صادق آباد میں دن دیہاڑے ڈاکہ،پولیس ڈاکو پکڑنے میں ناکام

صادق آباد کی کرائم ڈائری

رپورٹ : حمزہ منیر


صادق آباد میں دن دیہاڑے ہونے والی ڈکیتی کے ملزم تاحال گرفتار نہ ہوسکے۔ڈکیتی کی دلیرانہ واردات 20مئی پیر کی صبح گرین ٹاؤن چک 166پی میں ہوئی۔ وقوعہ کے مطابق مقامی شہری عابد سہیل کے بچے معمول کے مطابق سکول جا چکے تھے وہ خود ایک فلاحی ہسپتال کے تعمیراتی کام کے جائزہ کے لیے عام معمولات کے مطابق گھر سے تقریباً 7:45 صبح روانہ ہوئے۔عابد سہیل کو گھر سے نکلے ابھی آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا تقریباً 8:15 صبح چار افراد ان کے گھر میں زبردستی گھس آۓ۔3ڈاکو اسلحہ سے لیس تھے۔اس وقت گھر میں صرف خواتین اور نوکرانی تھیں۔ لٹیروں نے دن دیہاڑے گن پوائنٹ پر ان خواتین کو ایک کمرے میں بند کردیا اور ایک ڈاکو ان کے سر پر پستول تان کر کھڑا ہوگیاجبکہ دوسرا ڈاکو گھر کے چاروں اندرونی اطراف موجود گیلری میں چکر لگانے لگا۔باقی دو ڈاکوؤں نے پورے گھر کی مکمل تلاشی لی نقدی، زیورات تقریباً
سونا 12تولہ مالیت840،000 روپے،نقدی 580،000روپے لوٹ لی۔ڈاکوؤں نے اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ خواتین سے موبائل فونز بھی چھین لیے۔ڈاکو ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک بلا خوف و خطر گھر میں لوٹ مار میں مصروف رہے اس دوران ایک آدمی سلیٹی رنگ کی کار میں گھر کے باہر ڈاکوؤں کا انتظار کرتا رہا۔مسلح افراد اپنی مکمل تسلی کے بعد خواتین کو دھمکا کر ایک کمرے میں بند کر کے گاڑی میں فرار ہو گئے۔علاقہ کے متعدد افراد کے مطابق انہوں نے سلیٹی رنگ کی کار کو گھر کے باہر کھڑی دیکھا۔واردات کے تقریباً 45 منٹ بعد عابد سہیل کا بیٹا معاذ یونیورسٹی سے لوٹا تو گھر میں خوف ہراس پھیلا ہوا تھا۔ڈر سے سہمی خواتین نے اسے پورا ماجرہ سنایا جس پر اس نے اپنے والد کو صورت حال سے آگاہ کیا جو فورا گھرپہنچ گئے۔پولیس کو واردات کی اطلاع دی گئی جس نے موقع پر پہنچ کر ابتدائی تفتیش کے بعد گھر والوں کو ان کمروں میں جانے روک دیا جہاں ڈاکو گئے تھے ۔ اے ایس پی ڈاکٹر حفیظ الرحمن بگٹی نے بھی جاۓ واردات کا خود آکرمعائنہ کیا۔اس موقع پر ضلع رحیم یار خان سے کرائم سین یونٹ اور بہاولپور سے فرانزک ٹیسٹ ٹیم کو فنگر پرنٹ سکین کے لیے بھی بلا لیا گیا۔تمام ٹیمیں اپنی اپنی required معلومات لیکر چلیں گئیں، موبائل نیٹ ورک scanning بھی کی گئی۔ سب افسر جلد ڈاکوؤں کا سراغ لگانے کی امید دے کر چلے گئے۔رات 11 بجے وقوعہ کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی اور واردات کی تفتیش سب انسپکٹر اسلم کے ذمے لگا دی گئی۔ فنگر پرنٹس بھی سکین ہوگئے اور موبائل tracing سے بھی مطلوبہ لوکیشن گائیڈ مل گئی جو احمدپورلمہ سے جا ملی۔ لیکن آج اس واقعہ کو ایک ہفتہ سے زائد دن گزر چکے ہیں۔ثبوت ملنے کے باوجود پولیس کی طرف سے روایتی سستی کا مظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے۔جس کی وجہ سے ڈاکوؤں کو ڈھیل مل گئی ہے۔پولیس کا مدعی کے ساتھ رویہ بھی اب پہلے دن جیسا نہیں رہا۔ڈاکوؤں کے منحوس پاؤں پڑنے سے عابد سہیل کے گھر میں ابھی تک خوف کے سایے چھاۓ ہوۓ ہیں۔ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود پولیس کی طرف سے سواۓ طفل تسلیوں کے ابھی تک کوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا۔مدعی نے پنجاب کے قانون و انصاف پسند آئی جی پولیس عارف نواز اور ڈی پی او رحیم یارخان عمر سلامت سے انصاف دلانے اور ڈکیتی جلد ریکور کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ صادق آباد کے نوجوان پولیس افسر حفیظ الرحمن بگٹی ڈاکوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔یہ ان کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بھی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے