شمالی وزیرستان واقعے پر قومی اسمبلی میں گرما گرمی، اپوزیشن کا واک آؤٹ

چیئرمین نیب کےمعاملے پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے: خواجہ آصف‌

ویب ڈیسک : پیر 27مئی 2019

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران شمالی وزیرستان واقعے پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان شدید گرما گرمی ہوئی جس کے بعد حزب اختلاف نے کارروائی کا واک آؤٹ کردیا۔
قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے ہر دور میں غلطیاں کیں، ہم نے مشرقی پاکستان میں غلطیاں کیں، ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبر پختونخوا سے کراچی اور گوادر تک ہمارے مسائل حل نہیں ہو رہے ۔ پچاس کی دہائی سے بلوچستان میں انتشار جاری ہے، بلوچستان میں ہر 4 ،5 دن بعد دہشت گردی ہو رہی ہے، سرحد پار ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو ہمارے دشمنوں کے آلہ کار ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ میں فاٹا سب سے زیادہ متاثر ہوا،ہماری ذمہ داری ہے فاٹا کو قومی دھارے میں لائیں، اب آئینی اور قانونی طور پر فاٹا کا تشخص بدل چکا ہے، فاٹا انضمام سرتاج عزیز کی کمیٹی کی رپورٹ پر ہوا ، چند روز قبل ایک متفقہ آئینی ترمیم کو منظور کیا گیا جو نجی بل تھا، افسوس کچھ عناصر اب سینیٹ سے اس بل کی متفقہ منظوری نہیں چاہتے۔


خواجہ آصف نے کہا کہ کل جو واقعہ ہوا ہے اس کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا کیونکہ وہ افسوسناک ہیں، کل کے واقعے پر 2 ارکان قومی اسمبلی کے نام سامنے آرہے ہیں، کہا جارہا ہے کہ کل کے واقعے پر ایک ایم این اے گرفتار اور دوسرا فرار ہے۔ بلوچستان اور فاٹا کے معاملات سیاسی طور پر حل کیے جائیں، وزیراعظم کا اس سلسلے میں بیان اب ناگزیرہے۔
ن لیگی رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کو بلیک میل کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے، اس معاملے پر پارلیمنٹری کمیٹی تشکیل دی جائے۔ وطن عزیز بحرانوں سے گزر رہا ہے، آئی ایم ایف کے بندے ہماری معشیت پر آکر بیٹھ گئے، اس سے برا وقت ہماری معشیت پر کبھی نہیں آیا۔ اب پی ٹی آئی نے لیز پر مشیر خزانہ لے لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں بہت سے لوگ عمران خان کی جگہ لینے کیلئے بیٹھے ہوئے ہیں۔قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ کل جو واقعہ پیش آیا اس پر اور نیب کے حوالے سے بات ہونی چاہیئے، انہوں نے کہا کہ حکومت غیر اداری طور پر ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے معاشی بحران بڑھ رہا ہے، جو معاشی ٹیم معیشت کو چلا رہی ہے ان کا پارلیمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ گزشتہ وزیر خزانہ بڑے تکبر سے بات کیا کرتےتھے، اب انہیں قائمہ کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا ہے۔ حکومت مشیر خزانہ بھی لائی جو ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں کا حصہ رہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری حکومت میں نیب ترامیم نہیں کی گئی جس کا افسوس ہے، نیب قانون جس نیت سے بنایا گیا ہم نے اسے بھگتا ہے،8 ماہ پہلے حکومت اور اپوزیشن کےدرمیان نیب ترامیم سے متعلق رابطہ ہوا جس کے دوران اس وقت حکومت کی طرف سے کم اور اپوزیشن کی طرف سے زیادہ تجاویز پیش کی گئیں تاہم عملدرآمد نہ ہو سکا۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ چئیرمین نیب کو بلیک میل کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے، معاملے پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ حکومتی جماعت پر جملہ باندھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں بہت سے لوگ عمران خان کی جگہ لینے کیلئے بیٹھے ہوئے ہیں سپیکر اسد قیصر کو اس کا علم ہے،جس پر سپیکر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جی نہیں، مجھے کوئی علم نہیں۔

رہنما مسلم لیگ (ن) کی تقریر پر وفاقی وزیر مراد سعید نے جواب میں کہا کہ سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم بے گھر ہوئے، ان سب کا احتساب کرنا ہوگا جنہوں نے فاٹا کو ترقی نہ دی۔ ہم بھارتی جہاز گرا رہے تھے اور یہاں ایک پارٹی کا لیڈر بھارتی موقف بیان کررہا تھا، ہم دشمن کے طیارے گراتے ہیں یہاں کسی اور کے بیانیے کی بات ہوتی ہے، نقیب اللہ محسود کا قاتل راؤ انوار آج کہاں ہے، بلاول بھٹو زرداری کو بتانا چاہتا ہوں کہ راوٴ انوار تمہارے باپ کا بہادر بچہ ہے جب کہ نقیب اللہ کی شہادت کے بعد ہی پی ٹی ایم بنی تھی۔

مراد سعید نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں جو واقعہ ہوا اس کی فوٹیجز موجود ہیں، محمود اچکزئی اور محسن داوڑ تو سرحد پر خاردار تاریں لگانے کے خلاف تھے ، یہ لوگ نہیں چاہتے تھے ہماری سرحدیں محفوظ ہوں، افغانستان سے ’را‘ اور ’این ڈی ایس‘ کا گٹھ جوڑ یہاں دہشت گردی کرتا ہے، محسن داوڑ جواب دیں کہ ان کا افغان خفیہ تنظیم این ڈی ایس سے کیا تعلق ہے ورنہ ان کو بے نقاب کردوں گا۔ اب پاک فوج کو گالیاں دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابا شروع کردیا اور نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آوٴٹ کردیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے