نئی ہائوسنگ سوسائیٹیز میں گھر بنانے والے ہر شہری کیلئے دو درخت لگانا لازمی قرار

ہر ہاوسنگ سوسائٹی میں گھر بنانے والے شہری 2 درخت لگائے،لاہور ہائیکورٹ

ویب ڈیسک : 21مئی 2019


لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کنٹرول کرنے کے لیے نئی ہائوسنگ سوسائیٹیز میں گھر بنانے والے ہر شہری کیلئے دو درخت لگانا لازمی قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے شیزار ذکا ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، جس میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔
فاضل عدالت نے ہداہت کی کہ ہر ہاوسنگ سوسائٹی میں گھر بنانے والے شہری 2 درخت لگائے، یہ ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ درخت نہ لگانے والی ہاوسنگ سوسائٹی کا این او سی منسوخ کر دیا جائے اور اس کا نقشہ بھی منظور نہ کیا جائے جبکہ تمام فیکٹریوں کو ماحولیات کے تحفًط کے لیے اقدامات کرنے کا پابند بنایا جائے اقر اس حوالے سے پالیسی وضع کر کے پیش کی جائے۔
محکمہ ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ پچھلے پانچ ماہ کے دوران ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر اینٹوں کے بھٹوں اور فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
درخواست گزار نے بتایا پاکستان کے مختلف شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہو رہے لیکن متعلقہ محکمے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، ریائشی علاقوں میں فیکٹریاں بنی ہوئی ہیں، جن کی وجہ سے سموگ پیدا ہوتی ہے اور مختلف بیماریاں ہھیل رہی ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ ماحولیاتی آلودگی کے تدراک کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات کرنے کے احکامات دیے جائیں اور درخت کاٹنے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے