ایران باز آجائے یا پھر ‘خاتمے’ کیلئے تیار رہے،ٹرمپ کی دھمکی

ایران نے جنگ کی تو ختم ہوجائیگا:امریکی صدر کا ٹویٹ

ویب ڈیسک : 20مئی 2019
واشگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں قائم امریکی سفات خانے کے قریب ہونے والے میزائل حملے کے بعد ایران کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کو دھمکانے کا سلسلہ بند کریں یا پھر اپنے ‘خاتمے’ کے لیے تیار ہوجائیں۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ‘اگر ایران لڑنا چاہتا ہے تو یہ ایران کا واضح خاتمہ ہوگا، امریکا کو دوبارہ دھمکی نہ دی جائے’۔
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب کچھ ہی روز قبل ایران پر امریکا کی معاشی پابندیوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے تھے اور واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں بمبار طیارے اور طیارہ بردار جہاز تعینات کردیئے۔
واضح رہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں گرین زون میں قائم سفارت خانے کے قریب راکٹ آکر گرا تھا جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل یحییٰ رسول کا کہنا تھا کہ مذکورہ راکٹ مبینہ طور پر بغداد کے مشرقی حصے سے فائر کیا گیا تھا۔
اس سے قبل فوکس نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ‘خوفناک شو’ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ‘میں نہیں چاہتا کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں اور وہ ہمیں دھمکیاں دیں’۔
گزشتہ روز امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ خلیجی تعاون کی تنظیم کے رکن ممالک، جن میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، کے ساتھ مل کر بین الاقوامی سمندر میں ‘سیکیورٹی پروٹوکول میں اضافہ’ کرے گا۔
واضح رہے کہ یو ایس ایس ابراہیم لنکن ایئر کرافٹ کیرئیر، یو ایس ایس کیارساریج اور دیگر جہاز بحرہ عرب میں موجود ہیں، یہ علاقہ ہرمونز کے قریب خلیج فارس سے منسلک ہے جو تیل کی تجارت کا بین الاقوامی سمندری راستہ ہے۔
گزشتہ روز سعودی حکام نے کہا تھا کہ ہمارا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔سعودی عرب کے حکام کی جانب سے یہ اعلان ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے ملک کی تیل کمپنی پر ڈرون حملے اور متحدہ عرب امارات کے ساحل پر تیل بردار جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان حملوں کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کی کڑی قرار دیا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ ریاض نے تہران کو مذکورہ حملوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جس کی ذمہ داری یمن کے حوثی قبائل نے قبول کی تھی۔تاہم ایران نے ان الزامات کی تردید کی تھی جن پر الزام تھاکہ حملے واشنگٹن کی جانب سے ایران پر لگائی جانے والی معاشی پابندیوں اور اس کے فوری بعد خطے میں امریکی فورسز کی موجودگی کے تناظر میں کیے گئے تھے۔
قبل ازیں سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے خلیجی اور عرب رہنماؤں کو 30 مئی کو مکہ مکرمہ میں طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی جس میں حملے کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے خطے میں نئی جنگ چھڑ جانے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایران جنگ کی مخالفت کرتا ہے اور کوئی بھی یہ گمان نہیں کر سکتا کہ تہران پر حملہ ہوسکتا ہے‘۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ جنگ نہیں ہوگی اور نہ ہی ہم جنگ کے حق میں ہیں‘۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے