صادق آباد:سیوریج کے کھال نے ایک اور کاشتکار کو نگل لیا

تاج چوک پر بلدیہ صادق آباد کا سیوریج کھال اہل علاقہ کے لیے خطرہ بن گیا

عبدالغفور شاکر
قافلہ نیوز ڈاٹ کام،صادق آباد

صادق آباد : تاج چوک کے قریب بلدیہ کی طرف سے چھوڑا گیا سیوریج کا پانی فصلوں کی تباہی کے بعد انسانی جانیں بھی نگلنے لگا۔ گندے پانی نے بستی جھک کے 18 سالہ نوجوان کی جان لے لی ۔بتایا جاتا ہے کہ مقامی کاشتکار رحیم بخش بھنگر مغرب کے بعد فصلوں کو پانی لگا کر نکلا تو گندے پانی کی تیز بدبو کے باعث چکرا کر سیوریج کھال میں جاگرا جہاں دم گھٹنے سے نوجوان موقعہ پر ہی جاں بحق ہوگیا۔سڑک پر سے گزرنے والے افراد نے نوجوان کو گندے پانی میں ڈوبا دیکھ کر اس کے ورثا کو اطلاع دی۔
اہل علاقہ کے مطابق تاج چوک سیوریج کھال میں گر کر کچھ عرصہ قبل بھی اسی علاقے کا ایک 25 سالہ نوجوان نذیر بھنگرموت کے منہ میں جاچکا ہے لیکن انتظامیہ نے آج تک کوئی نوٹس نہیں لیا۔
واضح رہے کہ صادق آباد شہر کے سیوریج کے پانی کو تاج چوک کے مقام پر ٹیوب ویل کے ذریعے کھال میں ڈالا جارہا ہے۔یہ کھال اوپن ہے جس کی وجہ سے اوورفلو ہونے پر گندا پانی قریبی فصلوں میں اور گھروں کے سامنے جوہڑ کی شکل اختیار کیے ہوۓ ہے۔دیگی مائنر نہر بھی گندے پانی سے بھر چکی ہے۔تاج چوک سے بستی جھک تک کئی جگہ پر سیوریج کھال ٹوٹنے سے بڑے بڑے جوہڑ بنے ہوۓ ہیں جو خطرناک دلدل کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔یہ دلدلی جوہڑ اہل علاقہ کے لیے خطرہ بنے ہوۓ ہیں جبکہ سیوریج کے کھال کی وجہ سے ہر وقت علاقے میں بدبو پھیلی رہتی ہے جس نے مکینوں کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔بستی جھک اور سیوریج لائن سے ملحقہ آبادی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ متعدد مرتبہ اسسٹنٹ کمشنر اور بلدیہ حکام کو سیوریج کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کرچکے ہیں لیکن اس مسئلہ کے حل کےلیے آج تک کسی نے توجہ نہیں دی۔ہمارا مطالبہ ہے کہ سیوریج کے کھال میں پائپ لائن بچھا کر اس کو زیر زمین گزارا جاۓ تاکہ عوام صاف ماحول میں سکھ کا سانس لے سکیں۔ادھر نوجوان کی المناک موت پر پوری بستی میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور لوگ انتظامیہ کی عدم توجہی اور غفلت پر شدید غم و غصہ میں ہیں۔نوجوان کی ہلاکت کی میڈیا پر خبر آنے کے باوجود اسسٹنٹ کمشنر،ٹی ایم او یا کسی اور سرکاری اہلکار نے تاحال علاقے کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی متاثرہ خاندان سے کوئی رابطہ کیا ہے۔

سیوریج کھال میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے نوجوان کے والد فداحسین بھنگر نے روتے ہوئے بتایا کہ قاتل کھال نے ان سے زندگی کا سہارا چھین لیا ہے۔علاقے کی سماجی شخصیت نجم الدین نے کہا کہ ایساالمناک واقعہ اگر لاہوریا بڑے شہر میں رونما ہوتا تو اب تک وزیرعلیٰ سمیت اعلی حکومتی شخصیات اس کا نوٹس لے چکی ہوتیں لیکن پسماندہ اور دوردراز علاقے کے غریبوں کی آواز حکومت تک کیسے پہنچ سکتی ہے۔یہاں تو مقامی انتظامیہ اور عوام کی خدمت کے نام پر ووٹ لینے والے سیاستدانوں نے بھی آنکھیں اورکان بند کررکھے ہیں۔غم سے نڈھال غریب ماں باپ کو کوئی پرسا تک دینے نہیں آیا۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے بلدیہ کی طرف سے سیوریج کا پانی فصلوں کو لگانے کے لئے باقاعدہ سالانہ ٹھیکہ وصول کیا جاتا ہے-یہاں یہ امرتوجہ طلب ہے کہ پنجاب میں ایک طرف پنجاب فوڈ اتھارٹی نے گندے پانی سے فصلیں اگانے پر پابندی لگا رکھی ہے اور جہاں کہیں گندے پانی سے سبزیاں وغیرہ کاشت کی گئی ہوں ان کو ٹریکٹر کی مدد سے تلف کردیا جاتا ہے لیکن پنجاب کی آخری تحصیل میں الٹی گنگا بہہ رہی ہےاور سرکاری سطح پر فصلوں کی کاشت کے لئےسیوریج کا پانی فروخت کیاجارہا ہے-نہری پانی کی قلت کے باعث کسان مجبورا گندے پانی سے فصلیں کاشت کررہے ہیں-

نوجوان کی المناک موت اور کتے کی وفاداری

بتایا جاتا ہے کہ جس وقت نوجوان بدبو سے غش کھا کر سیوریج کے کھال میں گرا تو اس کے ساتھ موجود پالتو کتااپنے مالک کو بچانے کے لیے زور زور سے بھوکتا رہا-اسی دوران قریب سے گزرنے والے مقامی رہائشی نے کتے کو یوں بے بتیاب ہوکر بھونکتے دیکھا تو اس نے فورا کاشتکار کے گھر جاکر کتے کے بھونکنے کی اطلاع دی جس پر لوگ جائے وقوعہ پر پہنچے تو کتے نے منہ سے کھال کی طرف اشارہ کیا-جس کے بعد لوگوں نے کھال میں اتر کردیکھا تودلدلی جوہڑ میں نوجوان دھنسا ہوا تھا جس کو باہر نکالا گیا تو وہ دم توڑ چکا تھا-اپنے مالک کی اچانک موت پر کتا چینختاچلاتا رہا-

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے