کشیدگی کے بعد امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوج تعینات کر دی

ایران کے عوام کسی دھمکی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔‘حسن روحانی

ویب ڈیسک : 22مئی 2019

واشنگٹن : امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شانن نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات کے بعد مشرق وسطیٰ میں اپنی فوج تعینات کر دی ہے. کانگریس کو ایران کی طرف سے دھمکیوں کے بارے میں بریفنگ کے بعد قائم مقام امریکی وزیردفاع نے کہا کہ ہم نے خلیج میں اپنی فوج تعینات کرکے ایران کو حملوں سے روک دیا.انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری توجہ ایران کی طرف سے غلط فیصلوں پرعمل درآمد اور جنگ کے خطرات سے نمٹنے پر مرکوز ہے.
پیٹرک شانن نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کی طرف سے درپیش خطرات کے تدارک کے لیے کام کر رہی ہے‘ ہمارا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑنا نہیں قبل ازیں انہوں نے کانگریس کو ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بارے میں بریفنگ دی.
جنرل شانن نے مزید کہا کہ ہماری دفاعی تیاریاں ”سد راہ“ ہیں جنگ کے لیے نہیں ہم ایران کے خلاف جنگ کی طرف نہیں جا رہے ہیں‘ صحافیوں سے بات چیت سے قبل انہوں نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ ایک بند کمرہ اجلاس میں بھی ملاقات کی. منگل کے روز امریکی کانگریس نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتے تاہم انہوں نے تہران کے خلاف آخری آپشن کے طورپر فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا.
امریکی قائم مقام وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کی جانب سے شام، لبنان اورعراق میں معاندانہ پالیسیاں جاری ہیں. کانگریس نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ایران کی طرف سے درپیش خطرات کے بارے میں بھی بریفنگ سنی ہے. انہوں نے کہا کہ امریکا ایران پر جنگ مسلط نہیں کرے گا مگر ایران کی طرف سے کسی بھی خطرے کا پوری قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا. رکن کانگرس نے کہا کہ مائیک پومپیو نے یمن اور سعودی پر ایرانی ایجنٹوں کے حملوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی.
یاد رہے ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے سازگار نہیں۔
خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر حسن روحانی نے منگل کو شمال مغربی صوبے آذربائیجان میں ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب کے دوران اپنی تقریر میں کہا کہ حالات بات چیت کے لیے سازگار نہیں اور ایران کے پاس واحد راستہ مزاحمت ہے۔
ان کی جانب یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کی قیادت چاہے تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔حسن روحانی نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا ہے ’تمام تر سیاسی اور معاشی دباؤ کے باوجود ایران کے عوام کسی دھمکی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔‘
انہوں نے کہا ’انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ وہ ایران کی شان و شوکت کو ختم کر سکتے ہیں لیکن مشکلات اور پابندیوں کے دنوں میں نئے منصوبوں کا افتتاح، ہماری جانب سے وائٹ ہاؤس کو پرعزم جواب ہے۔‘ایک اور جگہ اپنے بیان میں حسن روحانی نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ دنیا اور حتیٰ کے امریکی حکام بھی صدر ٹرمپ کے اقدامات کی حمایت نہیں کرتے-

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے