چیئرمین نیب کے استعفے کا مطالبہ: مسلم لیگ ن کا یوٹرن؟

مریم اورنگزیب نے ملک احمد خان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا

ویب ڈیسک : ہفتہ 25مئی 2019

لاہور:مسلم لیگ ن کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک احمد خان نے چیئرمین نیب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا چیئرمین نیب اب احتساب کی پوزیشن میں نہیں رہے۔
لیگی رہنما ملک احمد خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا شہباز شریف کی ذات پر بغیر ثبوت الزامات لگائے گئے، صاف پانی کیس، آشیانہ میں شہباز شریف کی گرفتاری نہیں ہونی چاہیے تھی، شہباز شریف نے پارلیمانی کمیٹی کا مطالبہ کیا ہے، بے بنیاد، من گھڑت الزامات پر شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا، چیئرمین نیب کے خلاف کیس فائل کریں گے، نیب کے نوٹسز نے لوگوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کیا، کیا نیب ماورائے قانون ادارہ ہے ؟۔ملک احمد خان کا کہنا تھا کیا نیب والے یہ سمجھتے ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ؟ نیب سے گرفتاری کی وجہ پوچھو تو کہتے ہیں خفیہ دستاویز ہیں، کیا رمضان شوگر ملز کے پیسے شہباز شریف نے بیرون ملک بھیجے ؟ نیب قانون میں کہاں لکھا ہے کہ چیئرمین نیب خود سوالنامہ ترتیب دیں، نیب چاہتا ہے جس کی چاہے گردن پکڑے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو، ملکی مفادات کی تشریح نیب نے کرنی ہے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا دیں۔مسلم لیگ نون کے رہنما نے مزید کہا کہ نیب تحریک انصاف کا پلاننگ یونٹ ہے، نیب کی وجہ سے لوگوں نے خودکشیاں شروع کر دی ہیں، چیئرمین نیب نے کہا وزرا کیخلاف اس لیے کارروائی نہیں کر رہا کہ حکومت نہ گر جائے، نیب حکومت کا ایک ٹول ہے، نیب قانون کا غلط استعمال کر رہا ہے، چیئرمین نیب نے ملکی نظام کا تماشہ لگا دیا ہے، یقین ہے چیئرمین نیب ملکی مفاد میں استعفیٰ نہیں دینگے، قانون کو اس ملک میں کون بیان کرے گا؟۔

مریم اورنگزیب نے ملک احمد خان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا

اسلام آباد: مریم اورنگزیب نے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک احمد خان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا اور کہا چیئرمین نیب سے استعفیٰ کے مطالبے اور ان کے خلاف اندراج مقدمہ کا بیان ملک احمد خان ذاتی رائے ہے پارٹی موقف نہیں۔
ن لیگ کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک محمد احمد خان کے چیئرمین نیب سے متعلق بیان کو پارٹی موقف نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک احمد خان کا ویڈیو آڈیو سکینڈل کے بعد چئیرمین نیب کے استعفے کے مطالبہ اور اندراج مقدمہ کا اعلان اِنکی ذاتی رائے ہے۔احمد خان کے بیان لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ پارٹی صدر میاں شہباز شریف اور سینئر نائب صدر شاہد خاقان اس بارے میں واضح موقف دے چکے ہیں، چئیرمین نیب کے واقعہ سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سارے معاملے کی تحقیق کرے۔

چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے استعفے کے مطالبے پر کیا مسلم لیگ ن کی طرف سے یوٹرن لیا گیاہے؟ اس حوالے سے ن لیگ کے رہنماؤں کی متضاد رائے سامنے آئی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے رہنما ملک احمد خان نے آڈیو وڈیو اسکینڈل اور صحافی کو دیے گئے انٹرویو کی بنا پر چیئرمین نیب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور ان کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا ہے تودوسری طرف مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے ملک احمد خان کا بیان ذاتی قرار دے دیاہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ملک محمد احمد خان کے بیان سے اظہار لاتعلقی کردیاہے۔مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ ملک محمد احمد خان نے جو کہا، وہ ان کی ذاتی رائے ہے،پارٹی موقف نہیں ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر ، قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی چئیرمین نیب سے متعلق واضح پارٹی موقف بیان کرچکے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا چئیرمین نیب کے واقعہ سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سارے معاملے کی تحقیق کرے۔
لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں مسلم لیگ ن کے رہنما ملک احمد نے کہا کہ چئیرمین نیب اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے چئیرمین نیب کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی بناکر تحقیقات کرائی جائیں ۔ملک احمد خان نے کہا کہ وہ چیئرمین نیب کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ نیب والے سمجھتے ہیں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ہم چیئرمین نیب کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں جائینگے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیب نے شہباز شریف کے خلاف بے بنیاد مقدمات بناکر گرفتاری کی ۔ نیب سے گرفتاری کی وجہ پوچھی جائے تو کہتے ہیں کہ خفیہ دستاویزات ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ نیب اس وقت حکومت کے ایک ٹول کے طور پر کام کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے تو چیرمین نیب کے خلاف کیوں نہیں؟ملک احمد خان نے کہا کہ نیب قوانین کا غلط استعمال کررہاہے ۔نیب کے نوٹسز نے لوگوں کو خود کشی پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ نیب جسکی چاہے عزت اچھال دے۔مسلم لیگ نے کے رہنما ملک احمد خان نے کہا کہ نیب پی ٹی آئی کے یونٹ کے طور پر کام کررہاہے۔ کاروباری کمیونٹی نے اپنے کاروبار ختم کردیے ہیں۔ملک احمد خان نے کہا کہ نیب کا قانون تبدیل ہونا چاہیے مگر اب بات بہت آگے چلی گئی ہے ۔ ان کے خوف سے کوئی بندا بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کا ادارہ صرف الزامات کی بنیاد پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ کچھ کرہی نہیں رہا۔
یاد رہے گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے چیئرمین قومی احتساب بیورو(نیب ) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مبینہ آڈیو ویڈیو کےمعاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئیر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے بھی گزشتہ روز اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ چیئرمین نیب کی مبینہ وڈیو کے حوالے سے قومی اسمبلی کے رولز کے تحت خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس معاملے میں ملوث کرداروں کا تعین کرے۔شاہد خاقان نے کہا کہ وہ اس حوالے سے دوسری جماعتوں سے بھی رابطہ کریں گے۔ خواجہ آصف پیر کو اس معاملے پر قومی اسمبلی میں قرارداد بھی پیش کریں گے۔پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے چیئرمین نیب کے حوالے سے دو نجی چینلزپر نشر ہونے والی رپورٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ جاری ایک بیان میں کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نیب اور چیئرمین نیب کے متعلق اپنے اصولی اور قانونی موقف پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب سے متعلق نیوز چینلز پر نشر ہونے والی رپورٹ چیئرمین نیب کا ذاتی معاملہ ہے اور پیپلزپارٹی کسی کے شخصی کردار پر سیاست نہیں کرتی۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ جن دو چینلز نے خبر بریک کی ہے ان چینلز کے مالکان وزیراعظم ہاﺅس میں بیٹھتے ہیں۔ ان نجی چینلز اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ عمران حکومت اس طرح کے دباﺅ کے حربے استعمال کر رہی ہے۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے کردار کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا چیئرمین نیب کے حوالے سے جو موقف اختیار کرتی رہی ہے اس پر قائم ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے