جنوبی پنجاب صوبہ کی قرارداد پاس ہوسکتی ہے تو جنوبی سندھ کی کیوں نہیں’،فاروق ستار

ویب ڈیسک : ہفتہ 25مئی 2019
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ہم سندھ میں نئے انتظامی یونٹ کے لئے طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔کراچی میں میٖڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ اتوار کو تنظیم بحالی اور میری جانب سے افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا ہے، آفاق احمد اور مصطفی کمال کو بھی دعوت دی ہے، میری خواہش ہے کہ جنہیں مدعو کیا ہے وہ ضرور تشریف لائیں،نا مجھے پی ایس پی اور نا ہی نام نہاد ایم کیو ایم پاکستان والوں نے افطار پارٹی میں دعوت دی، میں اس چیز کا گلہ نہیں کررہا کہ مجھے کیوں نہیں بلایا، میں نے خالد مقبول صدیقی کو بھی افطار پارٹی میں دعوت دی ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا کام سیاست اور میرا امن کا پیغام پہنچانا ہے، پاکستان کے بہتر مفاد میں انتطامی یونٹ بنانا ناگزیر ہے، وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی سندھ صوبہ نہ بنانے کا شہریوں کو ٹکہ سا جواب دیا ہے، عمران خان کا یہ جواب ایم کیو ایم پاکستان کو منظور ہو سکتا ہے لیکن ہمیں نہیں، اگر جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد منظور ہو سکتی ہے تو سندھ میں انتظامی یونٹ پر بات کیوں نہیں ہو سکتی۔ ہم ملک میں اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹ کے لئے طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم معاملات افہام و تفہیم سے سلجھانا چاہتے ہیں، انتظامی یونٹ سے کسی بھی سندھی بھائی کی حق تلفی نہیں ہوگی، اگر میری بات سے سندھی اور کسی کی بھی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے اتحادیوں پر واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت سندھ میں نیا صوبہ بنانے کے خلاف ہے، نئے بلدیاتی نظام کے بعد صوبے کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
عمران خان نے جمعہ کو کراچی میں اتحادی جماعتوں کے وفد سے ملاقات کی جس میں فردوس شمیم نقوی، خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ ، فیصل واوڈا، نصرت سحر عباسی، صدرالدین شاہ راشدی اور دیگر شریک ہوئے۔
وزیراعظم کے دورہ کراچی کے دوران ہونے والی ملاقات میں سندھ کی سیاسی صورتحال، صوبے میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری مختلف تر قیاتی منصوبوں اور اتحادی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔علاوازیں عمران خان کی زیرصدارت گورنر ہاؤس میں بھی ایک اجلاس ہوا جس میں سندھ میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کے اجرا سے متعلق معاملات پر گفتگو و شنید ہوئی۔اجلاس میں سندھ کے بڑے شہروں میں کم آمدنی والے افراد کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت مختلف منصوبے شروع کرنے پر غور کیا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام حکومت کے اہم ترین اور کلیدی منصوبوں کا حصہ ہے جس کا مقصد کم آمدنی والے افراد کے ذاتی گھر کے خواب کو حقیقت کا روپ دینا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس شعبے میں مختلف منصوبوں کے آغاز سے سندھ کے لوگوں خصوصا نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور معیشت کا پہیہ بھی چلے گا۔عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام میں نجی شعبے کی طرف سے دلچسپی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس ضمن میں نجی شعبے کو شراکت دار بنانا چاہتی ہے۔

’چوروں کو نہیں چھوڑ سکتا‘

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور تاجر برادری کے وفد سے ملاقات میں کہا کہ میں چوروں کو نہیں چھوڑوں گا کیونکہ سابقہ حکمرانوں نے معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ان کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ معاشی استحکام پر مرکوز ہے، تاجر برادری بھی غرب مٹانے میں ساتھ دے-وزیراعظم نے تاجر برادری کو ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں نجی شعبہ معیشت کے استحکام اور اقتصادی ترقی میں ہراول دستے کا کردار ادا کرے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے