اپوزیشن عدم اعتماد کا شکار، ن لیگ نواز شریف کی رہائی کے معاملے پر تنہا رہ گئی

ویب ڈیسک : 24مئی 2019
لاہور : مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی رہائی اور ان کو ریلیف ملنے کے معاملے پر مسلم لیگ ن تنہا ہو کر رہ گئی ہے جبکہ اپوزیشن کے اجلاسوں کے دوران نواز شریف کی رہائی سے متعلق کوئی لائحہ عمل تاحال مرتب نہیں کیا جا سکا جس سے مسلم لیگ ن میں مایوسی پھیل گئی ہے۔ جس کے بعد اب مسلم لیگ ن نے نواز شریف کی رہائی کے معاملے کو اپنے تئیں عوام کے مابین اُجاگر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس پر سنجیدگی سے غور بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ چونکہ اپوزیشن جماعتوں کا حالیہ افطار ڈنر مہنگائی اور نیب کے معاملات تک محدود رہا لہٰذا اس افطار ڈنر کے بعد مسلم لیگ ن کی اُمید دم توڑ گئی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نواز شریف کی رہائی کے لیے حکومت پر کوئی دباؤ ڈالا جائے گا۔یہی نہیں اپوزیشن جماعتوں کے سہارے بیٹھی مسلم لیگ ن خود بھی تاحال نواز شریف کی رہائی پر کوئی واضح حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکی۔
جبکہ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے لیے ہونے والے رابطوں میں بھی نواز شریف کی رہائی کا معاملہ ترجیحات میں شامل نہیں ۔ جس کے بعد کارکنوں میں پھیلتی مایوسی اور نواز شریف کو کوئی ریلیف نہ ملنے کے خوف کے پیش نظر مسلم لیگ ن کے اجلاسوں میں مریم نواز کو ان کے قریبی ساتھیوں نے مشورہ دینا شروع کر دیا ہے کہ وہ نوازشریف کی رہائی کے لیے اپوزیشن پر انحصار کرنے کی بجائے خود پارٹی کی سطح پر مہم چلائیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے عید کے خلاف حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان تو کر رکھا ہے لیکن تاحال اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے بارے میں عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے بیانات تو جاری کر دیئے ہیں لیکن ان کی مشترکہ تحریک ، مشترکہ لائحہ عمل اور تحریک کی سربراہی کون کرے گا اور اس میں کیا کیا مطالبات شامل ہوں گے ، اس حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
پاکستان پیپلزپا رٹی کے اندر واضح طور پر اہم رہنما پارٹی اجلاسوں میں اور نجی محفلوں میں یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف تحریک مسلم لیگ ن نہیں چلائے گی، ن لیگ صرف پیپلزپا رٹی کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت پر پریشر بنا کر مزید ریلیف لینا چاہتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپا رٹی کے اہم اجلاس میں تو یہاں تک کہا گیا کہ ن لیگ کے معامالات طے ہو چکے ہیں اور انہی معاملات کی وجہ سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو ریلیف ملا جبکہ ایک رہنما نے تو یہ بھی کہا کہ نوازشریف جب دوبارہ جیل گئے تو اس وقت یہ مسلم لیگ ن کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ آ ج مریم خطاب بھی کرے گی اور حکومت کے خلاف کھل کر بات کریں گی لیکن مریم کی اس دن خاموشی بھی ڈیل کی طرف ایک اشارہ کرتی ہے۔
اپوزیشن کی مشترکہ تحریک سے متعلق تاحال کئی تحفظات موجود ہیں۔ ن لیگ کے اندر بھی اسی طرح پیپلزپارٹی کے حوالے سے عدم اعتماد پایا جا رہا ہے اور ن لیگ کی ایک بڑی اکثریت اجلاسوں میں اور دیگر مواقع پر یہ کہہ چکی ہے کہ پیپلزپا رٹی اور حکومت میں معاملات چل رہے ہیں اور اسی وجہ سے تمام ثبوت ہونے کے باجود آ صف زرداری کو گرفتار نہیں کیا جا رہا اور بلاول بھٹو بھی جو سخت بیان دیتے ہیں وہ معاملات کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے پریشر ڈالنے کے لیے ہوتے ہیں ۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جب جب مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو مل کر احتجاج کرنے کی دعوت دی ہے تب تب پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مسلم لیگ ن پر عدم تحفظ کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے اجلاسوں میں اکثر یہ باتیں ہوتی ہیں کہ مسلم لیگ ن صرف اپنے مفاد کے لیے پیپلز پارٹی کو استعمال کرنا چاہتی ہے۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کو کسی صورت بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ کسی احتجاج یا تحریک میں حصہ نہیں لینا چاہئیے، یہی نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کے بھی کئی رہنماؤں کو پیپلز پارٹی پر کچھ تحفظات ہیں اور وہ بھی کئی بار پارٹی قیادت کو اس بارے میں اپنے عدم اعتماد سے متعلق آگاہ کر چکے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے