کارزار صحافت کا ایک اور سپہ سالار دنیا سے رخصت ہوا

کتبہ|محمد شجاع الدین

کتبہ

محمد شجاع الدین

کارزار صحافت کا ایک اور سپہ سالار دنیا سے پردہ کر گیا۔ادریس بختیار صاحب کی سوانح نہیں بتاؤں گا کہ کتاب کبھی پرانی نہیں ہوتی اسے جتنی بار پڑھا جائے ہر مرتبہ نئے معنی اور مفہوم کے ساتھ اپنا آپ منوا لیتی ہے ۔۔ بس دنیائے صحافت کی ان چند شخصیات میں سے ایک ادریس بختیار صاحب انتہائی شریف النفس دیندار نیکوکار اور عامل با عمل صحافی تھے جو اب ہم میں نہیں رہے ۔۔ ادریس بختیار سے دوستانہ تکلف کا دعوی تو نہیں کر سکتا البتہ نیاز مندی کا طلبگار ضرور رہا اور انہوں نے کمال مہربانی سے ہر گام پر شفقت فرمائی ۔
جیو نیوز کراچی کے دنوں میں لاہور سے ایک نئے روزنامے کی اشاعت ہوئی تو آفر میرے پاس بھی آ گئی ۔۔ استادوں کے استاد جناب مغیث الدین ،عطاالرحمان،جناب ادریس بختیار صاحب بھی ملاقات میں موجود تھے ۔ بھاؤ تاؤ ہونے لگا تو اخبار کے مدیر اعلی نے ترپ کا پتہ پھینکتے ہوئے مجھ سے کہا،آپ گھر اور گھر والوں سے دور سونے کے پنجرے میں قید تنہائی کا شکار ہیں جہاں کھانے پینے تک کی محتاجی ہے،اچھا نہیں ہو گا کہ آپ اپنے شہر میں واپس ٹھکانہ کر لیں ؟ میں نے عرض گزاری کراچی کے ہوٹل میں رہتے آپ کو کتنے دن ہو گئے ؟ پینے کو منرل واٹر ہی ملتا ہو گا ؟ مدیر اعلی صاحب نے اقرار میں سر ہلایا تو میں نے کہا میرے فلیٹ میں چلئے،آپ کو لاہور کا پانی پلاتا ہوں کیونکہ میری بیگم صاحبہ ہر ماہ کی ملاقات میں راشن کیساتھ پانی سے بھرا کولر بھی اپنے ساتھ کراچی لاتی ہیں ۔ اس لئے آپ کی عنائت کا شکریہ۔ادریس بختیار صاحب نے سنا تو بولے آپ کیلئے جیو میں رہنا زیادہ مناسب ہے۔اللہ تعالی آپ کو سرخرو کرے۔ادریس بختیار صاحب کی اس وقت کی حوصلہ افزائی میرے کام آ گئی ۔
ادریس بختیار صاحب کی خوبی یہ رہی کہ صحافت کے سفر پر پا پیادہ نکلے اور آخر دم تک پیدل سوار ہی رہے ۔۔ مانگے تانگے کی گاڑی پکڑی نہ رشوت کے اڑن کھٹولے پر سوار ہونے کو عزت افزائی جانا۔یہی وجہ ہے کہ کوئی لمبا چوڑا بینک بیلنس چھوڑا نہ عالیشان بنگلہ۔ہاں مجھ ناچیز جیسے سینکڑوں کے دلوں میں گھر بنا گئے۔علم و ادب کے راج سنگھاسن پر کچھ اس طرح جلوہ افروز ہوئے کہ کیا انگریزی کیا اردو، صحافت کے دونوں پیرائے انہیں اپنا گرو مانتے۔وہ عمر بھر علم بینوں کیلئے ایک شجر سایہ دار رہے ۔۔
بر حق ہے کہ برگد کی چھاؤں میں پھول بوٹے تو کیا گھاس تک نہیں ٹھہرتی لیکن جناب ایسے گھنے درخت تھے جس کے نیچے جہالت کا اندھیرا نہیں تھا۔۔خرد و آگہی کی روشنی تھی ۔ آپ کے علم و ہنر کے فن نے اہل صحافت کی تین نسلوں کی آبیاری کی ۔ ان کے شاگرد بامراد انگریزی اور اردو صحافت میں نابغہ روزگار ہیں ۔۔ قسمت دیکھئے کہ ان کا ہر شاگرد اپنے کام کا دھنی نکلا اور پیشہ صحافت کے اوج ثریا تک جا پہنچا ۔۔۔آج عالی عہدوں پر براجمان بڑے بڑے ناموں کے پیچھے جناب ادریس بختیار صاحب کی پیشہ ورانہ شفقت کی جھلک نمایاں ہے۔نصیبا دیکھئے کہ تنگی داماں اور معاشی تنگدستی کے وقت کوئی ان کے کام نہ آیا افسوس صد افسوس ۔
زندگی بھر دوسروں کا بوجھ اٹھانے والے نے رخت سفر باندھا تو اپنے دکھوں کی گٹھڑی خود اپنے سر پر رکھ لی۔اپنے پیاروں کو بھی تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا ۔ ہفتے کی افطار کراچی پریس کلب میں تھی وہیں طبیعت ناساز ہوئی اور ٹھیک چار روز بعد منگل کے روز خالق حقیقی سے جا ملے۔
میرا دوست میرا بھائی ارسلان بہادر اور گبھرو نوجوان سہی مگر باپ کو کندھا دیتے وقت نجانے کہاں سے حوصلہ لائے گا۔۔ اسے لفظوں کا پرسہ بھی نہیں دے سکتا کہ خود باپ کی شفقت سے محروم ہو چکا ہوں ۔ جانتا ہوں لفظ رشتوں کے بچھڑنے پر بننے والے زخموں پر کسی طور پھاہا نہیں رکھتے۔۔بس رشتوں کی یادیں رہ جاتی ہیں جن کی پرورش کرتے رہنا ہی کمال فن ہے۔
ابھی پچھلے جمعہ اپنے ایک واقف حال سے بات کرتے ہوئے بھلے چنگے ادریس بختیار صاحب نے شعبہ صحافت کا مرثیہ پڑھا۔ کہنے لگے ملازمت سے فارغ ہوئے کئی ماہ ہو گئے ۔۔بیگم صاحبہ کیساتھ بیٹی سے ملنے اسلام آباد گیا تھا۔رمضان المبارک کا پہلا عشرہ وہیں گزارا۔۔ بہت خوشگوار موسم تھا ،بیگم صاحبہ کی طبیعت بھی اچھی رہی ۔ اس دوران دو ایک محفلوں میں جانا ہوا۔بڑے بڑے لوگوں سے علیک سلیک بھی ہوئی جس میں ملازمت پر ہونے نہ ہونے کا فرق محسوس ہوا۔کہاں تو لوگ مجھ سے ملنے آگے بڑھتے تھے کجا یہ کہ مجھے ایڑیاں اٹھانا پڑیں۔ کسی کیساتھ بھی بات مصافحے سے آگے نہ بڑھ پائی۔ایک وقت تھا لوگ میری چشم ابرو کے منتظر رہتے ۔اب یہ نوبت کہ کسی نے میری آنکھوں میں لکھے سوال پڑھنا بھی گوارہ نہ کئے ۔ تو ایسے میں کوئی سوال بنتا نہیں۔مناسب نہیں لگتا ، اللہ مالک ہے،بس بیگم صاحبہ کے ہفتہ وار ڈائیلیسز کی فکر ہے۔
سکے میں کھنک، نوٹ میں کڑک تو ہوتی ہے مگر سینے میں دھڑکتے دل کی دھک دھک نہیں ہوتی اور پھر کاروبار میں جذباتیت کا کیا کام ؟ اسی لئے سرمایادار دماغ کا سودا کرتے ہیں دلوں کا نہیں۔صحافت کے پیشے میں ملازمت خطی کے بعد سینے پر سجے تمام تمغے بھی اتار لئے جاتے ہیں ۔۔ بندہ بے شناخت ہو جاتا ہے ۔ تو ارسلان ۔ میرے دوست میرے بھائی القابات کے جھنجھٹ میں نہ پڑنا اور پیارے ادریس بختیار کی قبر کے کتبے پر صحافت کا ایک گمنام سپاہی لکھوا دینا ۔ رہے نام اللہ کا

محمد شجاع الدین
30 مئی 2019

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے