بلوچستان میں سرکاری سرپرستی میں ایران سے پیٹرول اسمگل ہونے کا انکشاف

یکم جون سے پیٹرول کی فی لٹر قیمت میں 7 روپے تک کا اضافہ متوقع

ویب ڈیسک: بدھ 22مئی 2019

کوئٹہ : بلوچستان میں سرکاری سرپرستی میں ایران سے پیٹرول اسمگل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں بلوچستان میں سرکاری سرپرستی میں ایران سے پٹرول اسمگل ہونے کا انکشاف ہوا ۔ اسمگل شدہ پٹرول کی وجہ سے ٹیکسوں کی مد میں 60 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے اسمگلنگ روکنے کے لیے ایف سی اور کسٹمز اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کی سفارش کر دی۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ بارڈر پر لوگوں کا اور کوئی کاروبار نہیں، ان لوگوں کا روزگار بند کر دیا گیا تو ان کو پھر کوئی بندوق پکڑا دے گا۔ جس پر سینیٹر شفیق ترین نے بھی جہانزیب جمالدینی کی تجویز کی حمایت کی۔

 

کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ بلوچستان میں یہ کام سرکاری سرپرستی میں چلتا ہے۔ 04-2003ء میں چیف سیکرٹری بلوچستان نے مجھے تیل اسمگل کرنے کی اجازت دی تھی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کا کہنا تھا کہ کمیٹی اس چیز کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ایف سی حکام نے بتایا کہ اسمگل شدہ تیل پر دس سے پندرہ فیصد ٹیکس ادا کرنے کے بعد یہی تیل قانونی ہو جاتا ہے اور ملک کے دیگر حصوں میں پہنچایا جاتا ہے۔
ایران سے اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے آپریشنل پالیسی اور قانون سازی کی جانی چاہئیے۔ سرکاری سرپرستی میں ایران سے پیٹرول اسمگل کیے جانے کے انکشاف کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے یکم جون سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دے رکھا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈالر اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 7 روپے تک کا اضافہ متوقع ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے