صادق آباد سے ممنوعہ ادویات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی،بااثر اتائی فرار

ویب ڈیسک | بدھ 29مئی 2019

صادق آباد: کوٹ سبزل کے قریب سندھ پنجاب سرحد پر کار سے بڑی مقدار میں جان لیوا اسٹیرائیڈز،جعلی اور ممنوعہ ادویات کی بڑی کھیپ پکڑی گئیں۔اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات صادق آباد کا بدنام زمانہ انتہائی بااثر اتائی حکیم شاہدسندھ سے بڑی مقدار میں ممنوعہ ادویات اور اسٹیرائیڈزکار میں چھپا کر صادق آباد لا رہا تھا۔مخبری پرمحکمہ ہیلتھ اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتےہوئے سندھ سے آنے والی حکیم شاہد کی کار نمبری بی جے کے 838کو کوٹ سبزل کے مقام پر چیک پوسٹ پر روک کر تلاشی لی تو گاڑی سے اسٹیرائیڈز اور جعلی و ممنوعہ اقسام کی ادویات برآمدہوئیں۔پولیس نے کار اورممنوعہ ادویات کو قبضے میں لے کر 4افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ بااثر حکیم کو پولیس قابو کرنے میں ناکام رہی اور وہ موقع سے فرار ہوگیا۔

معلوم ہوا ہے کہ صادق آباد میں اتائیوں کا ایک بڑا نیٹ ورک قائم ہے۔یہ اتائی اسٹیرائیڈز،نشہ آور،درد کش اور ممنوعہ جنسی ادویات کو مکس کرکے گولیاں تیار کرتے ہیں اوردوردراز علاقوں میں ڈیرے ڈال کر ”مسیحائی“ کے نام پر انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔صادق آباد کے اس ارب پتی اتائی مافیا کو بااثر شخصیات اور محکمہ ہیلتھ میں چھپی بعض کالی بھیڑوں کی بھی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ سال بہاولپور میں صادق آباد کے اتائیوں کی جعلی اور ممنوعہ ادویات کا ایک بڑا گودام پکڑا گیا تھا جس پر اس نیٹ ورک کو چلانے والے دو انتہائی بااثر اتائی پولیس نےگرفتار کرلیےتھے جو بعد ازاں اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے رہا ہوگئے تھے۔
ادھر ڈرگ انسپکٹر طاہر خان کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے حکیموں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی ۔تھانہ کوٹ سبزل پولیس نے ڈرگ انسپکٹر کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق اتائی حکیم شاہد کو مقامی سیاسی شخصیات کی مکمل آشیرباد اور سرپرستی حاصل ہے۔جبکہ علاج کے نام پر انسانی جانوں سے کھیلنے کےلیے ڈرگ انسپکٹر کو بھی بھاری ”نذرانہ“دیا جاتا ہے۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق آج کی کارروائی میں بھی ملزم حکیم شاہد کا موقع سے فرار ہوجانا اسی ”نذرانہ“ کے عوض ”ڈھیل“ کا نتیجہ ہے۔ادھر صادق آباد کے شہریوں نے جعلی حکیموں اور اتائیوں کے اس نیٹ ورک کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں ایڈز کی وباء پھیلانے میں بھی انہی اتائیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔علاج معالجہ کے نام پر سادہ لوح عوام کی صحت اور زندگیاں برباد کرنے والے بااثر اتائیوں کا قانون کی گرفت میں نہ آنا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے