پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ کی ساتھیوں کے ہمراہ میرانشاہ میں چیک پوسٹ پر فائرنگ

ویب ڈیسک : اتوار 26مئی 2019
شمالی وزیر ستان: صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر شر پسندوں کے حملے کے بعد علاقے میں میں کشیدگی اور بد امنی کی اطلاعات ہیں۔مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعے سامنے آنے والی رپورٹس میں سیکیورٹی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں کچھ افراد نے سیکیورٹی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی ایم رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اپنے ساتھیوں سمیت سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا۔ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقہ خڑ قمر میں پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے کارکنان نے گزشتہ روز گرفتار ہونے والے کارکنان کی گرفتاری کے خلاف دھرنا دے رکھا تھا جس میں محسن داوڑ اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھا۔
محسن داوڑ اور اس کے ساتھیوں نے دھرنے کے دوران چیک پوسٹوں پر موجود جوانوں کے خلاف نعرے لگائے اور لوگوں کو اشتعال دلایا۔
دھرنے کے دوران محسن داوڑ اور اس کے ساتھیوں نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر فائرنگ کر دی۔۔ذرائع کے مطابق دھرنے میں پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر بھی موجود تھے جنہوں نے کچھ روز قبل قومی اداوں کو کھلے عام دھمکیاں بھی دی تھیں۔ جس میں اس نے کہا تھا کہ میں تمہیں مار دوں گا۔ اپنا بدلہ لوں گا۔
ادھر افغان میڈیا گروپ نے پروپیگنڈا شروع کر دیا اور واقعہ کی جعلی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگیں۔
ناخوشگوار واقعہ کے بعد شمالی وزیرستان میں لینڈ لائنز، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل کر دی گئیں جبکہ علاقہ میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں شرپسندوں کے تین ساتھی ہلاک، دس زخمی ہوگئے، علی وزیر کو آٹھ ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ محسن داوڑ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں گروپ نے شمالی وزیرستان کے علاقہ خار قمر میں چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ یہ لوگ ایک روز قبل پکڑے گئے دہشت گردوں کے سہولت کار کو چھڑانا چاہتے تھے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ چیک پوسٹ پر موجود جوانوں نے انتہائی تحمل اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ علی وزیر اور محسن داوڑ کے گروپ نے چیک پوسٹ پر براہ راست فائرنگ اور اشتعال انگیز تقاریر کیں۔ فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ان کے تین ساتھی ہلاک جبکہ 10 زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو آرمی ہسپتال میں طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب افغان میڈیا کی جانب سے شمالی وزیرستان معاملے پر شرپسندی کرنے اور سوشل میڈیا پر جعلی تصاویر جاری کرنے پر معذرت کر لی گئی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے