اپوزیشن کا عید کے بعد حکومت کیخلاف الگ الگ احتجاج کااعلان

’ہم آج بھی کسی کے خلاف نے بلکہ پاکستان کے حق میں جمع ہوئے ہیں۔‘

ویب ڈیسک : اتوار19مئی 2019

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عیدالفطر کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں آل پارٹی کانفرنس (اے پی سی) میں حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی تشکیل دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ افطار پارٹی میں پاکستان کے موجودہ سیاسی، اقتصادی، انسانی حقوق اور دیگر مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’تمام جماعتیں پارلیمان کے اندر اور باہر علیحدہ علیحدہ احتجاج کریں گی‘۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ سلسلہ وار ملاقات اور مذکرات جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی جماعت تنہا پاکستان کے مسائل کا حل نہیں نکال سکتی۔انہوں نے افطار پارٹی میں شریک تمام جماعتوں کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔
نیوز کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ’ملک کے عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہے ہیں۔ اس سے احساس ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کو غریبوں کا کوئی درد نہیں۔ اگر ہماری معیشت ایسی چلتی رہی تو ملک کو بہت نقصان ہو گا۔ ‘بلاول کا کہنا تھا ’ہم آج بھی کسی کے خلاف نے بلکہ پاکستان کے حق میں جمع ہوئے ہیں۔‘افطار ڈنر پر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’آج ہم نے معیشت سے سکیورٹی اور فارن پالسیی، انسانی حقوق بہت سے مسائل پر بات چیت کی۔ ان سب مسائل کا حل بھی مل بیٹھ کر ہی نکالا جا سکتا ہے۔ ‘اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ‘تمام جماعتیں پارلیمان کے اندر اور باہر علیحدہ علیحدہ احتجاج کریں گی’۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی سیاسی جماعت تنہا پاکستان کے مسائل کا حل نہیں نکال سکتی۔ ہمارا احتجاج کا تعلق ہے ہم عید کے بعد ایک مشترکہ لائحہ عمل دیں گے۔ ‘بلاول بھٹو کا کہنا تھا ’میں نے انتخابات کے دوران ہی کہا تھا کہ ہمیں میثاق جمہوریت کو آگے لے کر چلنا ہے۔ پاکستان کی نوجوان سیاسی رہنماؤں اور سیاسی جماعتیں کی رائے لینے کی کوشش کریں گے۔ ‘

میثاق جمہوریت کی بدولت دو سیاسی جماعتوں نے اپنی مدت پوری کی، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ میثاق جمہوریت کا یہ فائدہ ہوا کہ دو جمہوری طاقتوں نے اپنی مدت پوری کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میثاق جمہوریت کا سلسلہ محض ادھر ہی ختم نہیں ہوا بلکہ اس کو اگلے لے کر چلیں گے‘۔
مریم نواز نے کہا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) روایتی سیاسی حریف رہے لیکن ایک دوسرے کے دکھ میں کھلے دل سے شریک ہوتے ہیں۔
انہوں نے میڈیا رپورٹس کی تردید کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ افطار ڈنر میں میری اور بلاول کی پہلی ملاقات ہے۔

’نااہل لوگوں کو اقتدار سونپنے کی وجہ سے ملک مسائل سے دوچار ہے‘

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ نااہل لوگوں کو اقتدار سونپنے کی وجہ سے ملک متعدد مسائل سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6 سے 7 ماہ میں ملک ایسے ’گہرے سمندر‘ میں جاپڑا ہے جہاں سے اسے نکالنے کے لیے تمام جماعتوں کا قومی فریضہ بن گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ بھی اسی طرح کے ڈنر میں شریک ہوجائیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ڈنر میں تمام جماعتوں نے ملک کو درپیش صورتحال اور اقتصادی مسائل پر بات چیت کی۔

’آج کا ہدف حکومت گرانا نہیں تھا‘

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ احتساب کے نام پر انتقام کی جو کوشش کی جارہی ہے یہ آمریت کا حصہ ہوتی تھی مگر آج یہ جمہوریت کا حصہ بن گئی ہے تاہم آج کا ہدف حکومت گرانا نہیں ہے کیونکہ حکومت پہلے ہی گری ہوئی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’آج کا ہدف حکومت گرانا نہیں ہے بلکہ اس کے مقاصد پاکستان کے عوام کے مسائل کو حل کیاجاسکے‘۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ملک چلانے میں ناکام ہوگئی ہے اور عام انتخابات میں جو ہوا اس کا خمیازہ ملک کے عوام بھگت رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے افطار ڈنر میں کوئی بات ذاتی کی اور نہ ہی نام نہاد احتساب کی کی۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’آج پارلیمان میں بات کرنے کی گنجائش نہیں، عید کے بعد مولانا فضل الرحمٰن آل پارٹیز کانفرنس کریں گے جس میں مشترکہ طور پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا‘۔

’اے پی سی کامطلب بیٹھنا اور اٹھ کر چلے جانا نہیں ہوگا‘

نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا کہ اے پی سی سے مراد یہ نہیں کہ وہاں ہم بیٹھیں گے اور اٹھ کر چلے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ عید کے بعد باقاعدہ طور پر اپوزیشن کا اے پی سی ہوگا۔
میر حاصل بزنجو نے کہا کہ اے پی سے ملک میں تاریخی طور پر ایک نئے اپوزیشن اتحاد سامنے آئے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن آج فیصلہ کرلے کہ ہم حکومت کو گرائیں گے تو یہ حکومت نہیں چل سکے گی۔

’موجودہ حالات میں اپوزیشن جماعتیں بیٹھی نہیں رہ سکتیں‘

قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیخ پاؤ نے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ایسی صورتحال میں اپوزیشن جماعتیں بیٹھی نہیں رہ سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور اس ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے اپوزیشن جماعتیں جب اکھٹے ہوں گی تو عوام کو بھی روشنی کی کرن نظر آئے گی۔

گرینڈ الائنس کا مشن

حکومت کے خلاف اپوزیشن ممکنہ طور پر گرینڈ الائنس کے مشن کا آغاز کرنے جارہی ہے جہاں حکومت مخالف تمام بڑی سیاسی جماعتیں آئندہ کی حکمتِ عملی طے کریں گی۔
زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد افطار ڈنر میں مریم نواز کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وفد اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کے مابین ملاقات پریس کانفرنس کے بعد ختم ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے وفد میں مریم نواز کے ہمراہ پارٹی کے نائب صدر حمزہ شہباز، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور پارٹی رہنما پرویز رشید موجود ہیں۔
اجلاس میں جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان، زاہد خان، میاں افتخار حسین کے علاوہ قومی وطن پارٹی آفتاب احمد خان شیر پاؤ، نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو، بلوچستان نیشنل پارٹی کے جہانزیب جمالدینی اور دیگر زرداری ہاؤس میں موجود ہیں۔
علاوہ ازیں پی ٹی ایم کے ممبران قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر بھی بلاول بھٹو کے افطار ڈنر میں شرکت کے لیے زرداری ہاؤس پہنچے ہیں۔جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن قدرے تاخیر سے اجلاس میں شریک ہوئے۔
تاہم افطارڈنرکے شرکانے کارحادثے میں جاں بحق قمرزمان کائرہ کے بیٹے کیلئے دعائے مغفرت بھی کی۔

اہم سیاسی رہنماؤں کی عدم شرکت

زرداری ہاؤس اسلام آباد میں بلاول بھٹو کی کوششوں کے باوجود کچھ اہم نام سیاسی بیٹھک میں شریک نہیں ہوسکے۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ اسفند یار ولی، محمود اچکزئی، سراج الحق اور اختر مینگل نے زرداری ہاؤس میں ہونے والی افطار میں شرکت کی معذرت کی۔
بتایا گیا کہ محمود اچکزئی نے بروقت فلائٹ نہ ملنے اور اسفند یار ولی ناسازی طبع کے باعث سیاسی بیٹھک کا حصہ نہیں بن سکے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی افطار ڈنر میں شریک نہیں ہوسکے تاہم ان کی جگہ وفد کی قیادت لیاقت بلوچ نے کی۔

’خوبصورت تحفہ دینے والا جیل کی کال کوٹھڑی میں بند‘

مسلم لیگ (ن) کا وفد براستہ موٹروے جاتی امرا اور ماڈل ٹاؤن لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔راستے میں مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام دیا جس میں انہوں نے تصویر شائع کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کو یہ خوبصورت تحفہ دینے والے کو جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کر رکھا ہے!‘انہوں نے سوال کیا کہ ’ہے اور کوئی جس کی انتھک محنت اور خدمت کی گواہی پاکستان کا چپہ چپہ دیتا ہو؟ آج ہر چیز وہی ہے مگر ایک نواز شریف کے نا ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا پڑا ہے۔‘

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے