تعلیمی اداروں میں امن اور رواداری پر مبنی کلچر کو فروغ دینا ہوگا:صمصام بخاری

ویب ڈیسک : پیر20مئی 2019

لاہور:یونیورسٹی آف پنجاب،یونیورسٹی آف ایجوکیشن اور ادارہ برائے جمہوری تعلیم اینڈ ایڈوکیسی )آیڈیا(کے باہمی اشترا ک سے طلبہ و طالبات میں ’’امن ،رواداری اورسماجی اہم آہنگی‘‘ پر مبنی پینل ڈسکشن سیریز کی یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں ہونے والی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات سید صمصام علی شاہ بخاری نے کہا کہ اس وقت ملک کو امن اور رواداری پر مبنی کلچر کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے مسائل کو طاقت کے بجائے مکالمہ اوربات چیت کی مدد سے حل کریں۔نوجوان اہم طاقت ہیں اوراگر وہ امن او رواداری کو قائم کرنے کی تحریک کا حصہ بن جائیں اور یہ تحریک تعلیمی اداروں سے آگے بڑھے تو یہ ملک امن اور رواداری کا گہوار ہ بن سکتا ہے ۔پاکستان نے انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جو بڑے اقدامات کیے ہیں اس کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مل کر پاکستان کو پرامن او رمحفوظ ملک بنانے کے ایجنڈے کا حصہ بنیں اور یہ اسی صورت میںممکن ہوگا جب ہم دوسروں کے ساتھ اختلافات کو دشمنی میں نہ بدلیں بلکہ مسائل کا سیاسی او رسماجی حل تلاش کریں ۔

ڈاکٹر نظام الدین نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہمیں امن اور رواداری سمیت سماجی اہم آہنگی کو ایک بڑی تحریک کی شکل دینی ہوگی اوراس میں استاد سمیت طالب علم مل کر ایک کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ہمیں تعلیمی نصاب میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانی ہیں کیونکہ اگر ہم نے اپنے تعلیمی نظام کی مدد سے انتہا پسندی کا مقابلہ کیا تو اس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے ۔تعلیمی اداروں کے سربراہان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ایک ایسا سازگار ماحول پیدا کریں جو سب میں سماجی اہم اہنگی کے ایجنڈے کو تقویت دے ۔
مقررین کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی کے مقابلے میں تعلیم اور تربیت کے عمل کو زیادہ فروغ دینا ہوگا۔ تعلیمی تحقیق کی مدد سے ہمیں ایسے معاشرتی مسائل کا احاطہ کرنا ہوگا کہ کیونکر معاشرے میں عدم برداشت کا کلچر بڑھ رہا ہے ۔ ہمیں نوجوانوں کی بڑی راہنمائی کرنا ہوگی اور ان کو قائل کرنا ہوگا کہ وہ طاقت کی بجائے اپنے مسائل کو بات چیت سے حل کریں ۔
پروفیسر ڈاکٹر رئوف اے اعظم نے کہا کہ تعلیمی اداروں کا کام معاشرے میں ایک متبادل بیانیہ پیش کرناہوتا ہے اوراس وقت جو مسائل ہمیں درپیش ہیں اس کے لیے معاشرے میں ایک بڑے مکالمہ کی ضرورت ہے ۔ یہ مکالمہ محض تعلیمی اداروں تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب فریقین کو اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔نوجوانوں کی درست راہنمائی اوران کے بنیادی مسائل کو حل کرکے ہی ہم ان میں امن کی بحث کو آگے بڑھاسکتے ہیں ۔

پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید نے کہا کہ ہم نے تعلیمی اداروں میں امن اور رواداری پر مکالمہ کا آغاز کرکے ایک اچھی بنیاد رکھ دی ہے او راس میں طلبہ کی مختلف سوسائٹیوں کا اہم کردار ہے ۔اگر واقعی ہم نے ملک میں امن کو پیدا کرنا ہے تو اس میں ہمیں تعلیمی اداروں کی سطح پر ایک موثر کام اور حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔ ہم نے ماضی میں نئی نسل کے مسائل پر کوئی زیادہ توجہ نہیں دی اوراس کی نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے نوجوان مثبت سرگرمیوں کے بجائے ایسی سرگرمیوں کا حصہ بنے جو معاشرے میں عدم رواداری کے کلچر کو فروغ دینے کا سبب بنا ۔ یہ ضروری ہے کہ نئی نسل کو امن کا پیامبر بنا کر پیش کیا جائے اوران کو سمجھنا ہوگا کہ دوسروں کے خیالات کو عزت و احترام دے کر ہی ہم ایک ایسا مہذہب معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جو قومی ضرورت ہے ۔
تجزیہ کار اور کالم نگار سلمان عابدنے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو شامل کیے بغیر کوئی بھی ملک یا معاشرہ اپنے لیے امن اور ترقی کے ایجنڈے کو مضبوط نہیں بناسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم نئی نسل کو بنیاد بنا کر اپنا قومی ایجنڈا ترتیب دیں اور اس میں نئی نسل کو زیادہ سے زیادہ مواقع دیں اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں تو نوجوان ترقی کے قومی عمل میں شامل ہوسکتے ہیں ۔
معروف صحافی سلما ن غنی کا کہنا تھا کہ نئی نسل میں جو شدت پسندی بڑھ رہی ہے اس کی وجہ نئی نسل کے مسائل ہیں ۔ ہماری ریاست اور حکومت کو چاہیے کہ وہ نئی نسل سے جڑے ہوئے سیاسی , سماجی اور معاشی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اپنا ایجنڈا بنائے۔ نئی نسل میں اس سوچ کو اجاگر کرنا ہوگا کہ ہمیں اپنے مسائل طاقت کی بجائے مکالمہ یا بات چیت کی مدد سے حل کرنے ہونگے او رہر اس اقدام کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جو معاشرے میں ایک دوسرے کے بارے میں عدم برداشت کا کلچر پیدا کرے ۔یونیورسٹی آف ایجوکیشن لوئرمال کیمپس کے آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں علمی و ادبی شخصیات،سینئر صحافیوں،سوشل میڈیا ایکسپرٹس ،اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے