ڈھاہ لگی وَستی،ملک مہر علی کے پنجابی افسانے

تبصرہ : معین نظامی

ڈھاہ لگی وَستی

تبصرہ : معین نظامی

کسی دریا کے پتن کے آس پاس واقع کوئی بستی جابر و قاہر دریا کی زد پر آ چکی ہو اور بد نصیب بستی کے دریا برد ہو جانے کی بنیاد رکھ دی گئی ہو تو اس کے بے بس مکینوں پر کیا گزر رہی ہوتی ہے، اس کی ایک رنج در رنج، حلقہ در حلقہ داستان ملک مہر علی کے پنجابی افسانوں کے اس مجموعے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کتاب میں آنکھوں سے کھل کر نہ بہہ سکنے والے کچھ سلگتے ہوئے آنسو خود رو اور سخت جان لفظوں کی لڑی میں پروئے گئے ہیں، عجیب سے اضطراب و اندوہ نے جس کی شیرازہ بندی کی ہے اور کچھ ازلی آوارہ گرد بَین ہیں جو اس کے ابری جیسے سرورق میں تیرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ نوحے ہیں جن کے سایوں جیسے وجود کی قسمت میں تحلیل ہو جانا لکھا ہی نہیں گیا ہوتا۔

جو معدوم ہوتی بستی ملک مہر علی کی اس کتاب کی مرکزی قصّہ گاہ ہے، ضروری نہیں ہے کہ اس کا کوئی خاص متعیّن خارجی وجود ہو۔ یہ کوئی جاں بہ لب نا مشخّص خیالی بستی بھی ہو سکتی ہے جس کی روشن رہتل تدریجاً جدّت کے فرعونی سانپوں کا کھاجا بنتی جا رہی ہو اور جہاں کی سادہ مگر برکت والی قدریں کسی خوف ناک تہذیبی تصادم کے نتیجے میں چکنا چور ہو کر ملیا میٹ ہونے کو ہوں۔ یہ ہم سب کی بستیوں کی سرگزشت ہے اور ہمارے مشترکہ سماج کی عکس بندی ہے۔ مختلف بے رحم قوتیں ہیں جو زمیں زادوں کے دل و دماغ میں قدروں کی بے ارزشی کا بیج بوتی ہیں، ان کی پامالی کو نسخہء کامرانی ظاہر کرتی ہیں اور پھر انھیں بڑے احترام و تقدس سے معدومیت کی گھاٹی میں دھکا دلوا کر سرخ روئی محسوس کرتی ہیں۔ دھکا دینے والوں کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ خالی ہاتھ اور خالی باطن رہ گئے ہیں۔

ملک مہر علی کہانی کاری کی نئی مہارتوں سے بھی خوب واقف ہیں اور اس کا پرانا ہنر تو ان کے لیے یوں ہے جیسے مچھلی کے جائے کے لیے تیرنا۔ معتدل اور متوازن علامتی افسانہ اگر اساطیر اور لوک کہانیوں کے تار و پود سے بُنا گیا ہو اور اس کے زبان و بیان کے پیرائے اصیل، نجیب، خالص، سادہ، مختصر اور صریح ہوں تو پھر ایسی ہی اثر انگیز تخلیقات ظہور کرتی ہیں۔ قصہ گوئی کی دل نشینی کے ساتھ ساتھ اس کتاب کی مخصوص تہذیبی فضا اور صحت مند زبان اس کی بہت بڑی خوبی ہے۔ دم توڑتی قدروں کے علاوہ ہمارے کیسے کیسے روح افروز الفاظ و محاورات اور حکمت آمیز کہاوتیں ہیں جنھیں معدومی کا خطرہ لاحق ہو چلا ہے۔

Show More

One Comment

  1. محترم السلام علیکم!
    میں محترم معین نظامی صاحب اور قافلہ نیوز کا احسان مند ہوں۔ محترم معین نظامی صاحب کا تبصرہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے