صرف ایک کام،افسانہ

ملک محمد فاروق

    صرف ایک کام(افسانہ)

    محمد فاروق اکمل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بڑی عجیب سی شرط تھی اس کی ۔ کہتا تھا کہ ہماراسب کچھ سانجھا ہے ۔ شہر میں پڑھ لکھ کر ، محنت منت کرکے میں نے مدتوں میں جو مقام کمایا تھا ، اس پر بھی حق جتلاتا تھا۔ اُسے اپنے نکمے پن کا بھی خیال نہ آتا ۔ بس ہر دفعہ بے شرمی سے سیدھا ہی حصہ مانگنے چلا آتا۔
    عجب ڈھٹائی تھی۔ دولت تو آدھی آدھی ، عزت تو آدھی آدھی ، راحت تو وہ بھی آدھی ۔ مزید یہ کہ اُس کے حصے کے دکھ اور محرومیاں بھی تقسیم ہوں ۔

    انکار نہ کرسکنے کی فطری کمزوری نے مجھے اس دلدل میں ایسا دھنسا دیا تھا کہ میرے لئے اب کوئی اور راہ چلنا ممکن ہی نظر نہ آتاتھا۔ کوئی صورت ہی نہیں رہ گئی تھی۔

    میں میٹرک کے بعد شہر میں آگیا تھا۔ سب نے یہی خیال کیا کہ بچہ ذہین ہے ۔ پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے گا۔ اس میں کچھ دخل میری اپنی خواہش کا بھی تھا۔ البتہ اس کو گاؤں میں ہی رہنا پڑا لیکن وہ گاہے گاہے چکر لگاتا رہا اور کوئی اسے میرے پاس آنے سے نہ روک سکا ۔ جب کبھی مجھے کوئی نئی کامیابی ملتی ، وہ آن دھمکتا اور اس میں سے اپنا حصہ ، جو کہ میرے نزدیک میرا ہی حصہ تھا، لے کر چلتا بنتا ۔ پتہ نہیں کیا بات تھی کہ اس کی موجودگی میں اس پر میرا کچھ بس نہ چلتا۔

    شہر میں اتنا عرصہ گزار لینے کے بعد میں اب اچھا خاصا کاروباری ہوگیا تھا۔ اپنی ترقی اور کاروبار کی وسعت میں پچاس فیصد کا لامحالہ نقصان مجھے پریشان کرتا تھا۔ میں نے کئی دفعہ اپنے کاروباری گُر آزمانے کی بھی کوشش کی لیکن وہ ایسا ھُشیار تھا کہ اس کے سامنے ہر تدبیر بیکار تھی۔

    اگر کبھی ٹال مٹول کرکے دامن بچا بھی لیتا تو وہ پارٹیوں میں مجھے بلیک میل کرتا۔ میں اپنے وزٹ اور تقریبات کے اوقات لاکھ پوشیدہ رکھتا ، اسے نجانے کیسے خبر ہوجاتی ۔ عین تقریب کے دوران میں ایسے اچانک ظاہر ہوجاتا جیسے میرے کوٹ کی اندرونی جیب میں چُھپا رہا ہو۔ میں معززین پر اپنی انگریزی جھاڑ رہا ہوتا کہ وہ مجھے ٹہوکا دیتا : ’’بھانڈا پھوڑدوں؟‘‘ اور میری ساری اینٹیں دیواروں سے نکل جاتیں ۔ ڈرنک کے گھونٹ جلدی جلدی لینا پڑتے اور بڑے صاحبوں کی طرح "Excuse Me”کہہ کر ایک طرف بڑھ جانا پڑتا ۔

    وہ بےحد عیار تھا۔ باتیں ایسی کرتا کہ میں سُنے بنارہ نہ پاتا۔ شاید وہ میرے Nostalgia سے واقف تھا۔ کبھی کبھی وہ جیب میں اخروٹ ڈالے آن ظاہر ہوتا۔ کبھی بنٹے لئے آتا تو میری انگلیاں خود بخود ہی، خیالوں ہی خیالوں میں ، بلوریں گولیوں کے ٹھنڈے ٹھنڈے لمس سے آشنا ہونے لگتیں اور بنٹوں کے آپس میں ٹکرانے کی مخصوص آواز (جو کہ بچپن سے ہی مجھے فوراً پر جوش بنا دیتی تھی ) بازگشت بن کر میرے کانوں میں گونجنے لگتی۔ کوؤں کے گھونسلے میں سیاہ نقطوں والے سبز ، نیلے انڈے دیکھنے کے شوق میں ان سے دشمنی پال لینے کا ایڈونچر ، گاؤں کے کھیت اور ننگے پاؤں میں مکئی کے ٹھنٹھ کی چبھن ، سب کچھ کسی فلم کی طرح نظروں کے سامنے سے گھوم جاتا اور میں رسی بندھی بکر ی کی طرح اس کے پیچھے چل پڑتا۔

    میں نے کئی دفعہ اُ س سے پیچھا چھڑانے کی با قاعدہ کوشش کی۔ لیکن کامیابی نہ ہوئی ۔ بارہا اُسے قتل کرنا چاہا لیکن شاید جتنا وہ ہشیار تھا اس سے زیادہ میں بزدل تھا۔ مجھے رحم آجاتا۔ کبھی کبھی وہ میرے سوٹ ٹائی اور ٹِش ٹُش سے مرعوب ہو بھی جاتا ۔ میں تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ کر دیتا تو سہم کر اندر کہیں بیٹھ جاتا لیکن جونہی مجھے تنہا دیکھتا ، پھر سے نکل آتا۔

    اب کے تو حد ہوگئی تھی۔ میں بزنس ٹور کے سلسلے میں سوئٹزر لینڈ میں تھا۔ رات زیورخ(ZURICH) کے ایک ہوٹل میں گزارنے کے بعد صبح ناشتہ کرکے جنیوا جانے والی ٹرین میں سوار ہوا۔ ٹرین شہر کی حدود سے باہر نکلی تو کھڑکی سے ھرے بھرے کھیت ، چراگاہیں اور ان میں چرتی گائیں ، برف سے ڈھکی چوٹیاں اور شفاف ندیاں نظر آتی گئیں ۔ میں سحر میں کھو گیا ۔ جنت گویا زمین پر اُتر ہی آئی تھی۔ پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ جو تصویریں صرف کیلنڈروں میں ہوا کرتی تھیں اصل میں بھی ہوتی ہیں۔

    انہی خوبصورت نظاروں میں کھویا ہوا تھا کہ ایک شائستہ اور نرم رسیلی نسوانی آواز نے مجھے چونکا دیا :
    "Morgon! Billette Bitte!”
    میں چونکہ یہاں آتا جاتا رہتا تھا اس لئے چند کلمات جرمن اور فرنچ کے سیکھ گیا تھا۔ میں نے ٹکٹ نکال کر دکھا دیا اور ساتھ ہی خاتو ن سے شگفتگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:
    "Your country is ineffably beautiful!”
    ’’تھینک یو ‘‘ وہ بھی مسکر ا کر انگریزی بولنے لگی
    "But you must visit the fascinating Lugano as well, Sir. Been there, near the Italian bourder (border)?”
    "Umm…I’d love to, but let’s see if i have time. Or may be next time.”
    "Ok, I wish you a very good trip!”
    اس نے کہا اور مسکراتی ہوئی اگلی سیٹ کیطرف چلی گئی۔
    میں سچ مچ Luganoجانے کے بارے میں سوچتے ہوئے پھر سے شیشے کے باہر دیکھنے لگا تو مجھے احساس ہوا کہ کوئی میرے سامنے والی نشست پر آکر بیٹھ گیا ہے ۔میں نے غیر ارادی طور پر چہرے کو گھمایا تو و ہ سامنے بیٹھا نظر آیا۔ میں اُچھل پڑا۔ وہ یہاں بھی پہنچ گیا تھا۔
    ’’تمہیں ویزا کس نے دلوایا؟‘‘ میں نے اضطراری انداز میں پوچھا۔
    ’’مجھے ویزے شیزے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں تو صرف اتنا بتانے آیا تھا کہ گاؤں کی سب عورتیں آج کل ’’پڑ‘‘ نکا ل رہی ہیں اور گاؤں سے باہر سفید مٹی کے ٹیلے تک عورتوں کی ایک قطار صبح تا شام تنی رہتی ہے جو مٹی ڈھو ڈھو کر لانے میں چیونٹیوں کی طرح مصروف ہے ۔ اور پرانے قبرستان میں بابے عَبدُل کی قبر کے پاس پُھلاہی کی کھو ہ میں ہُد ہُد نے بچے دے دیے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اُٹھا اور جلدی سے ساتھ والے کمپارٹمنٹ میں گھس گیا۔ اُسے شاید معلوم تھا کہ میں اسے نہیں روکوں گا ۔ وہ ایک بار پھر مجھے بیقرار کر گیا تھا۔ میں اب ائر کنڈیشنڈ کمپارٹمنٹ میں اپنے گاؤں کی گرمی محسوس کررہا تھا۔ مجھے لگا جیسے اُس نے میر ے ہی ٹکٹ پر سفر کرکے اس دورے میں سے بھی آدھا حصہ بانٹ کر لے لیا ہو اور اپنی گاؤں کی آدھی محرومیاں یہاں پر دیس میں زبردستی میری جھولی میں ڈال گیا ہو۔

    تنگ آکر ایک بار میں یہ تجویز بھی پیش کرچکا تھا کہ وہ ایک ہی دفعہ میں اپنا حصہ لیکر الگ ہوجائے ۔ یکمشت حساب بیباق کردیا جائے اور وہ مجھے یوں بار بار پریشان کرنے نہ آیا کرے ۔ لیکن و ہ اس پر بھی راضی نہ ہوا تھا۔ اسے شاید معلوم تھا کہ میرے گلے میں پڑی رسی کا دوسرا سرا اس کے ہاتھ میں تھا۔

    میں نے فیصلہ کرلیا کہ اس دفعہ ملک واپسی پر اس قصے کو تمام کرکے رہوں گا۔ میں نے ساری منصوبہ بندی کرلی ۔واپس آنے کے بعد دوسرے ہی دن صبح صبح گاڑی میں سوار ہوا اور گاڑی گاؤں کی جانب موڑ دی ۔ اُسے جیسے پہلے ہی خبر تھی۔ رستے میں کھڑا مل گیا ۔
    ’’آگئے ؟‘‘ وہ واقعی ہی بڑا خبیث تھا۔
    ’’تمہاری یاد کچھ زیادہ ستار ہی تھی، انتظار نہ ہوا‘‘ میں نے قدرے تلخی سے کہا۔
    ’’آنا تو تم کو تھا ہی ‘‘ وہ مکاری سے بولا
    ’’پر مجھے ملنے آئے ہو یا خان طور کی ہٹی کی خوشبو تمہیں کھینچ لائی ہے ؟‘‘
    ’’یا پھر …..‘‘ وہ ذرا تو قف سے دائیں آنکھ دبا کر بولا ‘‘: کھوتیوں کے پیچھے چلتی مٹیاروں کو دیکھنے آئے ہو ۔ ویسے تمہاری محبوبہ تو ….‘‘
    ’’چلو کنوئیں کو چلتے ہیں ‘‘ میں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے جلدی سے کہا ۔
    ہم چل پڑے ۔ منڈیر پر کھڑے ہو کر نیچے جھانکا اور بیک وقت ہی دونوں نے بے ساختہ چلا کر کہا ۔ ’’ھُووووووو…..‘‘ کنوئیں میں گم ہوتی آواز کا کچھ حصہ واپس آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کی آواز میری آواز سے اب بھی طاقتور تھی ۔ اُس نے میری طرف دیکھا لیکن میں نے اپنے طور پر خفت چھپا لینے کی ہی کوشش کی ۔
    ’’کنواں ابھی بھی اتناہی گہرا ہوگا؟‘‘
    اس کے جواب میں اس نے ایک شک آمیز نگاہ مجھ پر ڈالی اور پرے گھوم گیا ۔ پھر چند لمحوں بعد کنکریاں چُن لایا ۔ آدھی میرے ہاتھ میں دے دیں ۔ ’’خود دیکھ لو۔‘‘

    ہم وہی کہانی دہرانے لگے تھے جو ہمارے بچپن میں تقریباً روز یہاں آزمائی جاتی تھی۔
    ’’پڑک‘‘ مانوس آواز سنائی دی ۔
    ’’پڑک‘‘ اس کے پتھر کی آواز آئی۔
    کچھ دیر بعد ہتھیلی خالی ہوگئی اور میں سوچ میں گم ہوگیا ۔
    کنویں کی منڈیرسیمنٹ کی بنی ہوئی تھی۔ جس میں کنویں کی ٹھنڈک اُوپر تک سرایت کرآتی تھی اور اُوپر پہرہ دیتے انجیر کے درخت کے گھنے پتے سورج کی کرنوں کو کواڑ کھولے بغیر ہی وہیں سے لوٹا دیتےتھے ۔ منڈیر کے ٹھنڈے ٹھنڈے سیمنٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے سوال داغا۔
    ’’بارہ مار کھیلو گے ؟‘‘
    وہ چونک سا کیا ۔ میں نے جیسے اُس کی نبض کو پہچان لیا تھا۔
    وہ آہستہ سے سر ہلا کر رہ گیا۔
    ’’ٹھیکریاں یا کنکر؟‘‘
    ’’کنکر ‘‘ وہ جھٹ بولا کیوں کہ انہیں تلاش کرنا ٹھیکریوں سے کہیں آسان تھا۔
    ’’تو پھر چن لاؤ ‘‘میں نے کہا اور خود ٹھیکریاں اکھٹی کرنے چل پڑا۔
    گاؤں میں ٹھیکریاں بھی مل ہی جاتی ہیں ۔خاص طور پر کنوؤں کے پاس تو گئے زمانوں میں جانے کتنی عورتوں کے گھڑے ٹوٹتے ہوں گے ۔ تھوڑی دیر بعد میں واپس آیا تو وہ کنویں کی منڈیر پر بارہ مار کا نقشہ بنائے بیٹھا تھا۔
    ٹھیکریاں اور سنگ ریزے ترتیت دے دیے گئے ۔
    ’’میں ہار جاؤں گا‘‘ میں نے خدشہ ظاہر کیا۔
    ’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ جو بھی جیتے ہار تو بنے گی۔ ‘‘
    میں اس زبردستی کی بانٹ کے فلسفے پر ایک بار پھر سٹپٹایا اور بپھرے ہوئے لہجے میں کہنے کی کوشش کی ۔ ’’نہیں آج نہیں ، آج کچھ نہیں بنے گا۔ ‘‘
    اس نے مجھے گھورا ۔ میں تھوڑا نرم پڑ گیا ۔ دیکھو میری بات سنو! اگر آج تم جیت جاتے ہو تو میں تمہاری تقسیم کی منطق کو ہمیشہ کیلئے تسلیم کرلوں گا۔ کبھی کوئی اعتراض نہیں کروں گا۔ لیکن اگر میں جیت جاتا ہوں تو مجھے میری مرضی سے جینے دو گے ۔ ‘‘
    وہ بڑے غور سے سُن رہا تھا۔ میری بات ختم ہوتے ہی نفی میں گردن ہلانے لگا۔ ‘‘ یہ نہیں ہوسکتا ۔ میر ا تم پر حق ہے، ہمیشہ کیلئے ، اتنا ہی جتنا تمہارا تم پر ۔ تم چاہتے ہو کہ میں اپنے حق سے دست بردار ہو جاؤں ؟ ایسا ممکن ہوتا تو تم کب کے الگ ہوچکے ہوتے ۔ یہ تو نہیں ہوگا۔ ‘‘ اُس نے قطعی انداز میں کہا۔
    میں نے بھی سودے بازی جاری رکھتے ہوئے کہا "ٹھیک ہے لیکن ایک شرط تمہیں ماننا پڑے گی ۔‘‘ وہ کچھ نہیں بولا مگر اس کے ماتھے کی جھریوں اور آنکھوں کی پتلیوں پہ چھوٹے چھوٹے سوالیہ نشان ابھر آئے ۔ میں نے اپنی بات جاری رکھی "اگر میں جیت جاتا ہوں تو کم از کم ایک کام ، کوئی ایک کام ، میں صرف اور صرف اپنی مرضی سے کرنے کا اہل ہوں گا۔ اس میں تمہارا کوئی حصہ نہ ہوگااور اگر تمہیں یہ بھی منظور نہیں تو بھلے سے نہ ہو. میں تمہارے ساتھ نہ صرف یہ کہ اس وقت نہیں کھیلوں گا بلکہ آئندہ کیلئے بھی کسی کھیل میں حصہ نہ لوں گا۔” میں نے فیصلہ کن دھمکی کے انداز میں کہا ۔
    ایک لمحے کو مجھے اپنی دھمکی کے اعتماد پر خود بھی حیرت ہوئی۔
    مجھے یاد تھا کہ وہ بچپن میں مجھے اکثر ہرادیا کرتا تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ مجھے ہرانا بھی اس کی کمزوری تھی۔ اس Nostalgia میں بھی وہ برابر کا شریک تھا۔ اسے بھی سالوں بعد ایک بار پھر یادیں تازہ کرنے کا موقع مل رہا تھا۔ اب پتہ نہیں میری دھمکی کام کرگئی یا اسے اپنی جیت کا ہی یقین تھا،اس نے کچھ سوچ کر رضا مندی ظاہرکردی۔
    "ٹھیک ہے ، اگر تم جیت گئے تو اپنی مرضی کا ایک کام کرلینا لیکن صرف ایک ‘‘ وہ ذرا وقفے کے بعد بولا اور نظریں مجھ پر گاڑدیں.میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔

    میں بڑے ولولے سے کھیلا ۔ تھوڑی ہی دیر میں اس کے نو کنکر میرے نارنجی ٹکڑوں نے ہضم کر ڈالے اور میری صرف چار ٹھیکریاں کام آئیں ۔میں جیت رہا تھا۔ میں نے اتنے سالوں میں پہلی بار اُس کے چہرے پر اذیت دیکھی۔ میرا جی چاہا کہ ہا ر جاؤں ۔ لیکن پھر متوقع جیت اور ہاتھ آتی آزادی کی سرشاری اس کمزور احساس پر غالب آگئی۔ جلد ہی ا س کے باقی تین کنکر بھی میرے قبضے میں آگئے ۔ میں نے بالآخر اپنے تئیں اُسے مات دے دی تھی۔ اس کے چہرے پر احساس زیاں کے سائے واضح تھے ۔
    "اب تم کیا کرو گے ؟‘‘ اس نے یقینی سے پوچھا
    "اپنی مرضی‘‘ میں نے تن کر جواب دیا اور اچک کر کنویں کی منڈیر پر کھڑا ہوگیا۔ ’’اور معاہد ے کے مطابق اب تم مجھے روک بھی نہیں سکتے ۔ ‘‘ میں نے پاٹ دار اعتماد سے کہا ۔ حیرانی اس کے چہرے کو چاٹ گئی تھی اور وہ ہونقوں کی طرح میری طرف دیکھے جارہا تھا۔
    ’’خدا حافظ‘‘ میں نے آستین چڑھاتے ہوئے کہا اور کنوئیں میں چھلانگ لگا دی۔
    نیچے گہرائی میں جاتے جاتے میں نے اپنی صدیوں سے بوجھل من کو نمک کی ڈلی کی مانند گھلتے ہوئے پاپا۔ اور ٹھنڈک اپنی روح تک اترتی ہوئی محسوس کی۔ ’’آزادی ، آزادی ، آزادی ۔۔۔‘‘ جسم میں خون منادی کراتا پھرتا تھا. میرے خیالات کی ٹیلی سکوپ اسی ایک نقطے پر مرکوز ہو کر رہ گئی تھی کہ میں نے موت کو بٹنے سے بچا لیا تھا۔ اپنی روح کو آزاد کرالیا تھا۔ پھر کچھ ہی دیر بعد ٹیلی سکوپ اسی ایک نقطے پر مرکوز ہو کر رہ گئی تھی کہ میں نے موت کو بٹنے سے بچا لیا تھا۔ اپنی روح کو آزاد کرالیا تھا۔ پھر کچھ ہی دیر بعد ٹیلی سکوپ کا شیشہ دھندلانے لگا ۔ لیکن سب کچھ دھندلاجانے سے پہلے اچانک ہی ایک جھٹکا سا لگا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ آدمی کے ڈوبنے سے پہلے پانی ایک دفعہ اسے اُوپر ضرور اچھالتا ہے ۔ میں نے بھی یہی گمان کیا لیکن اس کے بعد میرے احساس کو نیند آگئی اور مکمل اندھیرا چھا گیا۔
    مجھے دوبارہ خبر اس وقت ہوئی جب وہ کنویں سے باہر نکل آیا تھااور میں اس کے ہوائی جہاز کے پروں ایسے کندھوں پر گویا کسی سہمے ہوئے مینڈک کی طرح چپکا ہوا تھا۔
    اُس نے مجھے زمین پر پٹخا اور بولا ’’تم کیا سمجھتے تھے ، مجھے تیرنا نہیں آتا….!!!‘‘

    بشکریہ: حرف و صوف

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے