عمر کے ساتھیوں کے ساتھ انکی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو کرکے دوست بنالینے کا وصف رکھتے تھے۔ صادق آباد کی صحافت دوپریس کلبوں میں بٹی ہوئی تھی،یہ تقسیم بہت لمبا عرصہ جاری رہی۔اس تقسیم کا خاتمہ بھی مولانا کے ایثار کے باعث ممکن ہوسکا۔ انہوں نے پریس کلب ایک کرنے کیلئے نیشنل پریس کلب کی صدارت سے دستبرداری قبول کی اور کسی عہدے کی تمنا نہیں کی۔مولانا شہری معاملات سے متعلق سرگرمیوں میں عمومی طور پر اہم اور متحرک کردار ادا کرتے۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف ایک جلوس اور میٹینگ کے بعد ”سٹیزن فورم صادق آباد“ کا قیام بھی انہی کی تجویز سے عمل میں لایا گیاتھا۔

مولانا کی سب سے بڑی صفت یہ تھی کہ انہوں نے صحافت کو روزگار نہیں بنایا بلکہ انہوں نے اپنی ساری صحت مند زندگی کاروبارکرکے روزگار کماکر گزاری۔جہاں انہوں نے کسی کی مخالفت‘ برائے مخالفت نہیں کی اور ناہی کسی کی پگڑی اچھالی تو دوسری طرف وہ کسی سے ایک روپے کے بھی رودار نا تھے۔وہ اپنی حلال کی کمائی سے گھر کا چولہا جلانے پر یقین رکھتے تھے،ہم جیسوں کی خاطر تواضع کرتے،عزت واحترام بخشتے اور مختلف موضوعات پر بحث مباحثہ کرتے۔ اپنی جماعتی وابستگی کے جوش وخروش کے مدہم ہونے سے قبل بھی وہ سیاسی رواداری پر یقین رکھتے تھے اور کبھی بھی سیاسی نظریات کو زندگی موت کا مسئلہ نہیں بناتے تھے۔مولانا میں صبر اور برداشت بہت زیادہ تھا،ناخوشگوار حالات پر قابو پانا جانتے تھے۔انکی نشستیں پرجوش،دوستانہ مگر توازن پر مبنی ہوتیں۔ وہ بزرگ تھے مگرانکے ساتھ دوستانہ روابط تھے۔انہوں نے اپنے طرز پرلانے اور سکھانے کی بھرپورکوشش کی،خاص طور پر میرے انداز تحریر کی گرم جوشی اور انقلابی حدت کو کسی طورپر وہ معتدل کرنے کے خواہاں تھے،جس کا بارباروہ اظہار کیاکرتے تھے۔جب میری ادارت میں ”مزدورنامہ‘‘ چھپنے لگا تو مجھے ہدایت کی کہ”اس میں بھاری بھرکم اور ثقیل مضامین نا چھاپنا بلکہ مزدوروں کی خبروں تک محدود رکھنا“،یقینی طور پر یہ ایک صائب مشورہ تھاجس کی بازگشت ”مزدورنامہ“ کی ہر اشاعت کے وقت میرے ذہن میں رہتی اور میری راہنمائی کرتی ہے۔

زندگی کا انت ناگزیر ہے،ہم سے پہلے نہیں رہے اور ہم اور ہمارے بعد والوں نے بھی زندگی گزار کے عدم میں چلے جانا ہے۔ مولانا منورضیاء قادری 5اور 6مئی کی درمیانی رات اس دنیا کو خیر باد کہہ گئے،وہ کچھ سالوں سے علیل تھے۔ میری ان کے ساتھ وابستگی کم وبیش 40سالوں پر محیط تھی،گویا زندگی کا اہم حصہ تھے۔ منورضیاء قادری کی رحلت جہاں پورے شہر کے سیاسی،سماجی،صحافتی حلقوں اور خود ان کے خاندان کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے وہاں میں سمجھتا ہوں گویا میری زندگی کا ایک اہم حصہ مجھ سے چھن گیا ہے۔ان کی جدائی ایک سانحہ ہے جس کا بدل ممکن نہیں ہے۔منورضیاء قادری کی یادیں،باتیں،بحثیں،اختلافات،اتفاقات،لڑائیاں اور محبتیں اب صرف یادوں کی شکل اختیار کرچکی ہیں،ایسی یادیں جو کسی بھی مال ودولت سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے