کوئٹہ: مسجد میں دھماکہ ،2 افراد جاں بحق ،15زخمی

ویب ڈیسک : 24مئی 2019

کوئٹہ: بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقہ پشتون آباد میں دھماکہ ہوا ہےجس کے نتیجے میں 2افراد جاں بحق اور15 زخمی ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے میں مسجد میں خطبہ دینے والے مولوی عطاالرحمن بھی شہید ہو گئے ہیں۔جب کہ زخمیوں کی تعداد 16سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے بعد افراد کی حالت نازک بھی بتائی جا رہی ہے-
کوئٹہ پولیس کے مطابق دھماکہ پشتون آباد میں عبدالولی چوک کے قریب واقع رحمانیہ مسجد کے احاطے میں ہوا ہے، دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ہیں۔پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں۔ زخمیوں کو سول اسپتال بولان میڈیکل کمپلیکس میں منتقل کیا گیا۔سول اسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔بلوچستان کے وزیر صحت نصیب اللہ مری نے کہا کہ پشتون آباد دھماکے میں 2افراد جاں بحق 15افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان وزیر اعلی بلوچستان لیاقت شاہوانی نے میڈیا کو بتایا کہ پشتون آباد دھماکے میں 1شخص جاں بحق اور 14زخمی ہوئے ہیں۔
کوئٹہ پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد نماز جمعہ کے لیے رحمانیہ مسجد میں آرہی تھی۔ رحمانیہ مسجد میں نمازجمہ کا وقت 2بجے تھا۔عینی شاہدین کے مطابق جب دھماکہ ہوا مسجد میں خطبہ جمعہ شروع ہوچکا تھااور مسجد کے اندر 60، 70افراد موجود تھے جبکہ دیگر لوگ بھی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں آرہے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیموں کے اہلکار بھاری تعداد میں جائے وقوعہ پرپہنچے اوردھماکے سے متاثر ہونے والے نمازیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
کوئٹہ کے سول اسپتال میں اب تک 15 زخمی منتقل کیے جاچکے ہیں جبکہ کئی زخمیوں کو قریبی نجی اسپتال بھی منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر واقعے کی تفتیش شروع کردی ۔ پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت معلوم کی جارہی ہے۔رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ مسجد میں دھماکہ پلانٹڈ ڈیوائس کے ذریعے سے کیا گیا۔دھماکہ منبر کے قریب کیا گیا جس وجہ سے خطبہ دینے والے مولوی بھی جام شہادت نوش کر گئے۔پولیس کے سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ جمعے کےموقع پر کوئٹہ میں سیکورٹی الرٹ تھی، شہرکےمختلف علاقوں میں پولیس اور ایف سی کےاضافی اہلکارتعینات کئے گئے تھےجبکہ مساجد اور امام بارگاہوں پر بھی سکیورٹی کےخصوصی انتظاما ت تھے۔
شہربھر میں کوئیک رسپانس فورس کی تعیناتی کے علاوہ ایف سی کی پٹرولنگ بھی جاری ہے، نماز جمعہ کےدوران ایس ایچ اوزکو گشت جبکہ ایس پیز کو سرکل میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ترجمان وزیر اعلی بلوچستان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ اس واقعے میں جو بھی ملوث ہوا حکومت اس کے خلاف کارروائی کریگی ۔لیاقت شاہوانی نے کہا کہ حکومتی ادارے دھماکے کے مقام پر موجود ہیں اور اسپتالوں میں بھی تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔یاد رہے بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں 13مئی کو پولیس وین کے قریب دھماکہ ہوا جس سے 5 پولیس اہلکار شہید اور نو افراد زخمی ہوگئے تھے۔اسی طرح رواں سال 12اپریل کو بھی بلوچستان کے علاقہ ہزار گنجی میں خودکش دھماکے میں 20 افراد جاں بحق اور48 زخمی ہوگئے تھے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے