عید کی آمد،بازارسج گئے،مہنگائی نے خواہشوں کو حسرتوں میں بدل دیا

ویب ڈیسک : 27مئی 2019
لاہور: عید الفطر کی آمد آمد ہے، بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھ گیا اور خواتین نے افطاری کے بعد بازاروں میں ڈیرے ڈالنا شروع کر دیے ہیں لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آسمان کو چھوتی قیمتوں نے خواہشوں کو حسرتوں میں بدل دیا ہے۔
جوں جوں عید قریب آ رہی ہے توں توں خواتین کو خریداری کی فکر لاحق ہوتی جا رہی ہے۔ شام ڈھلتے ہی سکھیوں کی ٹولیاں اور خاندانوں کے قافلے بازاروں کی جانب سفر شروع کر دیتے ہیں۔
عید کی خریداری کا سب سے زیادہ اہم حصہ ملبوسات ہیں۔ عید شاپنگ کے پیش نظر بازاروں میں بے شمار اسٹال سجا دیے گئے ہیں۔ خواتین جوق در جوق ان اسٹالز کا رخ کر رہی ہیں۔ کہیں رنگ پسند نہیں آیا تو کہیں قیمت پر بات نہ بنی، بس پھرایک دکان سے دوسری تک کا سفر شروع ہوتا ہے اور چلتا ہی رہتا ہے۔ جوڑا پسند آ جائے تو میچنگ دوپٹے کا کام باقی رہ جاتا ہے۔ ان دنوں میں دوپٹہ رنگائی کا کام بھی خوب چلتا ہے۔ خواتین اپنی پسند کے رنگوں کا انتخاب کرتی ہیں اور بازار میں رنگوں کی دلکش کہکشائیں بکھر جاتی ہے۔
زیوروں کے بغیر تو تیاری مکمل ہی نہیں ہوتی، جگہ جگہ دلکش جیولری کے اسٹال لگائے گئے ہیں، خواتین کا کہنا ہے کہ ایسی جیولری کی تلاش ہے جو لباس سے مطابقت رکھتی ہو۔ کوشش ہے کہ ثقافتی گہنے خریدے جائیں، فینسی جیولری بھی خریداروں کی نگاہوں کا مرکز بنی نظر آتی ہے۔
عید کے دن خوبصوت جوتے پہننا سبھی کا من پسند شوق ہے، یہی وجہ ہے کہ جوتوں کی دکانوں پر بھی رش قابل دید ہوتا ہے۔ روایتی طرز کے جوتے لڑکیوں کی اولین پسند بن گئے ہیں۔ روایتی چپل تو عید کے جوڑے کے ساتھ خوب جچتی ہے۔
رہی سلائی کی بات تو آج کل کس کے پاس وقت ہے کہ سلائی کا کام کریں اور ساتھ ہی درزیوں کے نخرے بھی برداشت کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بنے بنائے ملبوسات کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے ۔۔ من پسند ڈیزائن بھی مل جاتے ہیں اور ساتھ ہی ریڈی میڈ ملبوسات بیچنے والوں کی بھی خوب چاندی ہو گئی ہے۔
بچے عید کی شاپنگ کے لیے سب سے زیادہ پرجوش ہیں، چھوٹے چھوٹے قدم ہیں کہ باہر نکلیں تو بازار سے پہلے رکتے ہی نہیں، اٹھکیلیاں بھی کرتے ہیں اور خوبصورت رنگوں کو بھی اپنی نظروں کا مرکز بنائے رکھتے ہیں۔ کہے بنا من پسند اشیاء ملنے تک عید کی شاپنگ کرتے رہیں گے۔
ننھے خریدار جیسے ہی مارکیٹ میں قدم رکھتے ہیں، فرمائشوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور والدین اپنی جان کے تکڑوں کی مرضی کے سامنے مجبور ہو جاتے ہیں۔ نئے کپڑے، میچنگ جوتے اور عید کے لیے کھلونے نہ لئے جائیں تو مزہ مکمل نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ بچے شاپنگ کے اس دنگل میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
مرد حضرات اپنی خواتین کے ساتھ خریداری کا فریضہ سرانجام دینے میں مگن ہیں، کہتے ہیں کہ عید کی شاپنگ بیوی بچوں کے ساتھ باہر جانے کا بہانہ فراہم کرتی ہے جبکہ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سہیلیوں اور فیملی کے ساتھ شاپنگ میں مصروف ہیں اور یہ سلسلہ چاند رات تک جاری رہے گا۔
اس تمام تر رونق کے ساتھ ساتھ شہریوں کا بڑا شکوہ یہ ہے کہ اشیاء کی قیمتیں چاند سے باتیں کر رہی ہیں جس کے باعث من پسند اشیاء خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اپنے پیاروں کی فرمائشیں اور دل کے ارمان پورے کرنے کے لئے قوت خرید کے مطابق خریداری کر رہے ہیں۔
مہندی کی خریداری بھی اس میلے کا دلکش حصہ ہے، لوڈشیڈنگ سے بچنے کے لئے اسٹال ہولڈرز نے یو پی ایس اور جنریٹرز نصب کر لئے ہیں جبکہ پولیس نے بازاروں میں سکیورٹی کا انتظام مکمل کر لیا ہے۔


ملک بھر کی مارکیٹوں میں گہما گہمی عروج پر پہنچ چکی ہے اورجہاں خواتین عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں وہیں مرد بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں وہ بھی مارکیٹوں سے دیدہ زیب اور نفیس کرتوں اور قمیص شلوار کی خریداری کے لیے بازار پہنچ رہے ہیں۔
مرد زیادہ تر سادہ نفیس اور کاٹن کا سوٹ ہی پسند کرتے ہیں مگر اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ ڈیزائن اور رنگ ایسا ہو جو دل کو بھا جائے۔ مارکیٹوں میں خواتین اور مردوں کے ساتھ بچے بھی آرہے ہیں تاکہ وہ اپنی پسند کے مطابق خریداری کریں اور عید پر اچھے سے اچھا لباس زیب تن کر سکیں۔
خریداری کرنے والوں کا رجحان گزشتہ سال کی نسبت امسال کرتے پاجاموں کی طرف ہے، عارف دکاندار کا کہنا تھا کہ ہر سال شلوار قمیص کی فروخت میں کمی ہورہی ہے البتہ کرتا پاجامہ کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے اور اب نوجوان پاجاموں کی مختلف اقسام طلب کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ’’نوجوانوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے پاجاموں کے مختلف ڈیزائن بنائے گئے، جن میں حیدرآبادی پاجامہ، الہٰ بادی پاجامہ، کھڑا پاجامہ، چوڑی دار پاجامہ وغیرہ ہیں’’۔
مارکیٹ میں عام سادہ کرتا پاجامے کی قیمت 1200 سے شروع ہوکر چار ہزار روپے تک رکھی گئی جبکہ گاہک کی خواہش کے مطابق قیمت میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ خریداروں کا کہنا تھا کہ ’ہر سال قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے وہ اپنے پسند کے کپڑے خرید نہیں پاتے البتہ اگر ایک بھی خریدیں تو کوشش ہوتی ہے کہ وہ دیدہ زیب ہو‘۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے