بھارتی الیکشن میں مسلمان نمائندوں کی کارکردگی مایوس کن رہی

543 کے ایوان میں اب تک صرف 22 مسلمان ارکان ہی جگہ بنا پائے

ویب ڈیسک | 24مئی 2019
نئی دہلی : انڈیا کے پارلیمانی انتخابات میں ہندو نظریات کی حامل بھارتیہ جنتا پارٹی کی دوبارہ شاندار کامیابی نے ملک کے مستقبل کی راہ کم و بیش طے کر دی ہے۔بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے اس الیکشن میں مسلمان نمائندوں کی کارکردگی بھی ماضی کے مقابلے میں مایوس کن رہی۔ خود بی جے پی نے جن چھ مسلمانوں کو اپنا امیدوار بنایا تھا ان میں سے ایک بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔

543 کے ایوان میں اب تک صرف 22 مسلمان ارکان ہی جگہ بنا پائے ہیں اور یہ تعداد گزشتہ پارلیمان کے مسلم ارکان کے مقابلے میں بھی کم ہے تاہم ابھی تک مکمل نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا اور یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔نو منتخب مسلم ارکان میں سے صرف دو خواتین ہیں۔
مغربی بنگال کی ریاست سے گزشتہ پارلیمان میں آٹھ مسلمان ارکان منتخب ہو کر آئے تھے تاہم اس مرتبہ اس میں 50 فیصد کی کمی ہوئی ہے اور صرف چار مسلمان ہی اس ریاست سے لوک سبھا میں پہنچ پائے ہیں جن میں نصرت جہاں روحی سمیت دو خواتین بھی شامل ہیں۔
ایسی ہی صورت حال بہار میں ہے جہاں چار کے مقابلے میں اس مرتبہ صرف دو مسلم امیدوار کامیاب ہو سکے ہیں۔
اس کے علاوہ جنوبی ریاست کیرالہ اور شمال مشرقی ریاست آسام میں بھی مسلم نمائندگی میں کمی آئی ہے۔
آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ بدرالدین اجمل آسام سے خود تو کامیاب ہو گئے لیکن ان کی دوسری نشست اس بار ان کے ہاتھوں سے نکل گئی۔
آسام میں غیرقانونی شہریت کا مسئلہ بہت سنگین ہے اور مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی کو شہریت چھننے کا خطرہ ہے۔
بی بی سی کے مطابق سماجوادی پارٹی کے اہم رہنما اعظم خان بی جے پی کی امیدوار اور اپنے زمانے کی مشہور اداکارہ جیا پردا کو شکست دے کر لوک سبھا میں پہنچے ہیں-

تاہم ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں صورتحال اس رجحان کے برعکس رہی ہے۔ گذشتہ پارلیمان میں یہاں سے مسلم نمائندگی صفر تھی لیکن حالیہ پارلیمان میں وہاں سے سب سے زیادہ چھ امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔
ان میں سماجوادی پارٹی کے اہم رہنما اعظم خان بھی ہیں جنھوں نے بی جے پی کی امیدوار اور اپنے زمانے کی مشہور اداکارہ جیا پردا کو شکست دی ہے۔اس کے علاوہ پنجاب اور مہاراشٹر سے بھی ایک، ایک مسلم امیدوار محمد صادق اور امتیاز جلیل کامیاب ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں ایک عرصے کے بعد کسی مسلم امیدوار کو کامیابی ملی ہے۔
امتیاز جلیل اورنگ آباد سے مجلس اتحاد المسلمین کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ کانگریس کے ٹکٹ پر محمد صادق رکنِ اسمبلی بنے ہیں۔
معروف مسلم رہنما اور مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی گزشتہ الیکشن میں آندھر پردیش سے منتخب ہوئے تھے لیکن اس بار ان کی سیٹ تلنگانہ میں آئی۔
جموں کشمیر سے اس بار بھی تین مسلم اراکین منتخب ہوئے ہیں جس میں صرف فاروق عبداللہ ہی واحد امیدوار ہیں جو پھر سے کامیاب ہوئے ہیں۔
انڈین پارلیمان کی تاریخ میں مسلم نمائندوں کی سب سے بڑی تعداد یعنی 49 نمائندے سنہ 1980 کے انتخابات میں منتخب ہوئی تھی جب ایمرجنسی کی ہزیمت کے بعد اندراگاندھی کی قیادت میں کانگریس واضح اکثریت سے حکومت میں آئی تھی۔ اس پارلیمان میں کانگریس کی جانب سے 30 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔اس کے برعکس سب سے کم 11 مسلم امیدوار پہلی لوک سبھا میں منتخب ہوئے تھے۔
مغربی بنگال سے دو مسلم خواتین نے کامیابی حاصل کی ہے جن میں ایک نصرت جہاں روحی بھی شامل ہیں
دہلی کی ایک اہم یونیورسٹی میں سیاسیات کا مضمون پڑھانے والے ایک استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مسلمانوں کی پارلیمان میں نمائندگی کے سلسلے میں بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مسلمان پہلے سے ہی پارلیمان میں اپنے مسائل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں البتہ سیکولر جماعتیں مسلمانوں کے مسائل کو اٹھاتی تھیں لیکن اب ان کی اپنی ہی بقا کا مسئلہ ہے اس لیے اب کوئی پارٹی سیکولرازم کی بات بھی نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ پہلے کانگریس، لالو پرشاد، ملائم سنگھ یادو یا مایاوتی وغیرہ مسلمانوں کے مسائل کو اپنے فائدے کے لیے اٹھاتے تھے گوکہ ان کے حل کی کم ہی کوشش کی جاتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم امیدوار جو پارلیمان میں پہنچے ہیں وہ اپنی جماعت کی پالیسی کے تحت کام کریں گے نہ کہ مسلمانوں کے مسائل کو اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا اس معاملے میں مجلس اتحاد المسلمین کو استثنیٰ حاصل ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کی سیاست کرتی ہے اور ان کے مسائل پر بات کرتی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں انٹرنیشنل سٹڈیز میں استاد محمد سہراب نے اس بارے میں کہا کہ ‘مسلمانوں کو حاشیہ پر لانے اور ان کے ووٹ کے حقوق کو ختم کرنے کا عمل ہے جو ایک عرصے سے جاری ہے اور رواں انتخاب تو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف لڑا گیا ہے جس میں مسلمانوں کو ایک خطرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔’انہوں نے مزید کہا کہ ‘اس کے اثرات مزید یہ ہوں گے کہ ان کے آزادی کے آئینی حقوق پر قدغن لگائی جا سکتی ہے۔’
بی جے پی کی شہرت میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس بار اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم حیرت کی بات ہے کہ بی جے پی کا ایک بھی مسلم امیدوار تاحال کامیاب نہیں ہوسکا۔علاوہ ازیں اس بار لوک سبھا کے لیے 2014 کے مقابلے بھی کم مسلمان امیدوار منتخب ہوئے ہیں، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ حتمی اعلان تک مسلمان امیدواروں کی تعداد میں کچھ اضافہ ہوسکتا ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق اس بار لوک سبھا کے لیے زیادہ سے زیادہ 25 مسلمان امیدواروں کے کامیاب ہونے کا امکان ہے، تاہم اب تک 22 مسلمان امیدواروں کی کامیابی کی غیر حتمی تصدیق کی جا چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کم ہے، بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 14 فیصد سے زائد ہے اور لوک سبھا میں ان کی نمائندگی آبادی کے تناسب کے حوالے سے بھی 5 فیصد کم ہے۔
اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ لوک سبھا کے انتخابات میں واضح برتری حاصل کرنے والی بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والا کوئی بھی مسلمان امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا۔بی جے پی نے مجموعی طور پر 6 مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ دیے تھے، تاہم ان کے تمام امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
بی جے پی نے مغربی بنگال میں 2 مسلمان امیدواروں اور وفاقی علاقے لکشادیپ میں ایک امیدوار جبکہ زیر تسلط جموں و کشمیر میں 3 مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ دیے تھے اور ان جن حلقوں سے ان امیدواروں کو کھڑا کیا گیا تھا ان میں مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں سے زیادہ ہے، تاہم اس کے باوجود مسلمانوں کو شکست کا سامنا رہا۔
رپورٹ کے مطابق اب تک بھارت بھر سے 22 مسلمان امیدواروں کی کامیابی کے غیر حتمی نتائج سامنے آ چکے ہیں، جن کے مطابق سب سے زیادہ 6 مسلمان امیدوار ریاست اترپردیش سے منتخب ہوئے ہیں جب کہ وہاں سے مزید ایک یا 2 امیدواروں کی کامیابی کا امکان ہے۔اسی طرح دوسرے نمبر ریاست مغربی بنگال سے زیادہ مسلمان امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
انتخابات میں کامیاب ہونے والے 22 مسلمان ارکان میں سے صرف 2 خواتین ہیں اور دونوں خواتین ریاست مغربی بنگال سے کامیاب ہوئی ہیں۔
کامیاب ہونے والی خواتین میں ماڈل و اداکارہ نصرت جہاں روحی اور ساجدہ احمد شامل ہیں اور دونوں خواتین آل انڈیا ترینیمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) کی ٹکٹ سے میدان میں اتری تھیں۔
ریاست ہریانہ کے حلقے حیدرآباد سے مسلمان رہنما اسدالدین اویسی مسلسل چوتھی بار لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے ہیں، ان کے علاوہ جموں و کشمیر سے فاروق عبداللہ بھی منتخب ہوئے ہیں۔
دیگر منتخب ہونے والے مسلمان امیدواروں میں آسام سے بدرالدین جمال، عبدالخالق، اتر پردیش سے کنور دانش علی، افضل انصاری، حاجی فیض الرحمٰن، ڈاکٹر ایس ٹی حسن، ڈاکٹر شفیق الرحمٰن برق، محمد اعظم خان، مہاراشٹر سے امتیاز جلیل سید، کیرالہ سے ایڈووکیٹ اے ایم عارف، ای ٹی محمد بشیر، جموں و کشمیر سے حسین مسعودی، محمد اکبر لون، بہار سے ڈاکٹر محمد جاوید، چوہدری محبوب علی قیصر، مغربی بنگال سے ابو طاہر خان، ابو حاسم خان چوہدری اور پنجاب سے محمد صدیق شامل ہیں۔
اگر لوک سبھا کے حتمی نتائج تک مزید چند مسلمان امیدوار کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ اب تک مسلمانوں کی لوک سبھا میں سب سے زیادہ تعداد ہوجائے گی اور اگر مزید کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوتا تو اس بار مسلمان ارکان کی تعداد 2014 کے مقابلے میں بھی کم ہوگی۔
گزشتہ انتخابات میں مجموعی طور پر بھارت بھر سے 23 مسلمان ارکان کامیاب ہوئے تھے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے