جج کو کرسی مارنے کی سزا ساڑھے 18سال قید

سزا کیوں دی؟ وکلا نے پنجاب بھر میں احتجاج کی کال دیدی

ویب ڈیسک : 23مئی 2019
فیصل آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سول جج پر حملہ کیس کے ملزم عمران منج نامی وکیل کو 18 سال 6 ماہ قید کا حکم سنایاہے۔
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سینئر سول جج خالد محمود وڑائچ پر حملے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ اور ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
ضلع فیصل آباد کی پولیس کے مطابق رواں سال 25 اپریل کو جڑانوالہ کی مقامی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران معمولی تلخ کلامی کے بعد ایڈووکیٹ عمران منج نے کرسی اٹھا کر سینئر سول جج کو دے ماری جس سے ان کا سر پھٹ گیا تھا۔اسی روز احاطہ عدالت میں وکلا گردی کے خلاف ججز نے ہڑتال کرتے ہوئے تمام مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی تھی۔
واقعے کے خلاف ججز کی ہڑتال کی وجہ سےسائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاتھا، تاہم بعدازاں پولیس نے ایڈووکیٹ عمران منج کو گرفتار کیا جن کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ساتھی وکیل کے خلاف عدالتی فیصلہ آتے ہی وکلا نے پنجاب بھر میں احتجاج کی کال دے دی ہے۔ پنجاب بار کونسل اور لاہور بار ایسوسی ایشن نےایڈووکیٹ عمران منج کے خلاف انسداد دہشتگردی عدالت فیصل آباد کے فیصلے پر مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
رانا انتظار ایڈووکیٹ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ پنجاب بارکونسل کیجانب ہڑتال کا اعلان آج سے کیا جارہاہے اور یہ ہڑتال کل بھی جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب بار کونسل نے صوبہ بھر میں وکلا کو ہدایت کی ہے کہ وہ ماتحت عدالتوں میں پیش نہ ہوں ۔اسی طرح لاہور بار ایسوسی ایشن نے بھی وکلا کو عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سول جج پر حملہ کر کے زخمی کرنے والے منور منج نامی وکیل کو آج سزا سنائی ہے۔
ایڈووکیٹ عمران منج کو مجموعی طور پر 18 سال 6 ماہ قید کا حکم سنایا گیاہے۔ ملزم کو مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ اور ہرجانہ بھی دینا ہوگا-

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے