جان لیوا ’ایڈز‘ بھرچونڈی شریف، ڈہرکی تک پہنچ گیا

ویب ڈیسک : منگل 28مئی 2019
گھوٹکی۔ لاڑکانہ کے بعد گھوٹکی میں بھی جان لیوا موذی مرض ’ایڈز‘ نے پنجے گاڑنا شروع کردیے ہیں جس کی وجہ سے ڈہرکی اور بھرچونڈی شریف میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ڈہرکی کے نواحی علاقے بھرچونڈی شریف میں ایڈز کے مریض کا انکشاف اس وقت ہوا جب چند دن قبل غریب محنت کش ’الف‘ کی ایک سالہ معصوم شیرخوار بیٹی نے زندگی کی بازی ہاری۔ اس کے ایڈز میں مبتلا ہونے کا علم ہوا۔۔۔۔ لیکن اسی پر بس نہیں ہو گیا جب اس کی اہلیہ ’ک‘ کو شدید علالت کے باعث سول ہسپتال سکھر منتقل کیا گیا تو وہاں کے ڈاکٹروں نے اس پر یہ کہہ کر ایک نئی ’قیامت‘ ڈھا دی کہ اس کے جیون ساتھی کو بھی جان لیوا مرض ’ایڈز‘ لاحق ہو گیا ہے۔ سول ہسپتال سکھر کے ڈاکٹروں نے یہ تشخیص غلام محمد میڈیکل کالج لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کے بعد کی لیکن حیرت انگیز طور پر اس کو ہسپتال میں داخل کر کے علاج کرنے اور یا پھر کسی متعلقہ سینٹر میں بھیجنے کے بجائےگھر واپس بھیج دیا-
بھرچونڈی شریف، ڈہرکی کے رہائشی غریب محنت کش کو قوی امید ہے کہ اس کی جیون ساتھی بہتر علاج معالجے سے دوبارہ صحتمند زندگی گزار سکتی ہے۔
پاکستان نےسندھ میں ایڈز کے وبائی صورت اختیار کرنے پر عالمی ادارہ صحت سے تعاون کی درخواست کی تھی جو اس نے قبول کرلی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم آج بروز 28 مئی کراچی پہنچے گی جہاں سے وہ رتوڈیرو لاڑکانہ سمیت ان متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی جہاں ایڈز بطور خاص بہت تیزی کے ساتھ پھیلا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے گزشتہ دنوں بتایا تھا کہ پاکستان میں ایک لاکھ 63 ہزار افراد کے ایڈز میں مبتلا ہونے کے خدشات ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ میں قائم حکومت کی ایڈز کو کنٹرول کرنے کی ’سنجیدہ کوششں‘ اور ’بھاگ دوڑ‘ کا ’بھانڈا‘ اس وقت پھوٹ گیا تھا جب ایک ہفتہ قبل وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایڈز سے متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا تھا۔ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت اعلیٰ سطحی اجلاس میں موجود تمام اہم شخصیا ت اس وقت ’ششدر‘ رہ گئے تھے جب انہیں سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر میمن نے بتایا تھا کہ رتو ڈیرو (شہید بے نظیر بھٹو کا حلقہ انتخاب) اور گرد و نواح میں اسکریننگ کرنے کے لیے درکار چھ کروڑ روپے میں سے ’سندھ سرکار‘ نے تین کروڑ 40 لاکھ روپے دینے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر وہ بھی نہیں ملے ہیں۔
ڈاکٹر سکندر میمن نے شرکائے اجلاس کو یہ بتا کر بھی ’ورطہ حیرت‘ میں ڈال دیا تھا کہ حکومت سندھ کی جانب سے یقین دہانی کرانے کے بعد اس مد میں چیک بھی جاری کیا گیا مگر تاحال پیسے نہیں ملے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی کنٹری ہیڈ ڈاکٹر پلیتا نے بھی شرکائے اجلاس کے ’علم‘ میں یہ کہہ کر اضافہ کیا تھا کہ حکومت سندھ جنیوا کنونشن کے مطابق عمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔
ڈاکٹر پلیتا کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے ادارے سرنج کے بار بار استعمال کی روک تھام میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
وزارت قومی صحت کا کہنا ہے کہ سندھ میں ایڈز کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ استعمال شدہ سرنجز کا بار بار استعمال اور بیرون ممالک سے ایڈز کے متاثرہ لوگ ہیں جو اپنے اہل خاندان کو ایڈز کا شکار بنا رہے ہیں، سندھ واحد صوبہ ہے جہاں آٹو ڈس ایبل سرنجز کے استعمال کا قانون پاس کیا گیاہے لیکن اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔وزارت قومی صحت کے حکام نے یہ بات سینیٹر عتیق شیخ کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں بتائی ۔
وفاقی سیکریٹری صحت زاہد سعید نے بتایا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ سرنجز کے بار بار استعمال کی وجہ سےسندھ میں ایچ آئی وی پھیلاہے۔
سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ میں ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ،یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان بچوں کےوالدین ایڈز سے متاثرہ نہیں ہیں۔انسداد ایڈز پروگرام کے ایڈوائرز نے کمیٹی کو بتایا کہ ایڈز سے متعلق تحقیقات کے لیےعالمی ادارہ صحت کے ماہرین کی ٹیم ایک ہفتہ پاکستان میں قیام کریگی-

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے