عمران خان کی مودی کو مبارکباد: نئی بحث چھڑ گئی

’مبارک باد تو دے دی، چوکنا بھی رہنا ہوگا‘

ویب ڈیسک : ہفتہ 25مئی 2019

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نئی بحث کا آغاز ہوگیا۔
اول یہ کہ کیا نریندر مودی اپنی تقریب حلف برداری میں وزیراعظم عمران خان کو اسی طرح مدعو کریں گے جس طرح انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بلایا تھا؟ اور دوئم یہ کہ اگر نئی دہلی کی جانب سے مدعو کیا جائے تو کیا عمران خان کو جانا چاہیے یا نہیں؟
وزیراعظم عمران خان نے جب وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا تو اس سے قبل موجودہ وفاقی وزیراور اس وقت کے پارٹی ترجمان فواد چودھری نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ سنیل گواسکر، کپل دیو، نوجوت سنگھ سدھو اور اداکار عامر خان کو منعقد ہونے والی تقریب میں مدعو کیا جائے گا جب کہ عالمی سیاسی شخصیات کو بلانے کا فیصلہ وزارت خارجہ کرے گی۔
ایوان صدر میں جب وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھایا تو منعقدہ تقریب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی شریک نہیں تھے کیونکہ انہیں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس ضمن میں مختلف الخیال لوگ اپنی اپنی آرا کا اظہار کررہے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مودی کو عام انتخابات میں کامیابی پر جب وزیراعظم نے مبارکباد دی تو انہوں نے اس کا شکریہ ادا کیا لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک بحث چھڑ گئی کہ عمران خان نے بہت جلدی مبارکباد دے دی جب کہ کچھ نے خیال ظاہر کیا کہ اس طرح اچھے تعلقات کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’وائس آف امریکہ‘ نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بیشک! پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے اور انہوں نے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے لیکن مودی کی پاکستان سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
بھارتی انتخابات میں نریندر مودی کی جیت کے بعد پاک بھارت تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے بین الاقوامی تعلقات پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مودی کی جارحانہ پالیسیوں کے باوجود پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر طاہر ملک کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے سنجیدہ حلقوں کو یقین ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقے اور بھارت کے انتہا پسند اگر چاہیں تو پاک بھارت امن قائم ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں کانگرس کی کمزور حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لا سکتی تھی۔ پاک بھارت حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے میں بعض طاقتوں نے کر دار ادا کیا۔ اسی وجہ سے پاکستان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو واپس بھیجا۔اس اقدام کو عالمی سطح پر سراہا گیا-پروفیسر طاہر ملک کے مطابق پاکستان نے کالعدم تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کرتار پور راہداری سمیت اعتماد سازی کے مزید اقدامات ہونے چاہئیں، تجارت کو فروغ دینا چاہیے۔بھارت کو سفارت کاری کے ذریعے واضح پیغام دینا چاہئےکہ پاکستان امن چاہتا ہے۔

’پاکستان پر فوجی دباؤ ڈالنے کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے‘

سینیٹ خارجہ امور کے چئیرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کے مطابق مودی کی واپسی ہندوستان کے لئے اور اس خطے کے لئے کشمیری عوام کے لئے بہت بری خبر ہے کیونکہ ان کی سیاست کی بنیاد تعصب اور تقسیم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹائم میگزین نے انہیں چیف ڈیوائیڈر یا اعلیٰ تقسیم کار کا خطاب دیا تھا۔ہندوستان کا معاشرہ جس میں تنوع تھا، سیکولرازم تھا لیکن اب اس کی بنیاد تعصب اور انتہا پسند ہندوتوا بن چکی ہے۔مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، بھارت کے ساتھ مذاکرات شروع ہوں گے کیونکہ مودی کی پاکستان پر فوجی دباؤ ڈالنے کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ پاکستان کو تنہا بھی نہیں کرسکے، پلوامہ واقعے کے بعد جارحیت کا بھارت کو منہ توڑ جواب ملا۔
انہوں نے کہا کہ مودی کے سرپرست امریکہ کی سوچ بھی پاکستان کے متعلق تبدیل ہورہی ہے، نظریہ ضرورت کے تحت امریکہ کو افغانستان میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے۔ اس لیے امریکہ بھی بھارت کو پاکستان سے مذاکرات کے لیے کہے گا۔مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات شروع ہونے کا امکان ہے لیکن کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں۔ مودی کی اندرون بھارت مسلمان دشمنی اور خارجہ پالیسی پاکستان دشمنی پر مبنی ہے۔

’مبارک باد تو دے دی لیکن چوکنا بھی رہنا ہوگا‘

جنرل (ر) عبدالقیوم کہتے ہیں کہ بھارتی عوام نے اپنی خواہشات کے مطابق اپنی قیادت کو منتخب کیا تاہم پاکستان کو اپنی پالیسیاں عوامی امنگوں کے مطابق بنانی ہیں۔ ہم جمہوری عمل کو سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نریندر مودی کو انتخابات جیتنے پر مبارک باد کا پیغام بھیج کر اچھا کام کیا۔ جنوبی ایشیا میں عوام کو غربت سے نکالنا ہے تو جنگی جنون سے نکلنا ہوگا لیکن بھارت کو جموں کشمیر میں مظالم روکتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حقوق دینے ہوں گے۔جنرل ر عبدالقیوم نے کہا کہ ہمیں تحفظات بھی ہیں، مودی کا ماضی داغدار ہے، مبارک باد تو دے دی لیکن چوکنا بھی رہنا ہوگا۔
تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ نریندر مودی کے پاس پاکستان سے مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل ختم کرنے کا بہترین موقع ہے۔ پاکستان میں عمران خان حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے کالعدم تنظیموں اور ان کی فلاحی سرگرمیوں کے خلاف جو کارروائی کی وہ پاکستان کی اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال سے روکنے کے عزم کا عملی ثبوت ہے۔ پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں عالمی طاقتوں اور دوست ممالک کا کردار بھی اہم ہوگا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے