گھوٹکی:وفاقی وزیرسردارعلی محمد خان مہر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے

ویب ڈیسک: منگل 21مئی 2019
گھوٹکی: وفاقی وزیر انسداد منشیات اور تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان مہر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔خاندانی ذرائع کے مطابق علی محمد خان مہر کو جب دل کا دورہ پڑا تو وہ اس وقت گھوٹکی میں اپنے گھر پر ہی موجود تھے۔
خان پور مہر میں سردار علی محمد خان مہر کے خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ رات انکی طبیعت خراب ہوئی تھی ،مقامی ڈاکٹر کو انکی رہائش گاہ پر بلایا گیا تھا۔مقامی ڈاکٹر کے مطابق سردار علی محمد خان کو دل کا دورہ پڑاہےجس کی بنا پر حرکت قلب بند ہونے سے ان کی وفات ہوئی ہے۔سردار علی محمد خان مہر کے انتقال پر سوگ میں ضلع گھوٹکی کی تحصیل خان پورکی تمام مارکیٹیں بند کردی گئی ہیں۔ لوگوں کی بہت بڑی تعداد علی محمد خان مہر کی رہائش گاہ پر تعزیت کے لیے پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ سردار علی محمد خان مہرپرویز مشرف کے دور میں سن 2002ء سے 2004ء تک سندھ کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔

یاد رہے رواں سال 2اپریل کو پاکستان تحریک انصاف کےرہنما اور وفاقی وزیر نارکوٹکس کنٹرول سردارعلی محمد مہر کے گھر میں گھسنے والے مسلح ملزموں نے انہیں سر پہ وزنی چیز مار کر زخمی کردیاتھا ۔ وفاقی وزیر کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیاتھا۔
ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ سندھ سر پہ بٹ لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیفنس فیز فور میں ڈکیت گروہ علی محمد مہر کے گھر میں داخل ہوا تھا جس نے مزاحمت کرنے پہ انہیں زخمی کردیا۔ ایک سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکوؤں نے فائرنگ نہیں کی۔

سردار علی محمد خان مہر نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 205 سے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔کامیابی کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کرلی تھی، تاہم وزیراعظم عمرن خان نے انہیں کابینہ میں شامل کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات کا قلمدان سونپا گیا۔

سردار علی محمد خان مہر نے پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں 2002 میں حصہ لیا تھا جہاں انہوں نے این اے 201 گھوٹکی سے متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے غلام رسول کلہوڑو کو شکست دے کر آزاد حیثیت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔
مذکورہ انتخابات میں ہی انہوں نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 6 گھوٹکی سے بھی حصہ لیا جہاں انہوں نے نیشنل الائنس کے امیدوار احسان اللہ خان سندرانی کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی۔
علی محمد خان مہر نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر صوبائی اسمبلی کی نشست اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔وہ دسمبر 2002 میں سندھ کے 25ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، تاہم انہوں نے سیاسی وجوہات پر جون 2004 اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔اس کے بعد 2008 میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی انہوں نے آزاد حیثیت سے حصہ لیا جہاں انہیں ایک نشست پر کامیابی جبکہ ایک میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔سردار علی محمد خان نے 2013 کے انتخابات سے قبل پاکستانی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی جس کے ٹکٹ پر اس نے 2013 میں ہونے والے انتخابات میں این اے 201 گھوٹکی سے کامیابی حاصل کی تھی۔
گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں بھی انہوں نے حصہ لیا، لیکن پیپلز پارٹی کو خیر باد کہنے کے بعد انہوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور این اے 205 سے کامیابی حاصل کی۔

وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیر علی محمد مہر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ عمران خان نے غم زدہ خاندان سے اظہار ہمدردی کی اور مرحوم علی محمد مہر کے ایصال ثواب اور بلندی درجات کی دعا کی۔وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے بھی وفاقی وزیر علی محمد مہر کی وفات پر اظہار افسوس کیا اور اور کہا اللہ تعالی سے دعا ہے اہلخانہ کو غم برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے، اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام دے۔
سابق صدر آصف زرداری نے سردار علی محمد مہر کے انتقال پر اظہار افسوس کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خاندان سے تعزیت کی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے