پاکستان نے چین سے کتنا قرضہ لیا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

پاکستان نے سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارت سے 2 ارب ڈالر قرضے وصول کیے

ویب ڈیسک : جمعرات 23مئی 2019
اسلام آباد: پاکستان نے پہلی دفعہ چین سے لیے گئے قرضوں کی تفصیلات جاری کر دیں۔جاری کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان نے موجوہ مالی سال میں صرف چین سے 6 ارب 50 کروڑ ڈالر قرضے وصول کیے جبکہ گزشتہ 10 ماہ میں پاکستان نے مجموعی طور پر 8 ارب 60 کروڑ ڈالر کے قرضے حاصل کیے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دباؤ کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے اسٹریٹجک اتحادی چین سے حاصل کیے گئے تمام تر قرضوں کی تفصیلات جاری کیں۔
دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے اپریل کے دوران حاصل کیے گئے قرضے کراچی کے نیو کلیئر پاور پلانٹ جو کے ٹو اور کے تھری کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ چائنہ سیف ڈپازٹس (ایس اے ایف ای) کے لیے قرضے حاصل کیے گئے۔
اس سے قبل جولائی 2018 میں پاکستان نے چین سے 2 ارب ڈالر ایس اے ایف ای کی مد میں وصول کیے تھے جنہیں اسٹیٹ بینک پاکستان کے کھاتوں میں بھی دکھایا گیا ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارت سے 2 ارب ڈالر قرضے وصول کیے لیکن یہ قرضہ چائینیز سیف ڈپازٹس کے ساتھ ظاہر نہیں کیے گئے۔
پاکستان اپنے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے طویل مدت سے چینی قرض کا سہارا لے رہا ہے مگر یہ پہلی بار ہے جب چین کے مرکزی بینک کے ڈپازٹس وزارت خزانہ کے قرضوں کے اعدادوشمار میں شامل کیے گئے ہیں۔
وزارت خزانہ کے ترجمان ڈاکٹر خاقان نجیب نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی ڈویلپمنٹ بتانے سے گریز کیا جبکہ وزارت خزانے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ قرضوں کی تفصیلات جاری کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی جانب سے کیا گیا۔
مارچ میں چین نے دو تجارتی بینکوں کے ذریعے قرض فراہم کیا تھا جس میں چائنہ ڈویلپمنٹ بینک جس نے 2 ارب 24 کروڑ مختصر وقت کے لیے جبکہ انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنہ (آئی سی بی سی) نے 30 کروڑ ڈالر قرضہ دیا جبکہ چین نے گزشتہ 10 ماہ میں زیر تعمیر نیو کلیئر پاور پلانٹ کے لیے 60 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا قرضہ فراہم کیا۔
چین نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران پاک چائنہ اقتصادی کوریڈور (سی پیک) منصوبے کے دوران مالیاتی اخراجات کی مد میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر فراہم کیے جس میں زیادہ تر ادائیگی سکھر ملتان موٹروے، حویلیاں تھاکوٹ منصوبہ اور لاہور اورنج لائن منصوبے کی مد میں کی گئی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے